بچوں کے ریپ کے واقعات کو چھپانے کا الزام، سابق آرچ بشپ کی سزا معطل

07 دسمبر 2018

ای میل

سڈنی: آسٹریلیا کی عدالت نے بچوں سے ریپ کے واقعات کو چھپانے کے الزامات میں سزا پانے والے سابق آرچ بشپ کی سزا معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پراسیکیوٹرز درست طریقے سے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جج روئے ایلس نے سابق آرچ بشپ اور سینئر کیتھولک چرچ کے اعلیٰ ترین عہدیدار فلپ ولسن ایڈیلیڈ کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، جو انہوں نے مئی میں انہیں ملزم قرار دیئے جانے کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی۔

عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ 'اپیل منظور کرلی گئی ہے'، عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ 'سزا اور نچلی عدالت کا فیصلہ معطل کردیا گیا ہے'۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا: بچوں سے ریپ کے واقعات کو چھپانے پر کیتھولک آرج بشپ کو سزا

جج روئے ایلس نے مذکورہ فیصلہ نیو ساؤتھ والس کی نیوکاسل ڈسٹرکٹ کورٹ میں سنایا، جس میں 68 سالہ فلپ ولسن ایڈیلیڈ کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔ جیسا کہ انہیں بچوں کے ریپ کے واقعات میں پادریوں کے ملوث ہونے کو چھپانے پر ان کی بہن کے گھر میں ایک سال تک کے لیے نظر بند کرنے کی سزا سنائی گئی تھی۔

جج کا مزید کہنا تھا کہ پراسیکیوٹرز یہ بات ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ سابق آرچ بشپ کو الزامات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا، اور یہ کہ اگر ان کو بتایا بھی گیا تھا، تو وہ اس سے بہت حد تک قائل تھے لیکن اس پر رد عمل نہ دے سکے۔

ٹرائل کے دوران سابق آرچ بشپ نے کہا تھا کہ انہیں یاد نہیں کہ 1976 میں مذکورہ الزامات سامنے آئے تھے۔

اس حوالے سے مبینہ طور پر جنسی استحصال کا نشانہ بننے والے ایک شخص پیٹر کریگٹن نے عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں کو روتے ہوئے بتایا کہ میں نے اس معاملے پر فلپ ولسن ایڈیلیڈ سے بات کی تھی۔

بعد ازاں ایک جاری بیان میں ایڈیلیڈ آرچرڈیوسیسی کا کہنا تھا کہ وہ معاملے کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں جو بہت طویل اور درد ناک تھا جبکہ سب کو اس پر تشویش تھی۔

فادر فلپ مارشل نے ایک جاری بیان میں کہا کہ 'اب ہمیں اس معاملے کی وجہ سے سامنے آنے والے رد عمل کے لیے سوچنا ہوگا'، انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ جنسی استحصال کے متاثرین 'ہمارے ذہنوں اور ہماری دعاؤں میں ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: چلی: بچوں کے ساتھ ریپ میں ملوث 3 پادریوں کا استعفیٰ منظور

یاد رہے کہ فلپ ولسن ایڈیلیڈ پر الزام تھا کہ انہوں نے فادر جیمس فلیچر پر لگنے والے الزامات کو چھپانے کی کوشش کی، جب 2 متاثرین نے 1976 میں انہیں اس حوالے سے اطلاع دی تھی۔

وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ فلپ ولسن ایڈیلیڈ کا کہنا تھا کہ وہ جیمس فلیچر پر لگنے والے الزامات سے واقف نہیں تھے، خیال رہے کہ جیمس فلیچر کو 2004 میں عدالت نے بچوں کے ریپ کے الزام میں سزا سنائی تھی اور 2006 میں ہی قید کے دوران ان کی موت ہوگئی تھی۔


یہ رپورٹ 7 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی