ہواوے ایگزیکٹو گرفتار، چین اور امریکا کے تعلقات میں پھر کشیدگی

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2018

ای میل

ہواوے کی چیف فنانشل ایگزیکٹو     مینگ وانژو — فائل فوٹو
ہواوے کی چیف فنانشل ایگزیکٹو مینگ وانژو — فائل فوٹو

چین کی معروف ٹیلی کام کمپنی ہواوے کے بانی کی بیٹی اور ادارے کی چیف فنانشل ایگزیکٹو مینگ وانژو کو امریکا کی درخواست پر گرفتار کیے جانے پر چین نے شدید احتجاج کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ہواوے کی چیف فنانشل ایگزیکٹو مینگ وانژو کو ایسے وقت میں گرفتار کیا گیا جب امریکی حکام ہواوے کی جانب سے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی تحقیقات کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ پہلے ہی امریکی قومی سلامتی کے خطرے کے پیش نظر امریکی انٹیلی جنس حکام ہواوے کمپنی کی نگرانی کررہے تھے۔

ہواوے کے اعلیٰ افسر کی گرفتاری کے نتیجے میں چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا جبکہ امریکا اور چین تجارتی مہم سے متعلق جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے تحت آئندہ 3 ماہ میں ایک معاہدہ کرنے جارہے تھے۔

مزید پڑھیں : امریکا کا اتحادیوں سے 'ہواوے'کے آلات کا استعمال ترک کرنے پر اصرار

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ’ہم نے کینیڈا اور امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک جلد از جلد مینگ وانژو کی گرفتاری کی وجوہات واضح کریں اور انہیں فوری طور پر رہا کریں‘۔

کینیڈا کی وزارت انصاف نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ ’مینگ وانژو کو یکم دسمبر کو وانکوور میں گرفتار کیا گیا تھا، جس پر چینی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ ’ایسا کرکے انہوں نے متاثرہ خاتون کے انسانی حقوق کو شدید نقصان پہنچایا ہے‘۔

چینی وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ ’امریکا نے مینگ وانژو کو امریکی حکام کے حوالے کیے جانے کی درخواست کی تھی اور جمعے کو ان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جائے گی‘۔

وزارت خارجہ کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ 'مینگ وانژو، جو ہواوے کے بانی کی بیٹی ہیں، ان کی جانب سے مذکورہ معاملے پر معلومات کی اشاعت پر پابندیوں کی وجہ سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے‘۔

اس حوالے سے ہواوے کا کہنا تھا کہ وہ مینگ وانژو کی جانب سے کی گئی کسی قسم کی بدعنوانی سے لاعلم ہیں اور ان پر عائد کیے گئے الزامات سے متعلق ’بہت کم معلومات‘ فراہم کی گئیں ہیں۔

خیال رہے کہ وال اسٹریٹ جنرل نے اپریل میں رپورٹ کیا تھا کہ امریکی وزارت انصاف نے ہواوے کی جانب سے ایرانی پابندیوں کی مشتبہ خلاف ورزی کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ہواوے کا نیا اسمارٹ فون پی 20 لائٹ پاکستان میں دستیاب

نیو یارک ٹائمز کا کہنا تھا کہ ہواوے کو امریکا کے کامرس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے شمالی کوریا اور ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر طلب کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ مینگ وانژو کو اسی روز گرفتار کیا گیا تھا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی ہم منصب ارجنٹائن میں جاری اجلاس میں تجارتی جنگ ختم کرنے کے لیے عارضی صلح پر آمادہ ہوئے تھے۔

آزاد چینی اکناومسٹ کا کہنا تھا کہ میگن وانژو کی گرفتاری تجارتی مذاکرات میں ’بارگینگ چِپ' (سودے بازی) کا کام کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چین اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوں گے لیکن یہ بہت زیادہ کشیدہ ثابت ہوں گے‘۔

تاہم، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان کیے گئے معاہدے کی پاسداری کریں گے تاکہ ’آپسی بات چیت سے ہونے والے معاہدے سے متعلق ممکنہ فوائد پر کام کیا جاسکے‘۔

ہواوے کا شمار دنیا کی بڑی ٹیلی کام کمپنوں میں ہوتا ہے لیکن امریکا کو ہواوے کے کاروبار سے خدشہ ہے کہ وہ امریکی حریفوں کو کمزور کرسکتا ہے اور دوسرے ممالک میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے موبائل فونز بیجنگ کے لیے جاسوسی کرسکتے ہیں۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 7 دسمبر 2018 کو شائع ہوئی