خاشقجی قتل: ’سعودی عرب کے ساتھ امریکا کے تعلقات آگے نہیں بڑھ سکتے‘

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2019

ای میل

امریکی صدر نے گزشتہ برس دھمکی آمیز بیانات دیے تھے—فائل/فوٹو:ڈان
امریکی صدر نے گزشتہ برس دھمکی آمیز بیانات دیے تھے—فائل/فوٹو:ڈان

امریکی سینیٹر لینڈسے گراہم نے سعودی عرب پر نئی پابندیوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد صحافی خاشقجی کے قتل میں ذمہ دار ہیں اور ان کے ساتھ ضرور’نمٹا‘ جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور سینیٹر لِنڈسے گراہم نے کہا کہ ’میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات مزید آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک محمد بن سلمان سے معاملہ نمٹایا نہیں جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’جمال خاشقجی کا قتل سعودی ولی عہد کے حکم پر ہوا‘

انقرہ میں پریس کانفرنس کے دوران سینیٹر نے دھکمی دی کہ قتل میں مشتبہ افرا دکے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

واضح رہے کہ امریکا، فرانس اور کینیڈا سمیت متعدد مغربی ممالک تقریباً 20 سعودی اشخصاص پر پابندی لگا چکے ہیں جس کے باعث عالمی سطح پر ریاض کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’ہم جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنا شروع کریں گے‘۔

سینیٹر نے مزید کہا کہ ’ہم بہت جلد ٹھوس بیان دیں گے کہ سعودی ولی عہد قتل کے بارے میں جانتے تھے اور ذمہ دار ہیں جس کے بعد پابندیوں کا سلسلہ شروع ہو گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: مکہ اور مدینہ میں مقتول صحافی جمال خاشقجی کی غائبانہ نماز جنازہ

لِنڈسے گراہم نے اقرار کیا کہ ’وہ پہلے ولی عہد محمد بن سلمان کے حق میں پر عزم تھے لیکن بعد میں، میں غلط ثابت ہوا‘۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2018 میں ترک حکام نے کہا تھا کہ 5 سعودی ایجنٹ سعودی طیارے کے ذریعے استنبول آئے اور سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کو قتل کیا۔

بعد ازاں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ 15 سعودی ایجنٹ سعودی طیارے کے ذریعے استنبول آئے اور سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کو قتل کیا۔

تاہم سعودی پراسیکیوٹر نے حالیہ نقطہ نظر یہ پیش کیا تھا کہ جمال خاشقجی کو ’قائل کرکے‘ استنبول سے واپس لانے کے لیے 15 رکنی اسکواڈ قائم کیا گیا تھا لیکن یہ معاملہ صحافی کے قتل اور ’خطرناک‘ آپریشن کے ذریعے ان کے جسم کے ٹکڑے کرنے پر ختم ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 5 ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

واشنگٹن پوسٹ نے بتایا تھا کہ سی آئی اے نے مختلف خفیہ ذرائع کا جائزہ لیا، جس میں امریکا کے لیے سعودی سفیر اور ولی عہد کے بھائی خالد بن سلمان اور جمال خاشقجی کے درمیان کی فون کال بھی شامل ہے۔