قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل، اسپیکر اسمبلی اپوزیشن کے تعاون کے طلب گار

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2019

ای میل

اسد قیصر نے اپوزیشن جماعتوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ پیر تک کمیٹیاں تشکیل دے دی جائیں گی، فائل فوٹو
اسد قیصر نے اپوزیشن جماعتوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ پیر تک کمیٹیاں تشکیل دے دی جائیں گی، فائل فوٹو

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور محمدعلی سے ملاقات کے بعد ایوان کی کارکردگی بہتر طور پر چلانے اور قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے لیے اپوزیشن سے تعاون طلب کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسپیکر اسمبلی نے اپوزیشن کی 2 مرکزی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جنہوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ پیر کو طلب کیے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائمہ کمیٹیاں تشکیل دے دی جائیں گی۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور رہنما سعد رفیق، جو بدعنوانی کے الزام میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے زیر حراست ہیں، ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی کو قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں مشکلات کا سامنا

اس ضمن میں پی پی پی رہنما سید خورشید شاہ نے گزشتہ روز صبح اسپیکر اسمبلی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جبکہ شام میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب اور رانا ثناء اللہ نے ان سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔

واضح رہے کہ 3 درجن سے زائد قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر کے سبب ایوان میں قانون سازی کا عمل بری طرح متاثر ہورہا ہے اور جولائی 2018 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی میں اس وقت محض 2 کمیٹیاں کام کررہی ہیں جس میں ایک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ہے۔

قوانین کے مطابق اسپیکر قائد ایوان کے منتخب ہونے کے بعد 30 روز کے اندر قائمہ کمیٹیاں تشکیل دینے کا پابند ہوتا ہے، چنانچہ گزشتہ برس 18 اگست کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے منتخب ہونے کے بعد اسپیکر کو 17 ستمبر تک قائمہ کمیٹیاں بنادینی چاہیے تھیں۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اسپیکر اسمبلی اور خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل، ایوان میں قانون ساز کے معاملات اور پارلیمانی امور پر گفتگو کی گئی۔

اس سلسلے میں اپوزیشن سے تعاون طلب کرتے ہوئے اسپیکر اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایوان کا ماحول سازگار بنانا اور ایوان کا تقدس برقرار رکھنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ہمیں ایوان کی کارروائی بہتر طور پر چلانے کے لیے پارلیمانی روایات کا بھرم رکھنے اور باہمی برداشت قائم رکھنی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تنقید اپوزیشن کا حق ہے لیکن یہ تنقید تعمیری مقاصد کے لیے ہونی چاہیے صرف مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کے قانون سازی کے بغیر ابتدائی 100روز مکمل

قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’کمیٹیوں کی تشکیل میری اولین ترجیح ہے جس کے لیے میں حکومتی اور اپوزیشن بینچز سے رابطے میں ہوں تاکہ اس معاملے کو جلد طے کرلیا جائے‘۔

اس کے ساتھ انہوں نے بھی یہ یقین دہانی کروائی کہ کمیٹیوں کی تشکیل کا معاملہ باہمی اتفاقِ رائے سے قومی اسمبلی کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں طے کرلیا جائے گا۔