اوپیک ممالک کا تیل کی پیداوار 12 لاکھ بیرل یومیہ کم کرنے پر اتفاق

07 دسمبر 2018

ای میل

اوپیک ممالک کے اجلاس کا منظر — فوٹو:اے پی
اوپیک ممالک کے اجلاس کا منظر — فوٹو:اے پی

ویانا: پیٹرول برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے اراکین اور تیل پیدا کرنے والے دیگر 10 ممالک نے تیل کی پیداوار 12 لاکھ بیرل یومیہ کم کرنے پر اتفاق کر لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق ویانا میں اوپیک ممالک کے توانائی وزرا کے دو روزہ اجلاس میں تیل کی پیداوار کم کرنے کا معاہدہ طے پاگیا، جس کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔

عراق کے وزیر توانائی ثمر عباس الغادبان نے صحافیوں کو بتایا کہ 'ہم مجموعی طور پر تیل کی یومیہ پیداوار 12 لاکھ بیرل کم کریں گے۔'

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت اوپیک کے 14 رکن ممالک تیل کی پیداوار میں یومیہ 8 لاکھ بیرل جبکہ روس سمیت دیگر 10 پارٹنرز یومیہ 4 لاکھ بیرل کمی لائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: قطر کا ’اوپیک‘ کو چھوڑنے کا اعلان

اوپیک اور اس کے پارٹنرز نے، جو تیل کی عالمی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ پیدا کرتے ہیں، اتفاق کیا کہ مارکیٹ میں تیل کی فراوانی سے اس کی قیمتوں میں گزشتہ دو ماہ کے دوران 30 فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

تاہم ایران اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے جس نے پیداوار میں کمی سے استثنیٰ مانگا تھا، تاکہ وہ امریکا کی جانب سے اس کے توانائی کے شعبے پر عائد پابندیوں کا مقابلہ کر سکے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر تیل بیجان نامدار کا کہنا تھا کہ 'ایران کو باضابطہ طور پر اس معاہدے سے استثنیٰ حاصل ہے۔'

تیلی کی پیداوار میں کمی کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد یورپ کے بینچ مارک 'برینٹ کروڈ' کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مزید پڑھیں: ‘تیل کی پیداوار پر اوپیک ممالک کے مابین معاہدہ ممکن نہیں‘

تاہم چند ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار کی جس مقدار میں کمی کا معاہدہ ہوا ہے اس سے اس کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات کم ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ 'اوپیک ممالک تیل کی پیداوار بڑھائیں تاکہ اس کی قیمت نیچے آسکے اور معیشت کو سہارا ملے۔'

تاہم گزشتہ روز سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفلیح نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہمیں تیل کی پیداوار میں کمی لانے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔'