ای میل

2019 میں آپ کو صحت مند رکھنے میں مددگار ٹپس



نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے اور لوگ اس موقع پر بہت سی چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو ان کے خیال میں نئے برس کے دوران انہیں حاصل کرنی چاہئے، مگر سب سے اہم چیز یعنی اپنی صحت کو اکثر نظرانداز کردیتے ہیں۔

جب بات صحت اور غذائیت کی ہو تو لوگ کافی الجھن کا شکار ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ ماہرین بھی لگتا ہے کہ جیسے ایک دوسرے سے متضاد آرا رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں : 2019 میں ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار آسان طریقے

تاہم تمام تر عدم اتفاق کے باوجود کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی سائنس نے ٹھوس انداز سے تصدیق کی ہے۔

تو ایسے ہی بہترین طبی ٹپس جانیں جو کہ سائنسی شواہد پر مبنی ہیں۔

ناشتہ کرنا نہ بھولیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اس کی متعدد وجوہات ہیں، دن کی پہلی غذا سے میٹابولزم حرکت میں آتا ہے اور بعد میں زیادہ کھانے سے روکتا ہے، اس سے ہٹ کر مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ صحت بخش ناشتہ کرنا دفتری امور کو بہتر طریقے سے کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ ناشتہ کرکے تعلیمی اداروں میں جانے والے بچے پڑھائی میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، ضروری نہیں کہ ناشتے میں بہت زیادہ کھائیں مگر کچھ نہ کچھ ضرور کھائیں۔

میٹھے مشروبات سے گریز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

میٹھے مشروبات موٹاپے کا سبب بننے والی وہ سب سے مضر چیز ہے جو آپ جسم کا حصہ بناتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیال شکل میں چینی میں موجود کیلوریز کو دماغ اس طرح شمار نہیں کرتا جس طرح ٹھوس غذا کو کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی سافٹ ڈرنک یا سوڈا پیتا ہے تو حد سے زیادہ کھالیتا ہے مگر احساس نہیں ہوتا۔ اسی طرح یہ مشروبات موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ ٹو، امراض قلب اور ہر طرح کے طبی مسائل کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ فروٹ جوسز بھی سافٹ ڈرنکس جتنے ہی برے ہیں کیونکہ ان میں بھی بہت زیادہ چینی ہوتی ہے اور اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس مضر اثرات کی روک تھام میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔

مناسب مقدار میں پانی پینا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جسم کے لیے پانی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور مناسب مقدار میں پانی پینا اولین ترجیح ہونا چاہئے کیونکہ اس سے نہ صرف جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے بلکہ مختلف عوارض سے بھی تحفظ ملتا ہے جو ڈی ہائیڈریشن کی شکل میں آپ کو شکار بناسکتے ہیں، اگر سادہ پانی زیادہ پسند نہیں تو اس میں لیموں کا عرق ڈال کر بھی پی سکتے ہیں۔

ورزش کا وقفہ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ضروری نہیں کہ سخت جسمانی ورزش ہی کی جائے، ہفتہ بھر میں 5 روز صرف آدھے گھنٹے کی چہل قدمی بھی مختلف امراض کو دور رکھنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے جبکہ دیگر فوائد الگ حاصل ہوتے ہیں۔ اگر 30 منٹ مسلسل چلنا بھی ممکن نہیں تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد تیز چہل قدمی سے بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

آف لائن ہونا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کیا بہت زیادہ ای میلز اور سوشل میڈیا چیک کرتے ہیں؟ یقیناً پیاروں کی اپ ڈیٹس ایک کلک کے فاصلے پر ہوتی ہیں، مگر کیا رات کو کسی دوست کے کھانے کی تصویر دیکھنا واقعی ضروری ہوتا ہے؟ اگلی صبح تک انتظار کرنا ممکن ہے، رات کو گھر میں سب اکاﺅنٹس سے لاگ آف ہوکر فون ایک طرف رکھ دیں۔ جب اسکرین ٹائم کم ہوگا تو آپ دیگر کاموں کے لیے آزاد ہوں گے جیسے چہل قدمی، مطالعہ یا رشتے داروں سے ملاقاتیں۔

یہ بھی پڑھیں : صحت مند رہنے کیلئے ناشتے میں کونسی غذاؤں کو استعمال کرنا چاہئے؟

کچھ نیا سیکھیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

نئی چیزوں کو سیکھنا دماغ کو صحت مند رکھتا ہے، اب یہ تو آپ کے اوپر ہے کہ کیا نیا سیکھنا چاہئے اب یہ نئی زبان ہوسکتی ہے یا کچھ اور، نئی چیز کو سیکھنے کے لیے دماغ کو جو مشقت کرنا پڑتی ہے اس سے بڑھتی عمر کے آثار کی رفتار سست ہوجاتی ہے جبکہ الزائمر جیسے جان لیوا مرض سے بچنا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔

تمباکو نوشی اور الکحل چھوڑ دیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر تو آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں، تو غذا اور ورزش کی فکر چھوڑیں، پہلے اس عادت پر قابو پائیں۔ اسی طرح الکحل بھی اگر زندگی کا حصہ ہے تو اس کو بھی چھوڑ دیں کیونکہ جگر کے امراض کا سب سے بڑا سبب یہی عادت ہے۔

اچھی نیند

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

مناسب نیند کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، یہ صحت کے لیے غذا اور ورزش جتنی اہم ہے۔ نیند کی کمی انسولین کی حساسیت کا باعث بنتی ہے جبکہ جسمانی اور ذہنی کارکردگی میں کمی آتی ہے۔ اسی طرح یہ جسمانی وزن یا موٹاپے کا باعث بننے والا بہت بڑا سبب بنتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق نیند کی کمی بالغ افراد میں موٹاپے کا خطرہ 55 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔

مسلز ٹریننگ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

وزن اٹھانے والی ورزشوںکے نتیجے میں جسم کو چربی کو مسلز بڑھانے کے لیے استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے، یعنی آپ جتنی زیادہ کیلوریز خرچ کریں گے اتنا ہی فائدہ ہوگا، یعنی جسمانی وزن کنٹرول میں رہے گا، دل صحت مند جبکہ ہڈیاں مضبوط ہوں گی۔ ہفتے میں کم از کم 2 بار ان ورزشوں کو کرنا عادت بنالیں۔

گھر سے باہر نکلیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ماضی قریب میں وٹامن ڈی کے لیے لوگوں کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی تھی بلکہ سورج کی روشنی اس میں مدد دیتی تھی مگر آج کے دور میں مسئلہ یہ ہے کہ لوگ باہر بہت کم نکلتے ہیں یا سورج کی روشنی میں کم گھومتے ہیں یا سن اسکرین استعمال کرتے ہیں۔ وٹامن ڈی کی کمی مختلف عوارض کا خطرہ بڑھاتی ہے جبکہ اس کی جسم میں مناسب مقدار ہڈیوں کی صحت اور مضبوطی کے لےی ضروری ہے، مایوسی اور کینسر کا خطرہ کم کرتی ہے، اس کے لیے آپ طبی ماہر کے مشورے سے کسی سپلیمنٹ کا استعمال کرتے ہیں، اگر سورج کی روشنی میں گھومنا زیادہ پسند نہیں۔

سبزیاں اور پھل کھائیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

سبزیاں اور پھل تو صحت کے لیے قدرتی غذا قرار دیئے جاتے ہیں اور اس کی اچھی وجہ بھی ہے، یہ فائبر، وٹامنز، منرلز اور ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ اچھی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق جو لوگ پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، وہ لمبی زندگی بھی پاتے ہیں جبکہ امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ ٹو، موٹاپے اور دیگر متعدد امراض کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

ڈائٹنگ سے ہمیشہ دور رہیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

وزن کم کرنے کے لیے اگر کھانا چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں تو جان لیں کہ اس کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ یہ عارضی طور پر تو وزن کم کرنے میں مدد دینے والا طریقہ ہے مگر مستقبل میں وزن کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ وزن کی کمی کے لیے زیادہ بہتر غذائی انتخاب، جسمانی سرگرمیاں کو اپنانے کو ترجیح دی جانی چاہئے۔

دماغ تازہ دم کریں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

مراقبہ یا پھولوں کی مہک سونگھنا جیسے عام کام بھی دماغ کو تازہ دم کردیتے ہیں، اس سے ذہنی تناﺅ کم ہوتا ہے، جسمانی درد میں کمی جبکہ مزاج خوشگوار ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 8 ہفتے روزانہ کچھ دیر مراقبہ کرنے سے دماغ کے ان حصوں میں تبدیلی آتی ہے جو جذبات، سیکھنے اور یاداشت سے جڑے ہوتے ہیں۔

فاسٹ فوڈ فائدہ مند نہیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

پراسیس شدہ جنک فوڈ وہ سبب ہیں جس کے باعث آج دنیا پہلے سے زیادہ موٹاپے اور بیماریوں کا شکار ہورہی ہے، یہ برگر، پیزا، فرنچ فرائیز اور ایسی ہی اشیاءپر مشتمل یہ غذا دماغ کے نظام کو بھی متاثر کرتی ہے اور ہم ضرورت سے زیادہ کھا لیتے ہیں بلکہ کچھ افراد میں تو یہ لت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ان میں فائبر، پروٹین اور دیگر فائدہ مند اجزاءبہت کم ہوتے ہیں مگر ریفائن اجناس اور چینی جیسے صحت کے دشمنوں کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسا نہیں کہ بالکل نہ کھائیں مگر اسے لت بنانے سے گریز کریں۔