اہلخانہ سے فرار سعودی لڑکی حفاظتی پناہ کیلئے کینیڈا پہنچ گئی

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2019

ای میل

رھف محمد القنون کینیڈا پہنچنے پر خوش نظر آرہی ہیں — فوٹو: اے ایف پی
رھف محمد القنون کینیڈا پہنچنے پر خوش نظر آرہی ہیں — فوٹو: اے ایف پی

اہل خانہ سے فرار ہوکر بنکاک کے ایئرپورٹ پر گرفتار ہونے والی 18 سالہ سعودی لڑکی کینیڈا میں حفاظتی پناہ کی اجازت ملنے کے بعد براستہ جنوبی کوریا ٹورنٹو پہنچ گئی۔

رھف محمد القنون کے ٹورنٹو پہنچنے پر کینیڈا کی وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے ان کا استقبال کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق رھف محمد القنون ابتدائی طور پر بنکاک سے آسٹریلیا جانے کی کوشش کر رہی تھیں، تاہم انہیں واپس کویت جانے کا کہا گیا جہاں اس کے اہلخانہ اس کا انتظار کر رہے تھے۔

سعودی لڑکی نے واپس جانے سے انکار کردیا تھا اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہوئے واپس نہ بھیجنے کے لیے ایئرپورٹ حکام سے کئی درخواستیں کیں جو عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنیں۔

مزید پڑھیں: اہلِ خانہ سے فرار سعودی لڑکی کو قانونی پناہ گزین کا درجہ مل گیا

قبل ازیں بنکاک ائیرپورٹ پر ’نامکمل دستاویزات‘ کی وجہ سے زیرحراست نوجوان سعودی لڑکی نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا تھا کہ ’اگر انہیں آسٹریلیا میں سیاسی پناہ نہیں ملی تو ان کی زندگی کو اپنے ہی اہلخانہ سے خطرہ ہے‘۔

بعد ازاں تھائی لینڈ کی عدالت سے ڈی پورٹ نہ کیے جانے کی استدعا مسترد ہونے کے باوجود آسٹریلیا میں پناہ کی خواہشمند سعودی لڑکی کو وقتی طور پر تھائی لینڈ میں قیام کی اجازت دے دی گئی تھی۔

آسٹریلیا کی حکومت نے ان کے حفاظتی پناہ کو اقوام متحدہ کی جانب سے انہیں پناہ گزین کا درجہ دیے جانے سے مشروط قرار دے دیا تھا۔

2 روز قبل اقوام متحدہ نے رھف محمد القنون کو قانونی طور پر پناہ گزین کا درجہ بھی دے دیا۔

رھف محمد القنون کون ہیں؟

18 سالہ رھف محمد القنون اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سیاحت پر تھیں کہ انہوں نے کویت کی فلائٹ پر جانے سے انکار کردیا تھا اور خود کو بنکاک ائیرپورٹ کے ہوٹل میں بند کرلیا تھا۔

اپنے اہلخانہ کی جانب سے قتل کیے جانے کے خطرے سے دوچار رھف نے کہا تھا کہ ’میں نے مذہب سے متعلق کچھ باتیں کیں اور مجھے خوف ہے کہ سعودی عرب واپس بھیجنے کی صورت میں مجھے قتل کردیا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: اہلخانہ سے فرار سعودی لڑکی کو تھائی لینڈ میں قیام کی اجازت

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی سفارتخانے نے ان کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا ہے جس پر آسٹریلیا کا ویزا موجود ہے‘۔

دوسری جانب امیگریشن حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ’رھف شادی کی خواہش مند نہیں اور اسی لیے اپنے اہل خانہ سے راہ فرار اختیار کی اور اب انہیں سعودی عرب واپس جانے پر تحفظات ہیں‘۔