’پاکستان کو بہترین ملک قرار دے دیا گیا‘

24 جنوری 2019

ای میل

حکومت، عدلیہ اور فوج کے مشترکہ اجلاس میں یہ پتہ لگانے کے لیے ووٹنگ ہوئی کہ کون سا ملک بہترین ہے؟

تو جناب تقریباً متفقہ فیصلے میں پاکستان کو بہترین ملک منتخب کرلیا گیا۔ اگرچہ بیلٹ پیپر پر پاکستان کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں تھا، لیکن پھر بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چند وزرا نے بیلٹ پیپر پر ’گو نواز گو‘ لکھا اور اسی پر ہی مہر ثبت کی۔

ووٹنگ کا مرحلہ ختم ہوا تو وزیرِاعظم عمران خان نے دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ کردیا۔ وہاں موجود پریس ممبران کو لگا کہ خان صاحب نے عادتاً یہ مطالبہ کردیا ہے مگر خان صاحب نے زور دیا کہ بھئی نتائج میں پاکستانی عوام کے جذبات کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی ہونی چاہیے اور نیا پاکستان پوری کائنات کا بہترین ملک قرار دیا جانا چاہیے۔ فواد چوہدری نے نتائج میں یہ اضافہ کردیا کہ پاکستان جولائی 2018ء کے بعد پورے عالم میں بہترین ملک بنا اور یوں وہ وزیرِاعظم کا غصہ ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

عمران خان نے 100 سے بھی کم دنوں کے اندر بدترین ملک کو پورے عالم کا بہترین ملک بنانے پر خود کو مبارک باد پیش کی۔ عمران خان نے جب بدترین ملک کا ذکر کیا تو ان کے ہاتھ میں ایک پرچی تھما دی گئی اور وزیرِاعظم صاحب نے فوری طور پر ایک الگ سے ووٹنگ کرانے کو کہا۔ 5 منٹ بعد ووٹنگ ختم ہوئی تو تقریباً متفقہ فیصلے میں ہندوستان کو دنیا کا بدترین ملک قرار دیا گیا۔ جبکہ ووٹنگ کے دوران فیاض الحسن چوہان اور مراد سعید کسی نہ کسی طرح ’گو نواز گو‘ کو ووٹ دینے میں کامیاب ہوگئے۔

اجلاس میں داخلہ اور خارجہ دونوں پالیسیوں کو زیرِ بحث لایا گیا۔ شاہ محمود قریشی خواب خرگوش میں مبتلا رہے اور نیند میں بڑبڑانے لگے کہ، ‘خارجہ پالیسی دفتر خارجہ میں بنے گی، جس پر قہقہے بلند ہوئے اور محفل زعفرانِ زار ہوگئی۔

پریس ممبران نے گزشتہ 5 ماہ کے دوران حاصل ہونے والی بڑی بڑی کامیابیوں اور بڑے بڑے کارناموں پر روشنی ڈالنے کو کہا۔ شیخ رشید نے عمران خان کو سال 2019ء کا آغاز پوری دنیا میں سب سے پہلے پاکستان میں ممکن بنانے پر مبارک باد پیش کی کہ سال 2019ء کا آغاز پوری دنیا میں سب سے پہلے پاکستان میں ہی ہو۔

شیخ رشید آگ بگولہ ہوگئے اور کہنے لگے کہ، ’عمران خان پاکستان کو وقت سے اتنا آگے لے کر گئے ہیں، جتنا آگے کوئی سیاستدان نہیں لے کر گیا۔‘ تاہم ریاست کی جانب سے جھڑک دیا گیا اور 1947ء یاد دلایا گیا۔ فیاض الحسن چوہان نے پاکستان کو 1400 برس پیچھے لے جانے کے بجائے وقت سے آگے لے جانے کی بات پر شیخ رشید کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستان کو دنیا کا محفوظ ترین ملک بھی قرار دیا گیا۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کیمرا تھامے گوروں کی تصاویر استعمال کی گئیں۔ یہ لوگ جو اپنی مرضی سے یہاں آئے تھے اور جنہیں پیسے نہیں کھلائے گئے تھے، انہیں سیاحت میں پاکستان کی کامیابیوں کی ایک نمایاں مثال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سفید فام خواتین سیاحوں کو پاکستان لانے میں کامیاب ہونے پر عمران خان ایک بار پھر خود کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

عمران خان کہتے ہیں کہ، ’دیکھیے پاکستان کتنا محفوظ ہے، اب تو پشاور کی سڑکوں پر گوری لڑکی کو سائیکل چلاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

اس پر ایک رپورٹر خان صاحب سے یہ پوچھ بیٹھتا ہے کہ، ‘ممکن ہے کہ وہ لڑکی پاکستانی ہی ہو۔۔‘ ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ فیاض الحسن چوہان نے ان کے چہرے پر پانی سے بھرا گلاس دے مارا اور اس پر کافر ہونے کا الزام دے دیا، اس کے بعد رپورٹر کو گھسیٹ کر اجلاس سے باہر نکال دیا گیا۔

بعدازاں عمران خان نے خود کو ہرالڈ پرسن آف دی ایئر منتخب کیا۔

وہاں موجود باقی صحافیوں کو ان کے اہل خانہ کی تصاویر دکھائی گئیں اور انہیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول سے لانے کے لیے کون سے راستے لیتے ہیں۔ بریفنگ کے بعد تمام صحافی آزادئ اظہار کے فروغ اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے حاصل کردہ کامیابیوں پر حکومت کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اسد عمر کا ہارڈ ٹاک پروگرام کو دیا گیا انٹرویو 5 مرتبہ رپیٹ کر کرکے دکھایا گیا۔

تمام اخباروں نے یہ خبر شائع کی کہ پوری قوم خوشی سے نہال ہے اور ڈالر کے اوپر جانے کی کسی کو کوئی پروا نہیں کیونکہ کسی کے پاس ڈالر کا ایک نوٹ بھی نہیں ہے۔ ہمیں پنیر درآمد کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں عدم برداشت کی حالت دیکھتے ہوئے کسی کو یہ جان کر حیرانی نہیں ہوگی کہ ہم لیکٹوس (LACTOSE) کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اگر ایسا نہیں تو ہم یہ اعلان کردیں گے کہ لیکٹوس غیر مسلم ہے اور پھر کہاں ہمیں یہ برداشت ہوپائے گا۔

اجلاس کے آخر میں حکومت نے امریکا کو دہشتگردوں کی معاونت، ہندوستان کو مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں، اسرائیل کو مسلمان فلسطینیوں کے خلاف آپریشن، نیدرلینڈز کو مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقریر کرنے اور اس ستم ظریفی پر مذمت کی کہ وہ وجود ہی کیوں رکھتی ہے۔


یہ مضمون ہیرالڈ کی طنزیہ سیریز 'نیوز بائٹ' کا حصہ ہے اور ابتدائی طور پر جنوری 2019ء کے شمارے میں شائع ہوا۔