پاکستان کرائے کی بندوق کے طور پر استعمال نہیں ہوگا، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2018

ای میل

وزیر اعظم نے امریکی اخبار کو انٹرویو دیا—فوٹو: پی ٹی آئی آفیشل
وزیر اعظم نے امریکی اخبار کو انٹرویو دیا—فوٹو: پی ٹی آئی آفیشل

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان، امریکا سے ایسے تعلقات نہیں چاہتا، جس میں پاکستان کو کرائے کی گن کی طرح استعمال کیا جائے، پاکستان نے امریکی جنگ لڑ کر بہت کچھ برداشت کیا ہے، اب ہم وہیں کریں گے جو ہمارے مفادات میں بہتر ہوگا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے پاک امریکا تعلقات، امریکی صدر کے خط پر دیے گئے جواب، افغان جنگ اور دیگر امور پر بات چیت کی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں امریکا کے ساتھ اس طرح کے تعلقات نہیں چاہتا، جہاں پاکستان کو ایک کرائے کی بندوق کے طور پر استعمال کیا جائے اور پیسے دے کر کسی اور کی جنگ لڑی جائے کیونکہ اس سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع اور قبائلی علاقوں کی تباہی ہوتی ہے بلکہ ہمارا وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا عمران خان کو خط، افغان طالبان کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کی درخواست

میزبان کی جانب سے پوچھا گیا کہ واشنگٹن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی موزوں صورت کیا ہوگی؟ جس پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’مثال کے طور پر چین کے ساتھ ہمارے تعلقات یک طرفہ نہیں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات ہیں، ہم امریکا سے بھی ایسے ہی تعلقات چاہتے ہیں‘۔

وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ برسوں سے آپ امریکا کے مخالف ہیں؟ جس پر جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’اگر آپ امریکا کی پالیسیز سے اتفاق نہیں کرتے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ امریکا کے مخالف ہیں، یہ بہت سامراجی نقطہ نظر ہے کہ تم میرے ساتھ ہو یا میرے مخالف‘۔

میزبان کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کہ کیا وہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ’گرم جوشی‘ کے خواہاں ہیں تو اس پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’سپرپاور کے ساتھ کون دوستی کرنا نہیں چاہتا‘۔

تاہم وزیر اعظم نے ڈرون حملوں کی مخالفت میں اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ اس پر تعجب ہے کہ کوئی ان حملوں کی حمایت کیوں کرے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’کون اپنے ملک میں ڈرون حملوں کی اجازت دے گا، جب اس حملے سے ایک دہشت گرد اور 10 دوست اور پڑوسی قتل ہوں؟ کیا کوئی ملک کا ایسا کیس ہے، جہاں اتحادی کی جانب سے ہی بمباری کی جائے؟ ظاہر سی بات ہے میں اس کی مخالفت کرتا ہوں اور یہی وجہ ہے مجھے مزید امریکی مخالف بنا دیتی ہے'۔

'امریکا کا پاکستان پر بھروسہ نہ کرنا ذلت آمیز تھا'

اپنے انٹرویو کے دوران وزیر اعظم نے اسامہ بن لادن کو قتل کرنے والے امریکی آپریشن کی بھی مذمت کی اور کہا کہ یہ بہت ’ذلت آمیز‘ تھا کہ دہشت گرد کو مارنے کے لیے امریکا نے پاکستان پر بھروسہ نہیں کیا'۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت ذلت آمیز تھا کہ ہم امریکی جنگ میں حصہ لے رہے تھے اور اپنے جوانوں اور شہریوں کی قربانیاں اور دہشت گردوں کے حملوں کو برداشت کررہے تھے لیکن اس کے باوجود ہمارے اتحادی نے اسامہ بن لادن کو قتل کرنے میں ہم پر بھروسہ نہیں کیا، امریکا کو پاکستان کو بتانا چاہیے تھا‘۔

وزیر اعظم سے جب پوچھا گیا کہ ایک وقت میں انہوں نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی مذمت کی تھی اور اسے ’کولڈ بلٹڈ قتل‘ قرار دیا تھا تو اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں پتہ کہ یہ بیان کہاں سے آیا تھا‘۔

وزیر اعظم نے امریکی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں، سیکیورٹی فورسز نے انہیں اس معاملے پر بریفنگ دی تھی اور بتایا تھا کہ انہوں نے واشنگٹن سے بار بار پوچھا کہ ان پناہ گاہوں کے بارے میں بتائیں، ہم ان کا پیچھا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 'ڈونلڈ ٹرمپ کو ماضی کے بارے میں کچھ علم نہیں'

تاہم وزیر اعظم نے افغان طالبان کی ملک میں موجودگی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا اور کہا کہ ’ہوسکتا ہے 2 سے 3 ہزار طالبان پناہ گزینوں کی آڑ میں افغان مہاجرین کے کیمپوں میں رہ رہے ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ 27 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں رہ رہے ہیں جو پناہ گزینوں کے کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔

انٹرویو کے دوران امریکی صدر کی ہرزہ سرائی پر دیے گئے جواب پر وزیر اعظم نے واضح کیا کہ یہ کوئی ’ٹوئٹر جنگ نہیں تھی بلکہ یہ ریکارڈ کی تصیح کے لیے تھا اور امریکی صدر کی حقائق سے آگاہی ضروری تھی'۔