میرا دوست تو چلا گیا، مگر دوستی اب بھی برقرار ہے!

اپ ڈیٹ 09 جنوری 2019

ای میل

دنیا میں آنے کی ایک ترتیب بنائی گئی ہے، جیسے پہلے دادا، پھر والد اور پھر پوتے کی آمد ہوتی ہے، مگر دنیا سے جانے کی کوئی ترتیب موجود نہیں ہے۔ جس کی جتنی زندگی لکھی ہے وہ اتنی ہی جی کر اس جہاں فانی سے کوچ کر جاتا ہے۔

یہ 3 جنوری سہ پہر کا وقت تھا اور میں نمازِ ظہر سے فارغ ہوکر جلدی جلدی صدر میں واقع سینٹرل بروکس چرچ پہنچا۔ یہ کسی بھی چرچ میں داخل ہونے کا میرا پہلا تجربہ تھا، لیکن سچ پوچھیے تو یہ انتہائی تکلیف دہ موقع تھا کیونکہ آج میرے دوست رومیل شیراز کینتھ کی آخری رسومات اسی چرچ میں ادا کی جانی تھی۔

رومیل سے میرا تعلق اپنے صحافتی سفر کے آغاز یعنی تقریباً 15 سال پہلے اس وقت قائم ہوا جب میں نے بزنس رپورٹنگ شروع کی۔ اس وقت رومیل ایک پبلک ریلیشن کمپنی سے وابستہ تھا اور میں آتش جوان صحافی ہوا کرتا تھا۔ رومیل کے بااخلاق رویے نے مجھے بہت متاثر کیا اور یہی وجہ تھی کہ بات شناسائی تک محدود نہیں رہی۔

اسی دوران ہم بزنس رپورٹر دوستوں کا ایک گروپ بن گیا، جس میں اظہر علی خان، عامر فاروق ، محمد یاسر، رضوان بھٹی اور میں شامل تھے، جبکہ رومیل ہمارے گروپ کے باہری دائرے کا ایک رکن تھا۔ رومیل کے اندر صحافتی اثرات بہ درجہ اتم پائے جاتے تھے۔ اسی لیے دوستوں کے مشورے اور تعاون سے رومیل نے انگریزی اخبار میں بطور ٹرینی رپورٹر سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا اور یوں اب رومیل ہمارے گروپ میں بطور صحافی شامل ہوگیا تھا۔ پھر ہم سب اکثر معیشت کے لحاظ سے مشکل ترین خبروں پر مل جل کر کام کرتے اور اپنے اپنے اداروں کے لیے خبریں مرتب کرتے تھے۔

اس دوران رومیل کے ساتھ بیرون ملک متعدد سفر کرنے کا موقع ملا۔ 2007ء میں ترکی اور 2009ء میں چین کا اکھٹے سفر کیا اور بتدریج یہ شناسائی دوستی میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ رومیل نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر صحافت میں تیزی سے ترقی کی اور ایک چینل میں بطور پروگرام اینکر موقع میسر آگیا۔

یہ سال 2008ء کی بات ہے جب میری کراچی پریس کلب کی ممبر شپ ہوئی اور اس کے 2 سال بعد رومیل بھی اس کلب کا ممبر بن گیا۔ اور ہم دونوں پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) کی سیاست میں سرگرم ہوگئے۔ کے یو جے کا پہلا فیملی گالا ہم دوستوں نے رضوان بھٹی کی قیادت میں منعقد کیا۔ اس پروگرام کی فنڈنگ کے ساتھ ساتھ انتظامیہ بھی پروفیشنل انداز میں چلائی۔ اسی کارکردگی کی بنیاد پر ہمیں کے یو جے میں اہم عہدے دیے گئے۔

سال 2011ء میں، میں کے یو جے کا نائب صدر اور رومیل خزانچی کا عہدہ سنبھال چکے تھے۔ ہم دونوں نے کے یو جے کی فنڈنگ کو عطیات سے نکال کر کمرشل اسپانسر شپ پر منتقل کیا اور آج بھی کے یو جے کی آمدنی اسی بنیاد پر ہوتی ہے۔

2009ء میں چین کے دورے پر لی گئی تصویر
2009ء میں چین کے دورے پر لی گئی تصویر

چین میں رومیل راجہ کامران کیساتھ پوز دیتے ہوئے
چین میں رومیل راجہ کامران کیساتھ پوز دیتے ہوئے

اسی دوران رومیل کا چند لوگوں سے اختلاف ہوا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اس کے اختیارات میں مداخلت کی جارہی ہے اور یہ معاملہ بڑھتا ہوا ذاتی الزامات تک پہنچ گیا۔ اس اختلاف میں بعض افراد نے رومیل کو کے یو جے (دستور) چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تم ان پر مذہبی ہونے اور ایک کرسچن کے ساتھ امتیازی سلوک کا جوابی الزام عائد کردو، یوں تمھیں دوسری کے یو جے میں اچھا عہدہ مل جائے گا۔

لیکن اس پیشکش پر رومیل نے اپنا اقلیتی کارڈ کھیلنے کے بجائے دوٹوک جواب دیا کہ وہ سیاست میں مذہب کو نہیں لائے گا۔ اگر تنظیم چھوڑ دی تو الزامات سچ ثابت ہوجائیں گے اور مخالف پروپیگنڈا ساری پروفیشنل زندگی میرا پیچھا کرتا رہے گا، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ہم خود کو احتساب کے لیے پیش کریں۔

بس پھر ہم نے حسابات پیش کیے اور خود کو احتساب کے لئے پیش کردیا اور کہا کہ اگر پھر بھی کوئی سمجھتا ہے کہ کہیں کچھ غلط ہوا ہے تو چارج شیٹ پیش کرے اور ہم ہر فورم پر جوابدہی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس کے بعد ہوا یہ کہ اس پورے عمل سے میں اور رومیل بدمزہ ہوکر کلب اور کے یو جے کے معاملات میں غیر فعال ہوگئے۔

اس دوران رومیل ایکسپریس ٹی وی کے چینل ہیرو میں آگیا۔ اگرچہ وہ اچھا سوچ کر آیا تھا مگر یہاں آکر اس کو اندازہ ہوا کہ فیصلہ غلط ہوگیا ہے۔ سال 2012ء میں ایک طرف میری جیو سے ملازمت ختم ہوئی تو دوسری طرف رومیل ہیرو میں پھنسا ہوا تھا۔ لیکن اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ سال 2013ء میں ہمارے سینئر معروف کرائم رپورٹر اے ایچ خانزادہ اب تک نیوز کے بیورو چیف تعینات ہوئے اور یوں ہم دونوں کو بطور رپورٹر ملازمت مل گئی۔ یہاں بھی رومیل نے معیشت پر ایک گھنٹے کے پروگرام کی میزبانی شروع کردی اور کامیابی سے کی۔

خانزادہ صاحب ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے امریکا گئے تو چینل کی انتظامیہ نے ان کی چھٹی نامنظور کرتے ہوئے ملازمت ختم کرنے اور ان کی جگہ مجھے قائم مقام چیف رپورٹر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ رومیل کو صبح کی شفٹ کا انچارج بنادیا گیا۔

میری سخت مزاجی اور آزادانہ فیصلہ کرنے کی عادت کی وجہ سے میں اکثر ایسی منصوبہ بندی کردیتا جس سے رومیل کو صبح کی شفٹ چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ رومیل نے کئی مرتبہ اشاروں اشاروں میں ان مشکلات کا ذکر کیا مگر میں نے کبھی دھیان نہیں دیا۔ پھر سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ کچھ دوسرے لوگ بھی ہمیں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے میں لگے رہتے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دن رومیل پھٹ پڑا اور مجھ سے فون پر بہت سختی سے بات کی۔ لیکن ناجانے کیوں میں نے مزاج کے برخلاف اس کی بات کا پلٹ کر جواب نہیں دیا۔

فون پر ہونے والی اس گفتگو کے فوری بعد رومیل کو احساس ہوا کہ معاملہ بگڑ گیا ہے۔ اسے فوری طور پر کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کیا جائے، جس کے بعد اس نے عامر فاروق سے رابطہ کیا اور سارا معاملہ بتایا۔ بہرحال جب معاملہ کچھ سنبھلا تو اس دن ہم دونوں نے یہ اتفاق کیا کہ اب کچھ بھی ہوجائے، چاہے اس چینل سے نوکری ختم ہوجائے لیکن کوئی بھی معاملہ دوستی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، اور آخر تک ہم دونوں اس وعدے پر قائم رہے۔

اس دوران چینل کی انتظامیہ سے میرے معاملات بگڑ گئے جبکہ خانزادہ صاحب بھی امریکا سے واپسی پر ایک اور چینل کے بیورو چیف تعینات ہوگئے، لہٰذا ان سے درخواست کی کہ مجھے یہاں سے نجات دلائیں اور یوں انہوں نے ایک مرتبہ پھر میری جان خلاصی کی اور اپنے چینل میں بطور سینئر رپورٹر کی اسامی پر بھرتی کرلیا اور یہ نوکری آج بھی جاری ہے۔ دوسری طرف رومیل نے بھی نئے شروع ہونے والے چینل 92 نیوز میں بطور کامرس رپورٹر ملازمت اختیار کرلی۔

رومیل تو شروع سے ہی دبلاپتلا تھا، اگر اسمارٹ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ مگر 2013ء سے اس کے وزن میں تیزی سے کمی ہونے کے ساتھ ساتھ چہرے کی تازگی بھی کم ہونے لگی۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وجہ کیا ہے۔ رومیل نے کہا کہ اس کے پیٹ میں کیڑے ہیں اور وہ اس کا علاج کروا رہا ہے۔ لیکن تمام تر علاج کے باوجود وزن میں کمی کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ہم سمجھے کہ شاید کام کی شدت اور تناو کی وجہ سے رومیل کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

رومیل کی رہائش صدر میں ہے اور میرا نیا دفتر بھی فوارہ چوک کے قریب ہے، اس لیے اب دفتر میں تو نہیں مگر پریس کلب میں ہماری اکثر ملاقات ہوجایا کرتی تھی۔ رومیل ایک خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار رہا تھا۔ ہماری بہن اور رومیل کی بیوی پامیلا اسکول میں ملازمت کرتی تھیں۔ شام کے وقت بچوں کو تفریح کرانے اور دوستوں سے ملنے رومیل پریس کلب آجاتا اور میں بھی گھر جانے سے قبل چند لمحے رومیل کی فیملی کے ساتھ گزار لیتا۔

رومیل کے 3 بچے ہیں۔ آنا بڑی بیٹی، پھر جوشوا اور جیری سب سے چھوٹا ہے۔ پریس کلب کی بیٹھک میں دیگر دوست بھی شامل ہوتے چلے گئے جس میں زین اور خلیل ناصر میں شامل ہوگئے۔

پریس کلب کی بیٹھک
پریس کلب کی بیٹھک

رومیل کا بچپن والد کے سائے اور شفقت سے محروم رہا تھا۔ اس کو اور بہنوں کو والدہ نے بڑی محنت و مشقت سے پالا تھا۔

بچپن والد کے سائے کے بغیر گزارنے کی وجہ سے وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ایک باپ اپنے بچوں کی کس طرح تربیت کرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ لڑکپن میں پہنچ جانے والے جوشوا کے سوالات کے جواب دینے کی ذمہ داری میری لگادی جاتی تھی اور پھر جوشوا مختلف موضوعات پر مجھ سے بات کرتا رہتا۔

رومیل کی 92 نیوز میں ملازمت بہت اچھی چل رہی تھی۔ مگر وزن میں کمی کا مسئلہ جوں کا توں تھا۔ اس دوران بھابھی پامیلا نے انکشاف کیا کہ رومیل کے سینے پر بائیں جانب سے بڑا غدود بڑھ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے رومیل کو درد بھی ہونے لگا ہے۔ دوستوں اور گھر والوں کے اصرار پر رومیل نے 23 مارچ 2017ء کو اپنا آپریشن کرایا جس میں ڈاکٹروں نے اس غدود کو نکال دیا۔ اس غدود کی بائی اوپسی (Biopsy) رپورٹ میں وہ خطرناک انکشاف ہوا جس نے ہم سب کی زندگی کو تبدیل کرکے رکھ دیا اور اب ہم سب دوستوں کی دوستی پرکھنے کا وقت بھی آگیا۔

یکم اپریل 2017ء کو رومیل کے بیٹے جوشوا کی سالگرہ تھی اور اسی دن لیبارٹری سے ملنے والی رپورٹ میں رومیل کو خون کے سرطان (بلڈ کینسر) کی تشخیص ہوئی۔

رومیل کی رپورٹ ملنے کے بعد ہم سب اس کے گھر جمع ہوئے اور علاج کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ جتنی رقم رومیل کے پاس اس وقت موجود تھی وہ علاج کے لئے تقریباً ناکافی تھی۔ پہلی مرتبہ پامیلا روپڑی اور بطور بھائی ہم نے تسلی دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ رومیل کے علاج کی ذمہ داری ہم لیتے ہیں اور ہم دوست علاج سے متعلق ہر چیز پوری کریں گے۔

کینسر کی تشخص ہوتے ہی سب دوست متحرک ہوگئے۔ ہمارے وہ دوست جو ہیلتھ رپورٹنگ کرتے تھے ان کی خدمات حاصل کی گئیں۔ خاص طور پر حامد الرحمان، وقار بھٹی، رضوان اور خلیل ناصر نے متعدد کینسر ماہرین سے رابطہ کیا اور باہمی مشورے سے 18 اپریل سے کیموتھراپی شروع ہوئی۔ 3 سائیکل ہماری نظر میں کامیابی سے مکمل ہوئے۔ کیموتھراپی کے دوران رومیل اپنی گاڑی خود ہی چلا کر جاتا اور واپس بھی خود ہی گھر آجاتا یا پھر اپنے دفتر چلا جاتا تھا۔

رومیل کینیتھ اپنی فیملی کے ہمراہ
رومیل کینیتھ اپنی فیملی کے ہمراہ

رومیل کینیتھ اپنی والدہ کے ساتھ
رومیل کینیتھ اپنی والدہ کے ساتھ

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی سرکاری تدفین کی کوریج کے دوران رومیل کو بخار محسوس ہوا اور ہم نے بخار کو بہت ہی نارمل لیا۔ مگر کیا پتہ تھا کہ یہ ہلکا بخار رومیل کے اعصابی نظام کو توڑ کر رکھ دے گا۔

مگر اللہ کی قدرت دیکھیں کہ وہ ہر چیز کا پہلے سے انتظام کرکے رکھتا ہے۔ ویسے تو کراچی میں بارش ہوتی ہی بہت کم ہے اور میں عام طور پر موٹر سائیکل کی سواری استعمال کرتا ہوں مگر رات کو ہونے والی بارش کی وجہ سے موٹرسائیکل کے بجائے میں نے گاڑی میں سفر کرنا مناسب سمجھا۔ ان دنوں میں آئی بی اے کے سینٹر فار ایکسی لینس جنرنل ازم میں ایک پروفیشنل کورس کررہا تھا۔ دوپہر کے وقت بھابھی پامیلا کی گھبرائی آواز میں فون کال موصول ہوئی کہ رومیل نے اپنا ہوش و حواس کھو دیا ہے، جلدی سے گھر پہنچیں۔ آئی بی اے سٹی کمیپس سے ایمپریس مارکیٹ کے قریب رومیل کی رہائش گاہ پہنچنے میں چند منٹ لگے۔

اتنے میں بھابھی پامیلا چند پڑوسیوں کی مدد سے رومیل کو سیڑھیوں سے نیچے اتارنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔ ہم نے فوری طور پر رومیل کو گاڑی میں ڈالا اور تیزی سے ڈیفنس میں واقع نیشنل میڈیکل سینٹر کا رخ کیا مگر رومیل کی حالت دیکھتے ہوئے جناح اسپتال جانے کا فیصلہ ہوا۔ اتنے میں رضوان بھٹی کا فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ جناح استپال میں ہمارے ہیلتھ رپورٹر حامد الرحمان اور وقار بھٹی پہلے ہی موجود ہیں۔

رومیل نیم بے ہوش تھا اور مستقل ہاتھ پاؤں چلا رہا تھا اور سر پٹخ رہا تھا۔ ایمرجنسی کی انچارج سیمی جمالی نے رومیل کی حالت دیکھتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ بچنا مشکل ہے مگر میں کوشش کرتی ہوں۔ رومیل کو 3 ڈرپس لگادی گئیں اور زندگی بچانے کے انجکشن بھی لگائے گئے اور چند گھنٹوں کی صبر آزما اور حوصلہ شکن انتظار اور میڈیکل اسٹاف کی سرتوڑ کوشش نے رومیل کو دوبارہ زندگی مل گئی۔

بیماری سے ٹھیک ہونے کے بعد رومیل اور ان کی بیگم سیمی جمالی سے پریس کلب میں ملاقات کررہے ہیں
بیماری سے ٹھیک ہونے کے بعد رومیل اور ان کی بیگم سیمی جمالی سے پریس کلب میں ملاقات کررہے ہیں

23 دسمبر کو رومیل کی ریڑھ کی ہڈی میں کینسر کے اثرات دکھائی دیے اور رومیل تقریباً معذور ہوگیا۔ خلیل ناصر بھائی کی رشتہ دار پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے کرن اسپتال میں ڈاکٹر تھیں۔ ان سے مشورہ کیا گیا تو انہوں نے ریڈی ایشن تجویز کی اور یہ ریڈی ایشن 8 جنوری سے 18 فروری تک جاری رہی۔ اس عمل سے رومیل کی ریڈھ کی ہڈی پر اثرات میں کمی ہوئی اور وہ سہارے سے چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔ مگر کینسر رومیل کی ہڈی تک پہنچ چکا تھا۔ ریڈی ایشن کے لئے رومیل کو اس کے فلیٹ سے اسپتال اور واپس لانے کی زیادہ تر ذمہ داری خلیل ناصر، زین علی، احتشام مفتی اور عاصم بھٹی نے نبھائی۔

اپریل 2018ء میں ٹیسٹ کرانے پر پتہ چلا کہ کینسر کا مرض دوبارہ جڑ پکڑنے لگا ہے اور اثرات رومیل کے اعضاء تک پہنچ گئے ہیں۔ جس کے بعد ڈاکٹروں نے ایڈوانس کیموتھراپی کا مشورہ دیا۔ اس مرتبہ دوستوں کے باہمی تعاون سے آر چوپ کیمو تھراپی (R-CHOP chemotherapy) کا بندوبست کیا گیا۔ لیکن جیسے ہی پہلی ڈوز دی گئی رومیل کی حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی۔ رومیل کے بون میرو میں ملیریا کی نشاندہی ہوئی۔ اس بخار نے رومیل کے جسم کو ایسا نچوڑا کہ اب جسم میں بس ہڈی اور کھال باقی رہ گئی تھی۔ اس بخار سے باہر نکلنے کے لیے رومیل کو تقریباً 2 ہفتے اسپتال میں رہنا پڑا۔

ٹیسٹ رپورٹس سے معلوم ہوا کہ کینسر پر کیموتھراپی اثر نہیں کررہی بلکہ یہ الٹا مریض کے جسم کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ جتنی تیزی سے کیموتھراپی ہوتی رہے گی کینسر بھی اتنی ہی تیزی سے بڑھتا رہے گا، لہٰذا ان کا یہی خیال تھا کہ کینسر کا علاج بند کردیا جائے۔

رومیل اپنے بچوں کے ساتھ
رومیل اپنے بچوں کے ساتھ

رومیل کی شادی کے موقع پر لی گئی تصویر
رومیل کی شادی کے موقع پر لی گئی تصویر

رومیل کی رپورٹس ملک بھر اور بیرون ملک موجود ڈاکٹروں کو ارسال کی گئیں اور وہاں سے تحریری یا زبانی جواب وہی ملا جو اس سے قبل ڈاکٹر دے چکے تھے۔ ہم نے بھرپور کوشش کی کہ دنیا میں استعمال ہونے والا کوئی ایسا علاج ڈھونڈ نکالا جائے جو بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے سود مند ثابت ہو، مگر کوئی کامیابی نہیں ملی۔

ہم رومیل کے علاج سے متعلق ڈاکٹروں سے مایوس ہوگئے تھے، مگر رومیل ایک جنگجو کی طرح زندگی کی جنگ میں کھڑا تھا۔ تمام تر مایوس کن صورتحال کے باوجود اس نے دفتر آنا جانا شروع کردیا۔ ایسے میں چینل کے مالکان کی جانب سے رومیل کو پیغام دیا گیا کہ اگر وہ طبّی بنیادوں پر دفتر نہیں آسکتے تو کوئی بات نہیں، ان کی آدھی تنخواہ اور علاج کا پورا خرچ چینل اٹھائے گا، اس لیے اگر رومیل چاہے تو گھر سے بیٹھ کر کام کرسکتا ہے۔

بیماری میں نجی شعبے کی نوکری چلی جانا عام سی بات ہے۔ مگر ایک ایسے وقت میں جب عامل صحافیوں کو ملازمت سے بلاوجہ برطرف کیا جارہا ہے یا تنخواہوں میں کٹوتی کی جارہی ہے، 92 نیوز کے مالکان نے رومیل کا بھرپور خیال رکھا جس سے بیماری میں رومیل کے گھر کا چولہا ٹھنڈا نہیں ہوا۔ وہ اپنے گھر سے چینل پر بیپر دیتے رہے۔ اسٹاک مارکیٹ کی اپ ڈیٹ ہو یا معیشت میں بڑی تبدیلی رومیل ہر خبر سے اپنے دفتر کو آگاہ کرتے رہے۔ دفتر کی جانب سے ملنے والی ورک شیٹ میں رومیل کے ذمے مختلف کام لگائے جاتے رہے جو اس کے حوصلے کو بڑھاتے رہے۔ وہ کبھی کسی گیسٹ کو لائن اپ کرتا، کسی معاملے پر اپنی معلومات اور تجزیہ بذریعہ بیپر شئیر کرتا یا پھر اگر کسی خبر یا پیکج کا اسکرپٹ درکار ہوتا تو اپنے موبائل پر ٹائپ کرکے دفتر کو فراہم کردیتا اور یہ سلسلہ دنیا چھوڑ جانے سے چند ہفتے قبل تک جاری تھا۔

گھر میں پڑے رہنے سے رومیل تنہائی کا شکار ہونے لگا تھا۔ کبھی خلیل ناصر بھائی، کبھی زین اور کبھی کسی اور بلا لیتا۔ اسی تنہائی کو دُور کرنے ہم سب دوست رومیل کے گھر ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ تو چلے ہی جاتے تھے۔ اس موقع پر رومیل کی حالت اس شعر کے ذریعے بیان ہوسکتی ہے

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

بھابھی پامیلا اس بات احساس ہرگز نہ ہونے دیتیں کہ گھر میں ایک شدید بیمار شخص موجود ہے۔ ہم سب کے لئے کھانے کا بھرپور بندوبست کرتیں، رومیل بھی کھل اٹھتا اور چند لقمے ہمارے ساتھ کھا لیتا۔ اس پورے عمل سے اس بات کا ادراک شدت سے ہوا کہ بیمار کی تیمارداری کا حکم کیوں دیا گیا ہے۔

بیماری کے باوجود رومیل کے دوستوں نے ان کی سالگرہ کے موقع پر خاص انتظام کیا
بیماری کے باوجود رومیل کے دوستوں نے ان کی سالگرہ کے موقع پر خاص انتظام کیا

سال 2018ء کا کرسمس رومیل کا آخری ثابت ہوا۔ 25 دسمبر کی شام ہم دوست رومیل کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ رومیل سویا ہوا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ہم کرسمس کے موقع پر رومیل کے گھر آئے ہوں، لیکن ہاں یہ پہلا سال ضرور تھا جب رومیل اور ان کے اہل خانہ کرسمس کی عبادت کے لئے چرچ نہیں جاسکے تھے۔ بچوں نے نئے کپڑے بھی نہیں پہنے تھے۔ مگر جوشوا، آنا اور جیری کے چہرے پر خوشی نمایاں تھی۔

اس خوشی کے بارے میں دریافت کیا تو بتایا گیا کہ رومیل ہمت کرکے ہفتوں بعد اپنے بیڈ سے اٹھا اور ڈرائنگ روم میں بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارا ہے۔ اسی لئے تھک بھی زیادہ گیا ہے اور سو گیا ہے۔ چند منٹ کے انتظار کے بعد رومیل دوبارہ اٹھ گیا اور بات چیت کی محفل ایک مرتبہ پھر گرم ہوگئی اور دیر تک چلتی رہی۔

کراچی پریس کلب کے انتخابات میں حصہ لینے کی وجہ سے کرسمس کے بعد میں رومیل کے گھر نہیں جاسکا۔ 29 دسمبر کی صبح سے ہی کلب کے الیکشن کے سلسلے میں ووٹنگ جاری تھی۔ تمام دن مصروف رہا اور جب ابھی ووٹنگ کا وقت ختم ہونے میں تقریباً ایک گھنٹہ باقی تھا تو زین نے اطلاع دی کہ رومیل ووٹ ڈالنے کلب آنا چاہتا ہے۔ فوری بھابھی پامیلا کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ گھر سے نکل چکے ہیں۔

یہ رومیل کی آخری سماجی سرگرمی تھی۔ وہ وہیل چیئر پر ووٹ ڈالنے وکٹری کا نشان بناتا ہوا آیا۔ یہ اسی کی ہمت تھی کیونکہ بیماری جس نہج پر پہنچ چکی تھی، اس میں تو رومیل کو چھونے سے بھی تکلیف ہوتی تھی۔ رومیل نے اس دن اپنا ووٹ کاسٹ کیا، کچھ دیر کلب میں بیٹھا گپ شپ کی اور پھر گھر چلا گیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میں آخری مرتبہ رومیل کو زندہ دیکھ رہا ہوں۔

پریس کلب کے انتخابات کے موقعے پر رومیل کینیتھ وکٹری کا نشان بنا رہے ہیں
پریس کلب کے انتخابات کے موقعے پر رومیل کینیتھ وکٹری کا نشان بنا رہے ہیں

کلب الیکشن کے نتائج آنے اور جشن منانے کے بعد جب فرصت ہوئی تو بھابھی پامیلا سے رابطہ کیا کہ رومیل کی طبعیت کا پتہ چل سکے۔ فون کی دوسری طرف سے خلاف توقع ایک خوش باش آواز سنائی دی۔ پریس کلب سے واپسی پر رومیل بہت خوش ہوا۔ بقول بھابھی کہ اس کے اندر کچھ پالینے اور ہدف مکمل کرلینے کی خوشی تھی۔

لیکن اگلے ہی دن یعنی 30 دسمبر کی شام اطلاع ملی کہ میرا دوست ایک مرتبہ پھر اسپتال پہنچ گیا ہے اور یکم جنوری کی صبح رضوان بھٹی کا فون آیا کہ رومیل اب اس دنیا میں نہیں رہا۔

رومیل ایک راسخ العقیدہ عیسائی تھا۔ وہ اپنے مذہب پر پوری طرح عمل کرتا تھا۔ چرچ کی عبادت کی وجہ سے ہم کبھی بھی اتوار کے روز کوئی پکنک کا پروگرام نہیں بناسکے۔ اس کے علاوہ رومیل اپنے مذہب کے مطابق 40 روزے بھی رکھتا تھا۔ مگر وہ دیگر مذاہب کا احترام بھی کرتا تھا۔ رمضان المبارک کے دوران وہ ہم سب کے سامنے کھانے پینے سے گریز کرتا تھا اور مذاق میں کہتا بھی تھا کہ یار مجھے تو 70 روزے رکھنا پڑتے ہیں۔ 40 اپنے اور 30 تم لوگوں کے۔ عیدین پر رومیل اور بھابھی کی طرف سے مبارکباد کا پیغام ضرور ملتا تھا۔ دوسری طرف رومیل کے دوستوں کی ایک طویل فہرست ہے، جس میں بڑی تعداد اگرچہ راسخ العقیدہ مسلمان نہ سہی مگر اپنے مذہب پر بہت حد تک عمل کرنے والوں کی ہے۔

رومیل کی داستان کینسر سے لڑائی کرنے والے فرد کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی بین المذاہب ہم آہنگی، ایک دوسرے کے احترام اور دوستی کی ہے۔ یہ داستان صرف رومیل اور اس کے دوستوں کی نہیں ہے بلکہ یہ عام پاکستانیوں کی داستان ہے جو روز مرہ زندگی میں باہمی مذہبی اختلاف کے باوجود مل جل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ ایسی کہانیاں پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں۔

آئندہ موقع ملا تو اپنے دھوبی بابو رام کی کہانی بھی تحریر کروں گا جو میری نماز کے کپڑے استری کرکے لاتا ہے یا پھر اپنی پڑوسی بھاگونتی اور اپنی والدہ کی دوستی کے بارے میں لکھوں گا کہ ہم مسلمان بچوں نے کس طرح بھاگونتی کے آنگن میں کھیل کر اپنا بچپن گزارا ہے۔ ہم سب کو یہ کہانیاں ڈھونڈنے اور لوگوں کو سنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پاکستانی معاشرے میں موجود ایک مثبت چہرے کو اجاگر کرسکیں۔