حکومت شیئرز کی خرید و فروخت پر پیشگی ٹیکس ختم کرنے پر رضامند

اپ ڈیٹ جنوری 17 2019

ای میل

حکومت منی بجٹ میں اس ٹیکس کو ختم کرنے کا اعلان کرے گی—فائل فوٹو
حکومت منی بجٹ میں اس ٹیکس کو ختم کرنے کا اعلان کرے گی—فائل فوٹو

اسلام آباد: حکومت آنے والے منی بجٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت پر عائد 0.02 فیصد پیشگی ٹیکس ختم کرنے پر راضی ہوگئی۔

خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے پلیئرز کی جانب سے کافی عرصے سے یہ مطالبہ سامنے آرہا تھا کہ حکومت اس پیشگی ٹیکس کو ختم کرے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے اپنی سمری میں تجویز دی گئی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس (آئی ٹی او) کا سیکشن 65 سی ٹیکس کریڈٹس کے ذریعے کمپنیوں کی جانب سے جاری فہرست کے لیے مراعات کی اجازت دیتا ہے، اس کے علاوہ ان مراعات کو نئی فہرستوں تک مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا امدادی پیکج کا اعلان، اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

منی بجٹ سے متعلق وزارت خزانہ سے دستیاب معلومات میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شیئرز کی خرید و فروخت پر عائد 0.02 فیصد پیشی ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ حکومت 23 جنوری کو منی بجٹ پیش کرے گی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فنانس ایکٹ 2016 کے ذریعے سیکیورٹی کی خرید و فروخت پر پیشگی ٹیکس کی شرح کو 0.01 فیصد سے دوگنا کرکے 0.02 فیصد کردیا گیا تھا۔

کمیشن پر ٹیکس کے بدلے میں سیکیورٹی کی خرید و فروخت پر لیا جانے والا 0.02 فیصد کا پیشگی ٹیکس زیادہ تصور کیا جاتا تھا۔

اس سلسلے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تجویز پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بھی سفارش کی گئی۔

اسٹاک مارکیٹ پلیئرز کی جانب سے اس سلسلے میں دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ نقد نقصانات (کیپیٹل لوسز) کو 3 سال تک آگے بڑھانے کی اجازت دی جائے، اس کے ساتھ ساتھ وزارت خزانہ کو یہ سفارش کی گئی تھی کہ سیکیورٹیز کی ڈسپوزل پر نقد نقصانات کو آگے بڑھانے کے لیے آئی ٹی او میں ترمیم کی جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ تیسرا مطالبہ کیپیٹل گینز ٹیکس (سی جی ٹی) کو معقول کرکے ریئل اسٹیٹ کے مساوی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ:298 پوائنٹس کی کمی کے باوجود مثبت اختتام

علاوہ ازیں وزارت خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ منی بجٹ کا اصل توجہ کاروبار کے لیے آسانیاں، اسٹاک مارکیٹ اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری اور بچت کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو حتمی شکل دینے اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین اور کمشنر سیکیورٹیز مارکیٹ ڈویژن اسٹاک بروکرز سے ملاقات کریں گے۔


یہ خبر 17 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی