2018 میں پاکستان کے مقبول ڈرامے

ان ڈراموں نے منفرد موضوعات اور دلچسپ کہانی سے بعض سماجی مسائل کو اجاگر کیا تو کچھ نے خاندانی روایات کا دامن تھامے رکھا
اپ ڈیٹ دسمبر 30, 2018 03:52pm

پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت کئی برسوں سے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی قائم ہے۔ سال 2018 میں مختلف قومی نجی ٹی وی چینلز پر کئی ایسے ڈرامے نشر کیے گئے جنہیں ناظرین کی جانب سے بہت پذیرائی ملی، بعض ڈرامے ایسے بھی ہیں جنہیں منفرد اور حساس موضوعات کی وجہ سے کافی عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

ڈرامے ویسے تو خواتین میں بہت مقبول ہیں اور مختلف چینلز پر بہت سے ڈرامے دکھائے جارہے ہیں، ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی کچھ ایسے ڈرامے بنائے گئے جنہوں نے اپنے اچھوتے موضوعات اور دلچسپ کہانی سے بعض سماجی مسائل کو اجاگر کیا تو کچھ ڈراموں نے خاندانی روایات کا دامن تھامے رکھا اور ناظرین نے انہیں بے حد پسند کیا۔

ذیل میں سال 2018 میں ان پاکستانی ڈراموں کا ذکر کیا جارہا ہے جو بہت مقبول ہوئے اور انہوں نے ناظرین کی زبردست پذیرائی بھی حاصل کی۔

بابا جانی

ڈرامہ ’ بابا جانی ‘ کی کہانی بنیادی طور پر سوتیلے باپ اور بیٹی کے رشتے کے گرد گھومتی ہے کیونکہ عموماً معاشرہ اس رشتے کو قبول نہیں کرتا اور مختلف سماجی مشکلات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

فیصل قریشی اس ڈرامے میں اسفند نامی شخص کا کردار ادا کررہے ہیں، جس کی ایک بڑی اور 2 چھوٹی بہنیں ہیں، جن کے مطالبات پورے کرنا ان کی زندگی کو مشکل بنادیتا ہے۔

ڈرامے میں صبا حمید (نجیبا) بڑی بہن، جبکہ جنان حسین (نائلہ) اور عدیلہ خان (نبیلہ) نے فیصل قریشی کی چھوٹی بہنوں کے کردار ادا کیے ہیں۔

ڈرامے میں فیصل قریشی کی محبت اور ان کی کزن مہوش کا کردار فریال محمود نے ادا کیا ہے، جن کی منگنی بچپن سے طے ہوتی ہے، مگر بعد ازاں ان کی بہنیں یہ رشتہ ہی ختم کروا دیتی ہے، جس کا علم اسفند کو بھی ہوجاتا ہے۔

دوسری جانب سویرا ندیم کو ایک بیوہ سعدیہ کے روپ میں دکھایا گیا ہے اور مدیحہ امام نے ان کی بیٹی نمرہ کا کردار ادا کیا ہے۔

اسفند جب پہلی بار نمرہ کو دیکھتا ہے (وہ نمرہ کے لیے رشتہ لے کر جاتا ہے)، تو وہ اسے انتہائی کم عمر ہونے کے باعث اپنی چھوٹی بہن کی طرح لگتی ہے،جس کے بعد وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر چلاجاتا ہے اور اسے مضبوط چھت فراہم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔

ڈرامے میں اسفند، سعدیہ سے شادی تو کرلیتا ہے لیکن سعدیہ کے انتقال کے بعد اسفند کے اور نمرہ کے رشتے پر اٹھنے والے سوالات ان کی اور نمرہ کی زندگی کو متاثر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسفند ایک والد کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی سوتیلی بیٹی نمرہ کے لیے مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔

خانی

ڈرامہ ’خانی‘ ایک ایسی لڑکی کی کہانی کی عکاسی کرتا ہے جو ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود بڑی طاقتوں سے لڑنے کی جرأت کی اور طویل عرصے کی جدوجہد اور مسائل کا سامنا کرنے کے بعد اس میں کامیاب بھی ہوئی۔

اس ڈرامے کی کہانی ایک لڑکی صنم خان کے گرد گھومتی ہے جسے پیار سے سب خانی بلاتے ہیں۔

ڈرامے میں ایک ایسے سیاسی خاندان کو پیش کیا گیا ہے جو اپنی طاقت کے نشے میں چور ہے اور عام لوگوں کے ساتھ جانور سے بھی بدتر سلوک کرتا ہے۔

ڈرامے کی شروعات میں میر ہادی خانی کے بھائی سے جھگڑا ہوجانے پر اسے 4 گولیاں مار دیتا ہے، جس کے بعد ہسپتال پہنچ کر صارم کا انتقال ہوجانے پر ڈرامے کی اصل کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔

قتل کے بعد میر ہادی کو جیل تو جاتی ہے لیکن ایک طاقت ور سیاسی خاندان کا فرد ہونے کی وجہ سے اسے ہر سہولت میسر ہوتی ہے، ہادی کے سیاسی اثر ورسوخ اور دھمکیوں سے تنگ آکر خانی اپنے بھائی کے قاتل میر ہادی کو معاف کردیتی ہے۔

ڈرامے میں بعدازاں ہادی کو صنم یعنی خانی سے محبت ہوجاتی ہے لیکن خانی اس کی محبت میں ہرگز مبتلا نہیں ہوتی۔

بعد ازاں صنم ایک معروف کاروباری شخص سے شادی کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے بھائی کے قاتل کو سزا دلوانے کی کوشش کرتی ہے جس کے بعد حالات ایسا رخ اختیار کرلیتے ہیں کہ میری ہادی بھی عدالت میں پیش ہوکر پھانسی کی سزا مانگتے ہیں تو انہیں سزا سنادی جاتی ہے۔

ڈرامے کا اختتام بہت ہی جاندار تھا اور ناظرین کو بے صبری سے انتظار تھا کہ میر ہادی کو پھانسی دی جائے گی یا نہیں لیکن صنم خان اور اس کے گھر والوں کی درخواست پر اس پھانسی کو عمر قید کی سزا میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔

خانی میں صنم خان کا کردار ثناء جاوید اور فیروز خان نے میر ہادی کا کردار ادا کیا۔

آنگن

ڈرامہ ’آنگن‘ کی کہانی پنجاب کے ایک خاندان پر مبنی ہے، اس میں جوائنٹ فیملی سسٹم ، روایات اور آنگن یعنی گھر کی اہمیت کی عکاسی کی گئی ہے۔

ڈرامے کی ایک کہانی گھر کے سربراہ میاں جی (قوی خان )، ان کی اہلیہ زیتون بانو ( ثمینہ احمد)، ان کے 4 بیٹوں ان کی شاد ی شدہ زندگی اور غیر شادی شدہ بیٹی کے گرد گھومتی ہے۔

ڈرامے کا آغاز زویا کی شادی کی کوششوں سے ہوا جس کے بعد گھر میں رہائش پذیر 3 بیٹو ں ان کی زندگی کے مسائل اور چوتھے بیٹے کی بیرون ملک سے آمد اور بٹوارے کے مطالبے پر تکلیف ہر موڑ ہی بہت اعلیٰ تھا ، ڈرامے کا اختتام بڑے بیٹے ( سجاد کا کردار نبھاتے نورالحسن )کے انتقال پر ہوا کہ وہ گھر بیچنےکا صدمہ سہہ نہیں سکے تھے۔

اس کہانی میں معاشرے کے لیے پیغام ہے کہ سب ساتھ ہوں تو مشکلات آسانی سے حل ہوجاتی ہیں اور وہ آنگن جس میں گھر کے ہر فرد نے اپنی زندگی گزاری ہو جہاں یادیں ہوں ، جہاں خواب ہوں اسے چھوڑنا گویا اپنی زندگی ختم کرنا ہوتا ہے۔

ایسی ہے تنہائی

ڈرامہ سیریل ایسی ہے تنہائی نے اپنے موضوع سے جہاں شائقین کی پذیرائی حاصل کی وہیں معاشرے کی بے رحمی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے 2 خاندان اور کئی زندگیاں تباہ ہونے پر شائقین کی آنکھوں کو نم بھی کیا۔

ڈرامے کا آغاز گزشتہ برس کے آخر میں ہوا تھا لیکن اس کا اختتام رواں برس مارچ میں ہوا، یہ کہانی سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے جرائم اور ان کے اثرات پر مبنی ہے ۔ ڈرامے کی مرکزی کردار پاکیزہ اسلام اپنے منگیتر کی فرمائش پر اپنے موبائل کیمرے سے اپنی چند ذاتی نوعیت کی تصاویر بناتی ہیں اور یہ تصاویر اپنے منگیتر کو دکھانے والی ہی ہوتی ہیں کہ ان کا موبائل چھن جاتا ہے اور اس میں موجود تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہوجاتی ہیں ۔

پاکیزہ اپنی ان تصاویر وائرل ہونے کی ایک لمبی سزا کاٹتی ہے،اس کی اپنی ماں معاشرے کے طعنے سننے سے بچنے کے لیے اسے زہر دینے کے بعد ہسپتال میں بے یارو مددگار چھوڑ جاتی ہے، جہاں ہسپتال کا ایک ملازم بے ہوشی کی حالت میں اس کا ریپ کردیتا ہے۔

اس ڈرامے کا سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ معاشرے کے ظلم و ستم کا شکار ایک کمزور لڑکی نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور معاشرے میں اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے قانونی جنگ لڑی۔

ڈرامے کے مرکزی کردار میں سونیا حسن نے پاکیزہ اسلام کا کردار نبھایا، صبا حمید ان کی والدہ کے روپ میں اور نادیہ خان ان کی بڑی بہن کنزیٰ کے روپ میں نظر آئی جبکہ سمیع خان نے پاکیزہ کے کلاس فیلو اور منگیتر حمزہ کا کردار ادا کیا۔

کوئی چاند رکھ

ڈرامہ ’ کوئی چاند رکھ‘ یوں تو بیوفائی اور محبت کی داستان پر مبنی ہے لیکن یہ کہانی منیب بٹ کی عائزہ خان کے لیے محبت، عمران عباس کی بے رخی اور عائزہ خان کے آنسو، بے بسی اور ان پر ہوئے ظلم کی وجہ سے زیادہ پسند کیا جارہا ہے۔

کوئی چاند رکھ کی کہانی ڈاکٹر رابیل کے گرد گھومتی ہے جن کے والدین بچپن میں ہی وفات پاگئے تھے اور انہوں نے اپنے ماموں کے گھر پرورش پائی۔

رابیل کے ماموں کا بیٹا عمیر جو ان سے عمر میں 4 برس چھوٹا ہے وہ ان کی محبت میں گرفتار ہوجاتا یے لیکن رابیل اسے ایک چھوٹا بھائی سمجھتی ہے، عمیر کی والدہ یہ جان کر جلد بازی میں رابیل کی شادی کی کوشش کرتی ہیں اور ایک امیر گھرانے میں زین نامی شخص سے اس کی شادی طے کردیتی ہیں۔

تاہم زین کو رابیل کی ماموں زاد نشال نے اپنا تعارف ڈاکٹر رابیل کے نام سے کروایا ہوتا ہے اور یہ بات زین کو رشتہ طے ہونے کے بعد معلوم ہوتی ہے۔

زین اپنے والد کی وجہ سے رابیل سے شادی کرلیتا ہے،بعد ازاں نشال اور زین کے تعلق کا زین کے والد کو علم ہوتا ہے تو وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کرپاتے اور دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرجاتے ہیں۔

انتقال سے قبل زین کے والد اس سے وعدہ لیتے ہیں کہ وہ کبھی رابیل کو طلاق نہیں دے گا۔

بعد ازاں نشال زین سے شادی کرلیتی ہے اور زین کو رابیل کے خلاف کرتی ہے کہ عمیر اور رابیل ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔

سنو چندا

ڈرامہ ’سنو چندا ‘ کی کہانی مزاحیہ اور رومانوی ہے اور مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے والے دو کزن کے گرد گھومتی ہے جو بچپن سے ہی ایک دوسرے کے خلاف شرارتیں کرتے رہتے ہیں لیکن انہیں شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے۔

اس ڈرامے میں رشتہ داریوں میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں پر بھی مزاح کے ذریعے روشنی ڈالی گئی ہے، ڈرامے میں دکھایا گیا کہ ارسل اور جیا ایک دوسرے سے ہرگز شادی نہیں کرنا چاہتے لیکن دادی کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے وہ راضی ہوجاتے ہیں۔

اقرا عزیز نے جیا اور فرحان سعید نے ڈرامے میں ارسل کے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

میری گڑیا

ڈرامہ میری گڑیا بچیوں کے ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حساس موضوع پر مبنی ہے۔

میری گڑیا میں ایک 8 سالہ معصوم بچی کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملتی ہے، جس کے بعد اپنی بیٹی کے قاتل کو انجام تک پہنچانے کے لیے والدہ آواز اٹھاتی ہیں۔

ڈرامے میں محسن عباس نے دبیر کا کردار ادا کیا ہے جو ویسے تو ایک معصوم شخص کا کردار ادا کررہا ہے لیکن وہ بچیوں کے ریپ میں ملوث ہوتا ہے اور شادی نہیں کرنا چاہتا لیکن ان کی والدہ زبردستی ان کی شادی سفینہ سے کروادیتی ہیں۔

سونیا حسن نے سفینہ کا کردار ادا کیا ہے اور سفینہ ہی ریپ کا نشانہ بننے والی بچی عابدہ کی والدہ کے ساتھ مل کر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں، وہ اس مقصد کے لیے ایک ویڈیو بناتی ہیں جو انٹرنیٹ پر وائرل ہوتی ہے جس کے بعد اس معاملے پر نوٹس لیا جاتا ہے۔

تاہم پولیس اس معاملے پر کارروائی کرتی ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے دبیر ہی مجرم ثابت ہوتا ہے، بعد ازاں یہ بھی سامنے آتا ہے کہ دبیر صرف عابدہ ہی نہیں بلکہ علاقے کی 12 بچیوں کے ریپ میں ملوث ہوتا ہے، ڈرامے کا اختتام اس خطرناک مجرم اور درندے دبیر کی پھانسی پر ہوتا ہے۔

دل موم کا دیا

ڈرامہ سیریل ’ دل موم کا دیا ‘ ایک مغرور لڑکی الفت کی کہانی ہے جسے اپنے حسن پر بہت ناز ہے اور کسی حسین شہزادے کا انتظار ہے لیکن اس کی شادی افضل سے ہوجاتی ہے افضل اس سے بہت محبت کرتا ہے لیکن وہ اس کے پیسے اور اپنے حسن پر ناز کرتی ہے اور بالآخر اپنی کوتاہیوں اور مغرور ہونے کی وجہ سے افضل سے طلاق لے لیتی ہے۔

ڈرامے میں الفت کے دیور اظہر کو اس کی چچا زاد بہن تمکنت سے محبت ہوجاتی ہے اور ان کا نکاح بھی ہوتا ہے جس میں الفت کی رضامندی شامل نہیں ہوتی۔

بعد ازاں الفت کے رویے اور طلاق کے بعد اظہر تمکنت کو رخصت نہیں کرواتا کہ وہ بھی الفت جیسی ہی ہوگی تاہم تمکنت کا انتظار رنگ لاتا ہے اور اظہر کئی سال بعد آکر تمکنت سے معافی مانگتا ہے۔

ڈرامے میں الفت کا کردار نیلم منیر اور افضل کا کردار یاسر نواز نے ادا کیا ہے، عمران اشر ف نے اظہر اور حرا مانی نے تمکنت کا کردار نبھایا۔

یہ ڈرامہ الفت کی مغرور طبیعت اور تمکنت کی سادگی کی وجہ سے کافی مقبول ہوا۔

حیوان

حیوان ڈرامہ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے موضوع پر مبنی ہے۔

ڈرامے کی کہانی میں 10 سالہ بچی معصومہ کو دکھایا گیا جو حمید کی بیٹی کی دوست اور ان کی پڑوسی ہے، تاہم جب ایک روز حمید کی بیوی اور بچے گھر میں موجود نہیں ہوتے وہ نشے کی حالت میں بچی کا ریپ کرتا ہے اور جرم چھپانے کی خاطر اسے اپنے ہی گھر میں مار کر دفنادیتا ہے۔

بعد ازاں بچی کی لاش 3 سال بعد ایک کھدائی کے دوران سامنے آتی ہے اور اعتراف جرم سے آنکھ مچولی کے بعد بالآخر حمید اپنے بچوں کے سامنے اپنا جرم قبول کرتا ہے اور ان کی نفرت نہ جھیلنے کی وجہ سے اسے دل کا دورہ پڑتا ہے۔

ڈرامے میں اس موضوع کو اجاگر کیا گیا ہے کہ معصوم بچیوں کے ریپ کرنے والا مجرم نہ صرف متاثرہ بچی کے خاندان بلکہ اپنے خاندان کو بھی شدید متاثر کرتا ہے اور جب یہ جرم سامنے آتا ہے تو صرف پچھتاوے کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہتا۔

ڈرامے میں حمید کا کردار فیصل قریشی اور معصومہ کی والدہ کا کردار سویرا ندیم نے ادا کیا ہے اور صنم چوہدری نے معصومہ کی بڑی بہن اور حمید کی بہو کا کردار ادا کیا ہے۔

باندی

ڈرامہ سیریل باندی کی کہانی ایک غریب مزارعے کی بیٹی کے گرد گھومتی ہے جس کے والدین ایک بدقماش وڈیرے سے بچانے کی کوشش میں ایک خاتون کی مدد سے ایک امیر گھرانے میں ملازمہ رکھوادیتے ہیں۔

یہ ڈرامہ دیہی پس منظر میں بنایا گیا ہے ، اس میں جاگیردارانہ نظام کی خامیوں اور ایک بے سہار ا مظلوم لڑکی کی بے بسی کو دکھایا گیا ہے جس کےلیے غربت ہی سب سے بڑا جرم ہوتا ہے کہ اس کی مالکن بھی اسے حقیر سمجھتی ہے لیکن مالکن کا بیٹا غریب مزارعے کی بیٹی جو اس کے گھر کی ملازمہ بھی ہے اس کے عشق میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

غریب مزارع اور ایمن خان نے ان کی بیٹی کا کردار ادا کیا ہے ،یاسر حسین روایتی وڈیرے بنے ہو ئے ہیں جو اپنی من مانیاں کرتا ہے۔


لکھاری ڈان ڈاٹ کام کی اسٹاف ممبر ہیں، ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ AimanMahmood2 ہے۔