خواہش تھی نئی گج ڈیم کی تعمیر کا معاملہ میرے ہوتے ہوئے حل ہو، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 11 جنوری 2019

ای میل

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار 17 جنوری کو ریٹائرڈ ہورہے ہیں—فائل فوٹو
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار 17 جنوری کو ریٹائرڈ ہورہے ہیں—فائل فوٹو

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق ریمارکس دیے ہیں کہ خواہش تھی کہ میرے ہوتے ہوئے معاملہ حل ہوجاتا، مگر کچھ خواہشیں، خواہشیں ہی رہ جاتی ہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سمات ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں ڈیم تعمیر کرنے کی سفارش نیشنل اکنامک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو کردی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: 'وزیراعظم کو جاکر بتادیں کہ اب وہ خود ڈیم کا افتتاح کریں'

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح تو یہ معاملہ ایکنک میں جاکر پھنس جائے گا، خواہش تھی کہ میرے ہوتے ہوئے معاملہ حل ہوجاتا، مگر بعض خواہشیں خواہشیں ہی رہ جاتی ہیں۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار 17 جنوری کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہورہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے پیر 14 جنوری تک سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس کے منٹس عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے منگل کو وزیر توانائی عمر ایوب خان، وزیر خزانہ اسد عمر اور سیکریٹری کابینہ کو طلب کرلیا۔

نئی گج ایک ہل ٹورینٹ (پانی کا ماخذ) ہے جو بلوچستان کے خضدار ضلع سے نکلتا ہے اور کچ کے میدانی علاقوں سے گزرنے کے بعد یہ بالاخر منچھر جھیل میں داخل ہوتا ہے، نئی گج کا علاقہ 8 ماہ کے لیے خشک رہتا ہے جبکہ مون سون کے سیزن کے دوران 4 ماہ یہاں پانی رہتا ہے۔

منچھر جھیل کے اپنی حد پر پہنچنے اور مون سون سیزن میں میں مزید پانی حاصل کرنے کی پوزیشن نہ ہونے پر نئی گج سے بہنے والا پانی عمومی طور پر سیلاب کے تحفظ کے لیے باندھے گئے بند کو تباہ کرتا ہوا زرعی زمین کو زیر آب لے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئی گج ڈیم کی تعمیر میں تاخیر: ’کھانچے مارنے کیلئے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں‘

درخواست میں کہا گیا کہ زرعی زمین کے زیر آب آنے، گھروں کے تباہ ہونے اور کھڑی فصلوں کو نقصان پنچانے کے بعد مون سون کا پانی سمندر میں گرتا ہے اور ایسا کرنے سے بڑی تعداد میں پانی ضائع ہوتا ہے۔

اسی بات کو دیکھتے ہوئے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے نئی گج ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا اور 25 اپریل 2012 میں سندھ کے ضلع دادو میں نئی گج ڈیم کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

اس منصوبے کو اپریل 2015 تک مکمل ہونا تھا لیکن غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے یہ اب تک مکمل نہیں ہوسکا، جس کی وجہ سے اس ڈیم کی لاگت کا تخمینہ بھی بڑھ گیا ہے، جسے کم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے اتفاق سے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔