’دہشتگرد‘ہونے کے اعتراف کی غلطی،70 سالہ شخص کے امریکا میں داخلے پر پابندی

06 دسمبر 2018

ای میل

فوٹو: اوڈیٹی سینٹرل
فوٹو: اوڈیٹی سینٹرل

اسکاٹ لینڈ کے 70 سالہ شخص کی سردیوں کی چھٹیاں امریکا میں گزارنے کی خواہش اس وقت دم توڑ گئی جب آن لائن ویزا فارم میں غلطی سے خود کو 'دہشت گرد' ہونے کا اعتراف کرنے کی وجہ سے امریکا میں ان کے داخلے پر تاحیات پابندی عائد کردی گئی۔

جون اسٹیونسن اور ان کی اہلیہ ماریون نے رواں ماہ نیویارک روانہ ہونا تھا لیکن امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد ان کی ٹکٹس اور نیویارک میں رہائش کی ایڈوانس بکنگ منسوخ کردی گئی۔

70 سالہ شخص نے امریکی حکام کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ یہ محض ایک غلطی تھی، لیکن انہیں پھر بھی اجازت نہیں ملی اور اب وہ شاید کبھی امریکا نہ جاسکیں۔

جون اسٹیونسن نے دی انڈی پینڈنٹ کو بتایا کہ ’ہم آن لائن ویزا فارم بھر رہے تھے کہ وہ اچانک کریش ہوگیا تھا اور وہاں سے دوبارہ شروع ہوا جہاں ہم نے چھوڑا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ویزا فارم میں سوال تھا کہ 'کیا آپ دہشت گرد ہیں؟' اور مجھے نہیں پتہ چلا کہ وہ کیسے 'نہیں' سے 'جی ہاں' کے آپشن پر کلک ہوگیا۔

جون اسٹیونسن نےبتایا کہ انہیں اس غلطی کا اندازہ نہیں ہوا بلکہ انہیں اس وقت علم ہو ا جب انہوں نے امریکی بارڈر کنٹرول کو اپنے پاسپورٹ کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے فون کیا اور وہاں سے جواب دیا گیا کہ ’وہ (جون اسٹیونسن) دہشت گرد ہیں‘۔

مزید پڑھیں: وہ ممالک جہاں جانے کے لیے پاکستانیوں کو ویزے کی ضرورت نہیں

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں نے کہا کہ میں 70 برس کا ہوں اور مجھے نہیں معلوم ہوا کہ اس کا کیا مطلب تھا، امریکا جانا میری زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا‘۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ جون اسٹیونسن اور ان کی اہلیہ نیویارک کے سفر سے قبل ہی خرچ ہونے والے 2 ہزار یورو (2500 ڈالر) ضائع ہوجائیں گے۔

یونائیٹڈ ایئر لائنز نے بتایا کہ ٹکٹس کی رقم واپس نہیں لی جاسکتی اور نہ ہی رہائش کی ایڈوانس بکنگ کے پیسے واپس کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پہلی بار دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ کا اعزاز ایک مسلم ملک کے پاس

جون اسٹیونسن کا کہنا تھا کہ ’یہ خوفناک ہے، حیران کن اور بیوقوفانہ ہے، میں نہیں جانتا کہ فارم میں وہ سوال سب سے پہلےکیوں تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں زندگی میں کبھی اتنی مشکل کا شکار نہیں ہوا، اس سے قبل میں ایک مرتبہ عدالت جیوری سروس کے لیے گیا تھا اور اب میرے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جارہا ہے‘۔