زندگی لازوال نہیں مگر خوبصورت تو بنائی جاسکتی ہے

17 دسمبر 2018

ای میل

زندگی بھی ایک کتاب کی مانند ہے اور ہم وقت کے کورے کاغذ پر اپنی خوشیوں اور غموں کی سیاہی سے لمحہ بہ لمحہ احوال درج کیے جاتے ہیں۔ اگر اس کتابِ زیست میں خوشگوار زندگی رقم کرنی ہے تو کچھ سنہری باتوں کو گانٹھ کر باندھ رکھیں، جو نوع انسان کے تجربات اور علم و دانش سے ہمیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس تحریر میں ایسے ہی چند رموز و حیات پیش خدمت ہیں۔

محبت

محبت میں شدت بھی ہوتی ہے اور گہرائی بھی، شدت تو وقت کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے لیکن گہرائی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کبھی آپ نے پرانی محبتیں دیکھی ہیں؟ مائی بابے کی آپس میں محبت۔ بوڑھے والدین کی جوان اولاد سے محبت۔ پرانے دوستوں کی بڑھاپے میں محبت۔ یہ پرانی محبتیں ہوتی ہیں، ان میں شدت نہیں ہوتی لیکن یہ گہرے رشتے ہوتے ہیں، کبھی ٹوٹتے نہیں اور جو محبتوں میں شدت برقرار رکھنے کا غیر فطری تقاضا کرے گا، اس کے رشتے بکھر جائیں گے۔

احسان

کسی پر احسان کرنے کے بعد اسے اپنی فرمانبرداری کی نکیل نہ ڈالو۔ اس کے گلے میں اپنی غلامی کا طوق نہ ڈالو۔ اس کے پاؤں میں اپنی وفاداری کی زنجیر نہ ڈالو، اس سے اپنی مخالفت کا حق نہ چھینو ورنہ تم نیکی کی قیمت وصول کرنے والوں اور نیکی کے ذریعے انسانوں کو خریدنے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔

نیکی کرکے اسے آزاد چھوڑ دو، جیسے اللہ نے اپنے لاکھ احسانات کے باوجود اسے ہر طرح کی اچھائی اور برائی کے لیے آزاد چھوڑ رکھا ہے۔

عافیت

زیادہ دور نہ جاؤ۔ صحتمند اور پُرسکون طریقے سے بے خوف آزاد فضا میں لیا گیا ہر سانس عافیت ہے اور اس پُرفتنہ دور میں عافیت سے بڑھ کر کوئی مقامِ شکر نہیں۔ پس اس کا شکر ادا کرو جو شکر ادا کرنے پر مزید عطا کرتا ہے۔

معذرت

کتے، بلیاں، گدھے، گھوڑے، خچر وغیرہ ایک دوسرے سے معذرت نہیں کرتے کیونکہ وہ صحیح غلط کی پہچان نہیں رکھتے اور کچھ انسان بھی۔

کردار اور گنوار

کردار کی پہچان بھی صاحبِ کردار کو ہوتی ہے، گنواروں سے اس کی توقع نہ رکھیں۔

وقت، صبر اور شکر

خوشیاں غارت ہوجاتی ہیں۔ غم غلط ہوجاتے ہیں۔ آزمائشیں ٹل جاتی ہیں۔ آفتیں گزر جاتی ہیں۔ کامیابیاں چھن جاتی ہیں اور ناکامیاں لوٹ جاتی ہیں۔ حاصل لاحاصل ہوجاتا ہے، لاحاصل حاصل ہوجاتا ہے۔

وقت کے ساتھ مگر صبر چاہیے، جو ہر انسان نہیں کرتا۔ شکر چاہیے، جو بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ اگر تم بیک وقت صبر اور شکر کرتے ہو تو روئے زمین پر تم سے زیادہ خوش اور مطمئن انسان کوئی نہیں۔

ورتھ، یعنی اوقات

بطور انسان تمہاری ورتھ یہ ہے کہ تمہارے ہونے یا نہ ہونے سے کتنے انسانوں کو فرق پڑتا ہے۔ ورتھ پازیٹیو یا مثبت بھی ہوتی ہے اور نیگیٹیو یا منفی بھی۔

پازیٹوز ورتھ یہ ہے کہ تمہارے ہونے سے کتنے انسانوں کا فائدہ ہوتا ہے اور تمہارے نہ ہونے سے کتنے انسانوں کا نقصان، جبکہ نیگیٹیو ورتھ یہ ہے کہ تمہارے نہ ہونے سے کتنے انسانوں کا فائدہ ہوتا ہے اور تمہارے ہونے سے کتنے انسانوں کا نقصان ہوتا ہے۔ یہ جاننے کے بعد اب تمہیں اپنی اوقات کے بارے میں کوئی غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے۔

یاد رکھنا، تمہاری ورتھ یعنی اوقات کا تعلق براہِ راست انسانوں کے نفع نقصان سے ہے۔

حرکت، روح اور مادہ

حرکت کائنات کی فطرت ہے۔ کائنات میں کچھ بھی ساکن نہیں۔ ایٹم کے ناقابلِ تقسیم ذرات ہوں یا خلا میں تیرتے ہوئے عظیم اجرام فلکی؛ ہر چیز حرکت میں ہے۔ سکون حرکت کی ضد ہے، تمہارا سکون نظامِ فطرت سے بغاوت ہوگا اور فطرت کے باغیوں کا نشان عبرت بن جانا عین تقاضائے فطرت ہے۔

یہاں حرکت بقا کی واحد ضامن ہے اور کوئی حرکت رونما نہیں ہوسکتی جب تک روح اور مادے کا باہمی اشتراک نہ ہو۔ مادہ حرکت کا وہ حصہ ہے جو نظر آتا ہے، چھوا جاسکتا ہے جبکہ روح حرکت کا وہ جزو ہے جسے بغیر دیکھے اور چھوئے محسوس کیا جاسکتا ہے۔ فطرت سے ہم آہنگ ہونا چاہتے ہو تو روحانیت اور مادیت کو اپنی ذات میں یکجا کرلو کیونکہ مادے کی روح سے جدائی موت ہے، اور یہ زمانہ خود کشی کر رہا ہے لیکن تم نے تو زندہ رہنا ہے، جیسے زندہ رہنے کا حق ہے۔

سڑکوں کا جال

سڑکوں کا ایک نہایت پیچیدہ جال اور کروڑوں اربوں بیک وقت محو سفر ہیں۔ کچھ بھاگتے پھرتے ہیں، کچھ رینگ رہے ہیں اور کچھ گھسٹ رہے ہیں لیکن سفر سب کا جاری ہے۔ باہم متصل لامحدود راستے اور جا بجا بکھری ہوئی لا تعداد منزلیں؛ یہ ہے زندگی، قدرت کی عظمت کا عظیم ترین شاہکار۔ یہاں کوئی الٹی چال نہیں، جدھر بھی قدم بڑھاؤ گے وہ پیش قدمی ہی کہلائے گا۔ یہاں کوئی آگے پیچھے نہیں، سب بھول بھلیوں میں گم ہیں۔ یہاں اکثر راستے ٹوٹے پھوٹے، تنگ و تاریک، ٹیڑھے میڑھے اور اونچے نیچے ہیں لیکن کوئی راستہ بند نہیں۔ یہاں کئی راستے ایک ہی منزل کو پہنچتے اور ہر راستے میں قدم قدم پر منزل۔ یہاں کا صرف ایک اصول ہے، آپ رُک نہیں سکتے۔

بیٹی اور جہیز

پیدائش سے لے کر شادی تک ایک بیٹی کے روٹی، کپڑے، مکان، علاج، تعلیم اور شادی پر اوسطاً کم از کم 35 لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ والدین شادی کے بعد بھی اس پر خرچ کرتے رہتے ہیں۔ پھر اس نے خاوند کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سسرالیوں کی خدمت بھی کرنا ہوتی ہے اور بچے بھی پیدا کرنا ہوتے ہیں جس کے بعد بچوں کی خدمت کروانے کی باری آ جاتی ہے۔

واضح رہے کہ ابھی 9 ماہ کے حمل، زچگی کے درد، بیٹی کی تربیت پر محنت اور اس کی عصمت کی حفاظت کرنے کی قیمت شامل نہیں کی۔ کسی کی اتنی بیش قیمت بیٹی لینے کے باوجود لوگ جہیز لینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ جہیز کے بغیر بیٹی کو عزت نہیں دیتے، بیٹی لے کر بیٹی والوں پر احسان سمجھتے ہیں۔ جہیز ایک لعنت ہے جو لینے والوں پر پڑتی ہے۔

ممتا

ماں کا پیار دنیا میں ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن اکثر ماؤں کی ممتا بیٹے کی شادی کے بعد اس وقت بے نقاب ہوجاتی ہے جب وہ بیٹے کی آنکھ میں بہو کے لیے محبت دیکھتی ہے اور پھر بہو سے حسد بیٹے کی محبت پر غالب آجاتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ باپ کی شفقت پر نسبتاً کم بات کی جاتی ہے حالانکہ باپ کی شفقت کو کبھی زوال نہیں آتا۔

سفر اور منزل

زندگی کا سفر بطن مادر تک محدود ہوتا ہے جب تم زندگی کی طرف قدم بڑھا رہے ہوتے ہو۔

پپدائش کے بعد تو موت کا سفر شروع ہوجاتا ہے کیونکہ سفر کا عنوان ہمیشہ منزل کے نام سے منسوب ہوتا ہے۔ تمہاری منزل کچھ بھی ہو، تمہیں منزل کا شعور ہو نہ ہو، تمہارا سفر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، تمہارے سفر میں سہولتیں ہوں یا صعوبتیں، کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کچھ فرق نہیں پڑتا۔

یاد رکھنا، تمہارا سفر لامحدود نہیں، ایک یقینی منزل تمہاری منتظر ہے۔ تم اس تک نہ پہنچے تو وہ خود چل کر تم تک پہنچ جائے گی، اور وہ ہے موت۔

مواقع

مواقع ہمیشہ موجود رہتے ہیں، تم زندہ ہو سہی، طبعی موت واقع ہوجائے یا انسان کوشش کرنا چھوڑ کر کلی طور پر جمود کا شکار ہوجائے، ہر دو صورت زندوں میں شمار نہ ہوگا۔

حسن اور محبت

محبت حسن کی محتاج نہیں لیکن حسن محبت کا محتاج ہوتا ہے۔