فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستانی کوششوں پر اظہارِ اطمینان

اپ ڈیٹ 10 جنوری 2019

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک کے لیے پاکستان کی جانب سے کی گئی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کردیا تاہم پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے رواں برس مئی سے قبل مزید ٹھوس اقدمات کرنے کی ہدایت بھی کردی۔

واضح رہے کہ سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں جاری ایف اے ٹی ایف کی 3 روزہ کانفرنس میں شرکت کررہا ہے۔

وفد کے دیگر اراکین میں اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی)، قومی ادارہ برائے انسدادِ دہشت گردی (نیکٹا)، وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) ، وفاقی بورڈ برائے آمدن (ایف بی آر) اور مالیاتی امور پر نظر رکھنے والے شعبے کے نمائندے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کو پاکستانی اقدامات سے آگاہ کرنے کیلئے وفد روانہ

اجلاس کی 2 روزہ کارروائی کے دوران ہونے والی پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ’ پہلی مرتبہ ہمارے وفد کو ایسا محسوس ہوا کہ ایف اے ٹی ایف نے ہماری اب تک کی کارکردگی کو سراہا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ادارے نے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک کے لیے مقررہ 27 معیارات کی بنیاد پر بنائے گئے 10 نکاتی ایکشن پلان کے زیادہ ترحصے کا جائزہ لے لیا ہے تاہم ایک دو غیر اہم نکات پر آخری روز غور کیا جائے گا جب ایف اے ٹی ایف کی جانب سے حتمی ردِ عمل دیا جائے گا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف نے کچھ معاملات کی نشاندہی کی ہے جسے مئی تک عملی جامہ پہنانا ہے تاہم فروری سے ان کا آغاز کیا جانا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستانی اقدامات غیر تسلی بخش قرار

انہوں نے مزید بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کا آئندہ جائزہ اجلاس فروری میں پیرس میں منعقد ہوگا جس کے بعد مئی میں اس کا وسیع پیمانے پر بین الاقوامی وعدوں کے تحت معائنہ کیا جائے گا جو ممکنہ طور پر سری لنکا یا سڈنی میں منعقد ہوگا۔

چناچہ مئی کے اجلاس کے بعد اس بات کا فیصلہ کرلیا جائے گا کہ ستمبر تک گرے لسٹ سے اخراج کے لیے پاکستانی اقدامات قابلِ قبول ہیں یا نہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ ہونے والے نظر ثانی اجلاس سے قبل پاکستان کی جانب گزشتہ ہفتے ارسال کی گئی رپورٹ کا جائزہ لے لیا تھا جس میں اب تک کی کارکردگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات اور جوابات موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایف اے ٹی ایف کا اقدام شرمندگی کا باعث لیکن معیشت پر اثر انداز نہیں ہوگا‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی ٹیم اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں انسداِدِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے مطمئن نظر آئی۔

واضح رہے کہ جون 2018 میں پاکستان نے اعلیٰ سیاسی سطح پر ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کے ساتھ انسداِدِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک لیے 10 نکاتی ایجنڈے پر پوری طرح عمل درآمد کرنے کا عزم کیا تھا تاکہ ان مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

مذکورہ ایکشن پلان پر کامیابی سے عمل کرنے اور اے پی جی کی جانب سے اس کی تصدیق ہونے کے بعد ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے پاکستان کے نام کا اخراج کرے گی بصورت دیگر ستمبر میں اسکا نام بلیک لسٹ میں شامل کردیا جائے گا۔