شرائط کے بغیر افغان طالبان سے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں، بھارتی آرمی چیف

09 جنوری 2019

ای میل

افغانستان میں قیام امن بھارت، خطے اور پاکستان کے حق میں ہے، بھارتی آرمی چیف  — فوٹو : دی ہندو
افغانستان میں قیام امن بھارت، خطے اور پاکستان کے حق میں ہے، بھارتی آرمی چیف — فوٹو : دی ہندو

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ ’پیشگی شرائط‘ کے بغیر امن مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق بپن راوت نے نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مشترکہ تعاون سے منعقدہ ریسینا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے افغان طالبان سے مذاکرات سے متعلق اظہار خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک ہونے چاہئیں جب تک وہ کوئی پیشگی شرائط نہیں رکھتے اور افغانستان میں امن اور استحکام قائم کرنے کے خواہاں ہوں۔

بھارتی آرمی چیف نے یہ اعتراف کیا کہ افغانستان میں قیام امن بھارت، پاکستان اور پورے خطے کے حق میں ہے‘۔

مزید پڑھیں : افغان طالبان نے قطر میں امریکا کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کردیئے

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ جب آپ پیشگی شرائط رکھتے ہیں تواس سے فرضی فتح کا احساس ہوتا ہے کہ شرط رکھنے والا خود کو طاقت ور سمجھتا ہے اور اسی حیثیت سے مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہتا ہے‘۔

بھارتی آرمی چیف نے الزام لگایا کہ پاکستان نے افغانستان کو بیک یارڈ کی طرح استعمال کیا اور اب افغان تنازع کے ایسے حل کے لیے کوشش کررہا ہے جو اس کے لیے مناسب ہوگا۔

خیال رہے کہ پاکستان افغان تنازع کے سیاسی حل کے لیے افغانستان کے ساتھ کام کررہا ہے تاکہ 17 سال کے طویل عرصے سے جاری جنگ کا پُرامن حل نکالا جاسکے۔

تاہم گزشتہ روز امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اور طالبان کے مابین مذاکرات کا چوتھا دور منسوخ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا، افغان طالبان مذاکرات پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے

اس حوالے سے افغان طالبان نے تصدیق کی تھی کہ مذاکرات سے متعلق ایجنڈے پر تحفظات کے نتیجے میں طے شدہ دو روزہ اجلاس منسوخ کیا گیا۔

افغان مفاہمی عمل کے سلسلے میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد 4 ممالک کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے جاری بیان کے مطابق 2 ہفتوں پر مشتمل اس دورے میں امریکی نمائندہ خصوصی افغانستان، پاکستان، بھارت اور چین کا دورہ کریں گے اور وہاں کی قیادت سے افغان امن عمل پر بات چیت کریں گے۔