پاکستان میں دہشتگردوں کے کیمپ میں جانے کا الزام، ملزم کو غلط سزا ہوئی، امریکی جج

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2019

ای میل

36 سالہ حامد حیات نے اپنی 24 سال کی سزا میں سے آدھی سزا مکمل کرلی ہے — فائل فوٹو
36 سالہ حامد حیات نے اپنی 24 سال کی سزا میں سے آدھی سزا مکمل کرلی ہے — فائل فوٹو

امریکا کے فیڈرل مجسٹریٹ نے 2006 میں کیلیفورنیا کے شہری کو پاکستان میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ میں جانے اور امریکا میں حملہ کرنے کے الزام میں سنائی گئی متنازع سزا کو معطل کرنے کی تجویز دے دی۔

36 سالہ حامد حیات اس وقت کیلیفورنیا کے شہر لودی میں چیری کے کھیت میں کام کرتے تھے۔

انہوں نے اپنی 24 سال کی سزا میں سے آدھی سزا مکمل کرلی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی مجسٹریٹ جج ڈیبورا بارنس کا کہنا تھا کہ اگر کم تجربہ کار دفاعی اٹارنی جو عدم دستیاب گواہان کو نہ بلاسکے، نہ ہوتے تو ممکن ہے کہ انہیں سزا نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں: ’بگرام‘ جیل میں بے گناہ قید کیے گئے پاکستانی معاوضے کے منتظر

بارنس نے 116 صفحات پر مشتمل اپنی تجویز میں کہا کہ ’ایک مناسب اور بہتر اٹارنی ہوتا تو وہ حامد حیات کے کیس سے متعلق شواہد حاصل کرنے کے لیے مزید تحقیق کرتا‘۔

واضح رہے کہ ان کی سزا کو روکنے کی تجویز امریکی ڈسٹرکٹ جج گارلینڈ ای بریل جونیئر کو بھیجی جائے گی جنہوں نے حیات کا ٹرائل کیا تھا اور سزا سنائی تھی۔

بارنس نے نئے گواہان سے نیا بیان سنا جس میں ان کا کہنا تھا کہ حیات کیلی فورنیا میں ہی پیدا ہوئے تھے اور پاکستان میں اپنے آبائی گاؤں شادی کرنے اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے تھے جہاں انہیں کسی دہشت گرد نے ٹریننگ نہیں دی۔

انہیں معلوم ہوا کہ حیات کے دفاعی اٹارنی وازہا موجددی کو جھوٹے بیانات پر کسی ماہر سے شواہد لینے چاہئیں تھے۔

دوسری جانب حیات کی اٹارنی موجددی کا کہنا تھا کہ یہ ان کا پہلا کرمنل کیس تھا اور اس کے لیے انہوں نے وکیلوں کی ٹیم اور دفاعی تحقیق کاروں کے ساتھ مل کر بہت محنت کی تھی۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مجھے ہمیشہ سے یقین تھا کہ حیات بے گناہ ہے۔

امریکی اٹارنی مک گریگر اسکوٹ کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے مجسٹریٹ کی تجاویز پر نظر ثانی کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: '9 ہزار سے زائد پاکستانی 100 ممالک کی جیلوں میں قید'

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہی سمجھتے ہیں کہ حیات کو ٹرائل میں موثر نمائندگی ملی اور ججز کی جانب سے ان کی سزا جس کی بعد ازاں نائنتھ سرکٹ کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی تھی، درست ہے‘۔

واضح رہے کہ تحقیق کاروں نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ 5 افراد سیکریمینٹو کی زرعی کمیونٹی میں القاعدہ کے ’سلیپر سیل‘ کا حصہ ہیں۔

تاہم وفاقی استغاثہ نے 3 افراد کو بغیر کسی مقدمات کے ملک بدر کردیا تھا جبکہ وفاقی ایجنٹس حیات کے والد اپنے بیٹے کے کام کے حوالے سے بیان کو سچ یا جھوٹ ثابت نہیں کرسکے تھے جس کے بعد آئس کریم ٹرک کے ڈرائیور حیات کے والد نے رسم و رواج کی خلاف ورزی کا اعتراف کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ حامد حیات کو 2006 میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے اور ایف بی آئی ایجنٹس سے جھوٹ بولنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

استغانہ نے الزام لگایا تھا کہ حیات کے پاس ’جہادی دل‘ ہے اور وہ ہسپتال، بینک سمیت حکومتی عمارتوں پر حملوں کا منصوبہ بنارہے ہیں۔