آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف ہنگامہ: حکومت کو ایک ماہ میں متاثرین کو ادائیگیوں کا حکم

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2019

ای میل

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈھائی ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک ادائیگی کا مکمل پلان نہیں دیا گیا۔ فائل فوٹو
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈھائی ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک ادائیگی کا مکمل پلان نہیں دیا گیا۔ فائل فوٹو

لاہور: سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف ہونے والے ہنگاموں کے دوران پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے متاثرین کو ادائیگیوں کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ہنگاموں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے از خود نوٹس کی سماعت کی۔

دوران سماعت سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو ایک ماہ میں متاثرین کو ادائیگیاں کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹس تو دے دی گئی ہیں، بتایا جائے ادائیگیاں کب اور کیسے ہوں گی، جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ نقصانات کا تخمینہ 26 کروڑ 20 لاکھ روپے لگایا گیا ہے، کابینہ نے اس تخمینے کی منظوری دے دی ہے۔

مزید پڑھیں: ’حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ ریاست و قانون کی حفاظت نہ کرسکی‘

جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ ادائیگی کے لیے کوئی پلان بھی مرتب کیا ہے یا سب کاغذی کارروائی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر عدالت حکم نہ دیتی تو یہ پلان بھی نہ آتا۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ڈھائی ماہ گزر گئے ہیں لیکن ابھی تک ادائیگی کا مکمل پلان نہیں دیا گیا، جس پر محکمہ داخلہ کے سیکشن افسر نے کہا کہ اسی ماہ ادائیگیاں کر دیں گے۔

اس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ایک ماہ میں مکمل ادائیگیاں کر کے عمل درآمد رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

خیال رہے کہ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے الزام میں 9 سال سے قید آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی فوری طور پر رہائی کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد مذہبی و سیاسی جماعتوں خاص طور پر تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے ملک گیر احتجاج اور دھرنے کیے گئے تھے جو 3 روز تک جاری رہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں کی جانب سے دھمکی آمیز جملوں پر وزیراعظم خان اور دیگر وزرا نے شدید مذمت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان

آخر کار جمعہ ( 2 نومبر) کو تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے مابین معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد ٹی ایل پی کی قیادت نے ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

معاہدے کے مطابق آسیہ بی بی کا نام فوری طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔

علاوہ ازیں تحریک لبیک کی جانب سے معذرت کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ ’اس واقعے کے دوران جس کسی کی دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے‘۔