سعودی خواتین کو موبائل کے ذریعے طلاق سے آگاہ کرنے کا قانون نافذ

اپ ڈیٹ 06 جنوری 2019

ای میل

نئے قانون کے تحت سعودی  خواتین اپنی طلاق سے متعلق لاعلم نہیں رہیں گی — فائل فوٹو
نئے قانون کے تحت سعودی خواتین اپنی طلاق سے متعلق لاعلم نہیں رہیں گی — فائل فوٹو

سعودی عرب میں خواتین کے لیے ایک نیا قانون متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت خواتین کو ان کی طلاق سے متعلق فیصلے سے بذریعہ موبائل ٹیکسٹ میسج آگاہ کیا جائے گا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس نئے قانون کا اطلاق آج (06 جنوری) سے کیا جارہا ہے تاکہ خواتین اپنی طلاق سے متعلق لاعلم نہیں رہیں۔

سعودی عرب کی مقامی خواتین وکلا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خفیہ طلاقوں کی روایت کو ختم کردے گا، اس سے قبل مرد اپنی بیویوں کے علم میں لائے بغیر ہی شادی ختم کردیتے تھے۔

یہ قانون اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خواتین اپنے ازداوجی رشتے سے متعلق مکمل طور پر آگاہ ہوں اور ان کے نان نفقے سمیت دیگر حقوق کی حفاظت کی جاسکے۔

مزید پڑھیں : سعودی عرب کی خواتین کا ’الٹا عبایا‘ پہن کر منفرد احتجاج

سعودی وکیل نسرین ال غامدی نے بلومبرگ کو بتایا کہ ’ نئے قانون کے تحت طلاق کے بعد خواتین کے نان نفقے کے حق کو یقینی بناتا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’ یہ اس امر کو بھی یقینی بناتا ہے کہ طلاق سے قبل جاری کی گئی کسی پاور آف اٹارنی کا غلط استعمال نہیں کیا جائےگا‘۔

ایک اور وکیل سمعیہ ال ہندی نےمقامی اخبار اوکاز کو بتایا کہ ’ اکثر خواتین نے ان کے علم میں لائے بغیر طلاق دیے جانے پر عدالت میں اپیل دائر کی ہوئی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب میں پہلی بار خاتون کو مرد کے ساتھ خبریں پڑھنے کی اجازت

یہ نیا قانون سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے متعارف کروائی گئیں اقتصادی اور معاشی اصلاحات کا حصہ ہے، انہی اصلاحات کےتحت خواتین کو فٹبال میچ دیکھنے اور روایتی طور پر مردوں کے لیے مختص سمجھی گئیں ملازمتوں کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

محمد بن سلمان کی جانب سے متعارف کروائی گئی اصلاحات کے تحت گزتشہ برس سعودی عرب میں فلموں کی نمائش اور سینما گھر کھولے جانے کی اجازت دی گئی تھی، وہیں پہلی بار سعودی خاتون اداکارہ نجات مفتاح بھی سامنے آئی تھیں۔

جس کے بعد سعودی عرب میں پہلی مرتبہ ایک خاتون صحافی کو کسی مرد کے ساتھ ٹی وی پر مشترکہ خبریں پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

سعودی خواتین آج بھی کیا نہیں کرسکتیں ؟

سعودی عرب میں آج بھی کئی کام ایسے ہیں جو خواتین اپنے شوہر ، والد ، بھائی یا بیٹے کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتیں جن میں پاسپورٹ کے لیے درخواست دینا،بیرون ملک سفر کرنا ،شادی کرنا، بینک اکاؤنٹ کھلوانا، کسی کاروبار کا آغاز کرنا، جیل سے آزادی حاصل کرنا اور دیگر شامل ہیں۔

سرپرستی کے اس نظام نے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے پیمانے پر صنفی امتیاز قائم کیا ہے۔