(ن) لیگ کو نواز شریف کی صحت پر تشویش،جیل انتظامیہ نے تندرست قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 11 جنوری 2019

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے متعلق تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ جیل انتظامیہ نے انہیں تندرست قرار دے دیا۔

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کی طرف سے کہا کہ نواز شریف موسمی اثرات کا شکار ہو گئے ہیں اور کوٹ لکھپت جیل میں انہیں گلے، سینے اور بازو میں شدید تکلیف کی شکایت ہوگئی ہے۔

نواز شریف کے امراض قلب کے ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ نواز شریف کو اس وقت چیک اپ کی اشد ضرورت ہے، لیکن جیل حکام نے تاحال سابق وزیر اعظم سے ملاقات اور چیک اپ کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے نواز شریف کی صحت کے متعلق کوئی بھی خطرناک صورتحال پیدا ہونے کے متعلق متنبہ کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا معائنہ کرنے کی اپیل کی۔

نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'والد کے ڈاکٹرز پورا دن سابق وزیر اعظم تک رسائی کی کوشش کرتے رہے لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی۔'

انہوں نے کہا کہ 'نواز شریف کا معائنہ ان ڈاکٹروں کی جانب سے کرنے کی ضرورت ہے جو ان کی طبی تاریخ سے واقف ہیں۔

نواز شریف بلکل صحت مند ہیں، جیل انتظامیہ

دوسری جانب کوٹ لکھپت جیل لاہور انتظامیہ کے مطابق جیل کے ڈاکٹر نے نواز شریف کا طبی معائنہ کیا اور ان کی طبیعت بلکل ٹھیک ہے۔

انتظامیہ نے کہا کہ جیل کے میڈیکل افسر ڈاکٹر افسر خان نے 4 بج کر 30 منٹ پر سابق وزیر اعظم کا معائنہ کیا۔

طبی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کی شوگر اور بلڈ پریشر نارمل ہے جبکہ ان کا روزانہ کی بنیاد پر جیل ڈاکٹر سے معائنہ کرایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف اڈیالہ سے کوٹ لکھپت جیل منتقل

وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گِل نے مریم نواز کی جانب سے نواز شریف کے معالج کو ملنے سے روکنے کے الزام کی تردید کی۔

اپنے ویڈیو پیغام میں شہباز گل نے کہا کہ 'آج شام 5 بج کر 38 منٹ پر نواز شریف کے معالج نے ملنے کی درخواست کی جس پر جیل کے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ سابق وزیر اعظم کا معائنہ کر چکے ہیں اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ جیل کے ڈاکٹر سے بات کرنے کے بعد نواز شریف کے معالج نے اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ وہ گزشتہ روز بھی سابق وزیر اعظم سے ملاقات کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے 24 دسمبر کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔

بعد ازاں انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔

نواز شریف پر عدالت نے تقریباً 5 ارب روپے کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا تھا جبکہ سزا مکمل ہونے کے بعد ان پر 10 سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔