العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

10 جنوری 2019

ای میل

سابق وزیراعظم کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔
سابق وزیراعظم کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر ہوگئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا 2 رکنی بینچ نواز شریف کی اپیل پر سماعت 21 جنوری کو کرے گا۔

بینچ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ہوگا۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نے سزا کے خلاف اپیل کے علاوہ سزا معطلی کی درخواست بھی دائر کی تھی جسے ساتھ ہی سنا جائے گا۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی 7 سال قید اور جرمانوں کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے اور استدعا کی ہے کہ سزا معطل کرتے ہوئے رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ چیلنج کردیا

مسلم لیگ (ن) کے قائد اس وقت قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت سے سزا پانے کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔

نواز شریف نےرواں ماہ یکم جنوری کو اپنے وکیل خواجہ حارث کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

خواجہ حارث کی جانب سے جمع کروائی گئی اس 61 صفحات پر مشتمل اپیل میں دعویٰ کیا گیا کہ معزز عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کا فیصلہ قانون کی غلط تشریحات اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر کیا۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی تاریخ

بعد ازاں تینوں مجرمان نے اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں جس پر کئی سماعتوں کے بعد 19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔

ایون فیلڈ ریفرنس کی سزا معطلی کے بعد العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی طویل سماعتیں احتساب عدالت میں ہوئی تھیں اور 19 دسمبر 2018 کو جج ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 24 دسمبر کو سنایا گیا۔