امریکا، افغان طالبان مذاکرات پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے

اپ ڈیٹ 09 جنوری 2019

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی اور طالبان نمائندوں کے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع طور پر ہونے والے 2 روزہ اجلاس کو بھی مؤخر کرنے پر امن مذاکراتی عمل پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے اور قیامِ امن کے لیے ہونے والے متوقع مذاکرات کا چوتھا دور ہوگا۔

اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے افغان حکام کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے سے انکار پر یہ اجلاس ملتوی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان نے قطر میں امریکا کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کردیئے

دوسری جانب افغانستان میں امن عمل کی امریکی کوششوں کے تحت تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹیلی فون کیا اور ان کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

دونوں سربراہان کی گفتگو کے بارے میں وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے 2019 میں امریکا-بھارت اسٹریٹجک پارٹنرشپ مضبوط کرنے اور افغانستان میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جن کا افغانستان میں موجود 14 ہزار فوجی دستوں کی تعداد نصف کرنے کا منصوبہ ہے، نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ روس، پاکستان اور بھارت افغان تنازع کو ختم کرنے کے لیے وسیع کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں: طالبان نے امن مذاکرات کے مقام کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے ایک معاون کا کہنا تھا کہ امریکی عہدیدار نے دسمبر میں دورے کے دوران تہران سے افغانستان سے بات چیت کرنے کے لیے درخواست کی تھی۔

تاہم امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے ’تسنیم‘ کی رپورٹ کی تردید کردی تھی ، ترجمان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکی حکومت ایران سے قومی سلامتی کے ضروری معاملات پر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں موجود سفارتی مبصرین کی تمام توجہ امریکا طالبان مذاکرات کے موخر ہونے پر ہے، قبل ازیں دونوں فریقین نے سعودی دارالحکومت ریاض میں ملاقات کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا لیکن بعد میں طالبان نے یہ شکایت کرتے ہوئے ملاقات کرنے سے انکار کردیا کہ سعودی حکومت مذاکرات میں افغان حکام کو شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں امن: ایران اور طالبان کے مابین مذاکرات

قبل ازیں بین الاقوامی خبررساں ادارے نے مذاکرات کا مقام تبدیل ہونے اور 2 روزہ مذاکرات دوحہ میں منعقد ہونے کی رپورٹ دی تھی ، تاہم بعد میں متعدد بین الاقوامی خبررساں اداروں نے بتایا کہ طالبان نے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں بھی شرکت سے منع کردیا ہے اور انکا کہنا تھا کہ قطر بھی ان پر اس عمل میں افغان حکام کو شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔