نئی گج ڈیم کی لاگت کم کرنے کیلئے کمیٹی قائم

اپ ڈیٹ 11 جنوری 2019

ای میل

سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس وفاقی وزیر خسرو بختیار کی سربراہی میں ہوا—فائل فوٹو
سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس وفاقی وزیر خسرو بختیار کی سربراہی میں ہوا—فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی اور سندھ حکومتیں 46 ارب 50 کروڑ روپے کے نئی گج ڈیم کی مشترکہ فنانسنگ پر رضامند نہ ہوسکیں لیکن اس کی متوقع لاگت کو مزید کم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے پر اتفاق کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کی سربراہی میں سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس ہوا، جس میں نئی گج ڈیم کی لاگت کو مزید معقول بنانے کے لیے سندھ حکومت اور وفاقی وزارت برائے منصوبہ بندی اور آبی وسائل کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو 3 روز میں اپنی رپورٹ جمع کروائی گی۔

مزید پڑھیں: نئی گج ڈیم کی تعمیر: واپڈا کو 15 دن میں نیا پی سی ون بنانے کا حکم

اس فورم کی جانب سے ڈیم منصوبے کو متعقلہ اداروں کے پاس واپس بھیجا گیا اور تکنیکی مسائل کا حل، تخمینہ لاگت کو معقول بنانے، فنانسنگ کے لیے ایک روڈ میپ یقینی بنانے اور ایک ہفتے کے اندر کلیئرنس دوبارہ حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اس حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ منصوبے کی لاگت 47 ارب 73 کروڑ روپے سے کم کرکے 46 ارب کروڑ 5 ارب روپے کی گئی لیکن سی ڈی ڈبلیو پی اس پر متفق نہیں تھی۔

سندھ حکومت کے ایک نمائندے نے اجلاس کو بتایا کہ وہ پہلے ہی مرکز سے بجٹ کے مطابق کم رقم کا سامنا کر رہا ہے لہٰذا وہ مزید اضافی بوجھ نہیں لے گا۔

اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ اب بھی لاگت کا تخمینہ زیادہ ہے اور اس میں مزید کمی کی ضرورت ہے، جس کے لیے کمیٹی کو لاگت کے معاملے پر ایک اور نظرثانی کی ضرورت ہے اور اس کی فنانسنگ کے معاملے کو ایک مناسب سطح تک لے جانا چاہیے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے یہ موقف اپنایا گیا کہ نئی گج ڈیم سے سندھ میں پانی کی کمی دور اور 28 ہزار ایکڑز اراضی سیراب آئے گی، لہٰذا اس کی فنانسنگ کو مشترکہ طور پر صوبائی اور وفاقی حکومت کو کرنی چاہیے کیونکہ مالی رکاوٹوں کے باعث خالصتاً صوبائی نوعیت کے منصوبے کی مکمل لاگت وفاقی حکومت اکیلے پوری نہیں کرسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: نئی گج ڈیم کی تعمیر میں تاخیر: ’کھانچے مارنے کیلئے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں‘

علاوہ ازیں باضابطہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں حوالہ دیا گیا کہ پولیو کے خاتمے لیے 98 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا ہنگامی پلان کو بعض مشاہدوں کے خاتمے کے بعد نیشنل اکنامک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

اجلاس کے دوران پنجاب پولیس کے 17 ارب 52 کروڑ روپے کے کمانڈ، کنٹرول اور مواصلاتی منصوبے کو ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری کے لیے بھیجنے کی سفارش کی گئی۔