فرانس: عمارت میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2 فائر فائٹر جاں بحق

12 جنوری 2019

ای میل

دھماکا وسطی پیرس میں ایک عمارت میں ہوا—فوٹو:اے ایف پی
دھماکا وسطی پیرس میں ایک عمارت میں ہوا—فوٹو:اے ایف پی

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے وسطی علاقے میں ایک عمارت میں زور دار دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران 2 فائر فائٹر اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 47 افراد زخمی ہوگئے۔

فرانس کے وزیر داخلہ کرسٹوفر کیسٹینر نے صحافیوں کو صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عمارت میں دھماکے کے بعد لگنے والی آگ کو بجھانے اور مثاترین اور رہائشیوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے تقریباً 200 فائرفائٹر مصروف تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہری گلی میں موجود تھے اور فائر فائٹر اندر چلے گئے تھے’۔

عمارت میں آگ لگتے ہی پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچی اور علاقے کو آمد ورفت کے لیے بند کردیا اور گھروں میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے 2 ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل کی گئی۔

پیرس کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ 2 فائر فائٹرز دم توڑ گئے اور دھماکے سے کم از کم 47 افراد زخمی ہوچکے ہیں جن میں سے 10 کی حالت تشویش ناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فرانس: یلو ویسٹ مظاہرین کا حکومتی ترجمان کے دفتر پر حملہ

خیال رہے کہ فرانس میں حکومت مخالف یلو ویسٹ تحریک کے مظاہرے بھی بدستور جاری ہیں اور ایسے میں وسطی پیرس میں قائم عمارت میں دھماکا ہوا جس میں رہائش، بیکری اور ایک ریسٹورنٹ بھی قائم تھا۔

پیرس فائر سروس کے کمانڈر ایرک میولن کا کہنا تھا کہ دھماکے کے اثرات 4 بلاک دور تک محسوس کیے گئے جبکہ متاثرین کی تلاش کے لیے امدادی کام تاحال جاری ہے۔

پیرس کے پراسیکیوٹر ریمے ہیٹز کا کہنا تھا کہ فائر فائٹر گیس لیک ہونے کی شکایت پر الرٹ تھے اسی دوران دھماکا بھی ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دھماکے سے قبل گیس لیک ہوئی تھی اورفائر فائٹرز وہاں پہنچے تھے جس کے بعد دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی’۔

مزید پڑھیں:فرانس کی ’یلو ویسٹ‘ تحریک کو 'فیس بک' نے کیسے ایندھن فراہم کیا؟

دھماکے کے ساتھ ہی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا اور گلی میں موجود کئی افراد بھی زخمی ہوئے جنہیں رضاکاروں نے فوری طور پر طبی امداد دی۔

وسطی پیرس میں ہونے والے اس دھماکے میں کئی سیاح بھی متاثر ہوئے جو مشہور شاپنگ سینٹر میں خریداری میں مصروف تھے تاہم انہیں بحفاظت نکال لیا گیا۔

نوجوان رہائشی کا کہنا تھا کہ ‘جب ہم سو رہے تھے کہ آواز سنی جو زلزلے کی طرح تھی’۔

خیال رہے کہ پیرس میں کئی گھروں اور عمارات میں کھانا پکانے اورسردی سے بچنے کے لیے گیس استعمال ہوتی ہے جہاں اکثر وبیشتر گیس لیک ہونے والے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔