کراچی کے صنعتکاروں کا گیس پریشر میں شدید کمی پر صنعتیں بند کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 29 دسمبر 2018

ای میل

گیس پریشر میں کمی سے برآمدات کی ترسیل میں تاخیر کا سامنا ہے—فوٹو: ڈان
گیس پریشر میں کمی سے برآمدات کی ترسیل میں تاخیر کا سامنا ہے—فوٹو: ڈان

کراچی: سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ) میں موجود 3 ہزار سے زائد یونٹس کے مالکان نے گیس پریشر میں شدید کمی کے خلاف احتجاجاً اپنی تمام صنعتیں پیر سے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے تقریباً 5 لاکھ ملازمین کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، جس میں تمام ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پیر سے اس وقت تک تمام صنعتیں بند رکھیں گے جب تک گیس پریشر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

اس کے ساتھ ساتھ منگل کو صنعتکار گورنر ہاؤس سندھ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے دھرنا بھی دیں گے۔

مزید پڑھیں: گیس بحران: سوئی سدرن،ناردرن کے ڈائریکٹرز کےخلاف انکوائری کا حکم

ملک کے سب سے بڑے صنعتی علاقے کا حصہ کل برآمدات کے 52 فیصد سے زائد ہے اور یہ کل ٹیکس محصولات میں 64 فیصد حصہ دیتا ہے۔

اس حوالے سے سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے چیئرمین سلیم پاریکھ کا کہنا تھا کہ صنعتکار رہنماؤں نے یہ قدم آخری حربے کے طور پر اٹھایا ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ متعدد شکایتیں کرنے کے باوجود اس معاملے کو حل کرنے کے لیے سندھ اور وفاقی حکومتیں کوئی اقدام نہیں کر رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سائٹ ایریا میں موجود صنعتیں یونٹس سے 5 لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے لیکن توانائی کی موجودہ صورتحال میں ان یونٹس کو چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔

سلیم پاریکھ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ کتنی بدقسمتی ہے کہ برآمدات میں مصروف صنعتوں کو ایسی بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کے باعث وہ اپنی برآمدات کے شیڈول کو پورا کرنے سے قاصر ہیں اور اپنے خریداروں کو ان کی ترسیل کے لیے ہوائی راستے کا استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک برآمد کنندہ مینوفیکچرر‘ کے طور پر میں نے سامان کی ترسیل میں تاخیر کی ذمہ داری لی کیونکہ میں اپنے خریداروں کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں توانائی کے بحران کا سامنا ہے، اس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں ملک کا برا اثر پڑے گا۔

صنعتی رہنماؤں نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیوں سندھ حکومت گیس کے مسئلے کو حل کرنے کی خواہاں نہیں ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 158کے تحت اس معاملے کو وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانا ناگزیر ہے۔

سلیم پاریکھ نے واضح کیا کہ سائٹ ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر خزانہ، ریونیو اور اقتصادی امور اسد عمر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سندھ کو بھی آر ایل این جی کی قیمتوں پر وہی سبسڈی فراہم کریں جو پنجاب کو فراہم کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی کا برآمدی صنعتوں کو گھریلو گیس دینے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ سندھ کو سبسڈائزڈ قیمت پر یومیہ صرف 50 ملین کیوبک فٹ (ایم ایم سی ایف ڈی) درکار ہے جبکہ پنجاب 200 ایم ایم سی ایف ڈی سبسڈی حاصل کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ہفتے کو صنعتکاروں کا اجلاس طلب کیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ صنعتکار ایسا انتہائی اقدام نہیں اٹھانا چاہتے جہاں صنعتیں بند ہوں یا مظاہرے کیے جائیں۔

سلیم پاریکھ کا کہنا تھا کہ اگر گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ حقیقی ہے تو حکومت کو مؤثر انتظام کو یقینی بنانا چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ گیس پریشر بہتر کرنے کے لیے شہر کے صنعتی علاقوں میں گیس کی بندش کے شیڈول کو تبدیل کرنا چاہیے۔