چین: کاروں کی سالانہ فروخت میں 20 سال بعد کمی

اپ ڈیٹ 09 جنوری 2019

ای میل

—فائل/فوٹو:اے ایف پی
—فائل/فوٹو:اے ایف پی

چین اور امریکا کے درمیان 2018 میں معاشی جنگ کے اثرات آٹو صنعت پر پڑے اور چین میں 20 سال بعد کاروں کی سالانہ فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چائنا پسنجر کار ایسوسی ایشن (سی پی سی اے) کے اعداد وشمار میں ظاہر کیا گیا ہے کہ 2018 میں 2 کروڑ24 لاکھ کاریں کم فروخت ہوئیں جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 5 اعشاریہ 8 فیصد کم ہے۔

سی پی سی اے کے مطابق گزشتہ برس کے برعکس دسمبر میں کاروں کی فروخت 19 اعشاریہ 2 فیصد گر گئی۔

سرکاری دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ گرتی ہوئی مارکیٹ نے چین کی پیداواری صنعت کو شدید متاثر کیا جو گزشتہ ماہ دو سال سے زائد عرصے کے بعد کم ہوئی۔

خیال رہے کہ چین اور امریکا کے درمیان معاشی جنگ سے اندرونی معیشت سست پڑ گئی اور 2018 میں 6.5 فیصد بہتری کی توقع تھی جو 2017 کے 6.9 کے مقابلے میں کم تھی۔

برآمدات کی مایوس کن کارکردگی نے چین کو اپنی معشیت کی بہتری کے لیے صارفین کی بڑی تعداد پر انحصار کرنا پڑا۔

دوسری جانب حکومت نے گزشتہ قرضوں کے خلاف بھرپور مہم چلائی اور چند صارفین کو کاروں کی خریداری میں منفعت بخش اقدامات کو روک دیے تھے۔

سی پی سی اے کے سیکریٹری جنرل کوئیڈونگشو کا کہنا تھا کہ کاروں کی فروخت میں کمی کی وجہ گزشتہ برس کا رجحان ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے امید ہے کہ معاملہ یہی ہو’۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژینہوا کو رواں ہفتے سرکاری عہدیدار نے کہا کہ آٹو اور گھریلو صنعت کو بہتر کرنے کے لیے منصوبے بنائے جائیں گے۔

حکام کا خیال ہے کہ کاروں کی فروخت کو بڑھانے کے مواقع اب بھی موجود ہیں۔

صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نائب وزیر شین گیوبن نے گزشتہ برس اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ‘کاروں کی پیداوار اور فروخت میں تیزی کا رجحان ختم ہوچکا ہے اور آٹومارکیٹ میں سست رفتار معمول بن سکتی ہے’۔