جمال خاشقجی قتل کی تفتیش کیلئےاقوام متحدہ کی ٹیم تشکیل

25 جنوری 2019

ای میل

جمال خاشقجی کو ترکی میں 2 اکتوبر کو قتل کیا گیا تھا—فوٹو بشکریہ الجزیرہ
جمال خاشقجی کو ترکی میں 2 اکتوبر کو قتل کیا گیا تھا—فوٹو بشکریہ الجزیرہ

اقوام متحدہ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے کولمبیا یونیورسٹی کی اگنیس کیلامارڈ کی سربراہی میں عالمی ماہرین کی 3 رکنی ٹیم تشکیل دے دی جو اگلے ہفتے ترکی کا دورہ کرے گی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا تھا کہ عالمی ماہرین پر مشتمل ٹیم سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل کی انکوائری کرے گی۔

ٹیم کی سربراہ، ماورائے قانون سزاؤں سے متعلق اقوام متحدہ کی اسپیشل رپورٹر اور کولمبیا یونیورسٹی میں فرنچ اکیڈمک اور کولمبیا گلوبل فریڈم آف ایکسپریشن کی ڈائریکٹر اگنیس کیلامارڈ کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ہفتے ترکی جائیں گی جس کا مقصد جمال خاشقجی قتل کی غیرجانب دار تفتیش ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق اگنیس کیلامارڈ کے ساتھ تفتیشی ٹیم میں ہیلینا کینیڈی اور ڈوارٹے نونو ویئرا بھی ہوں گے۔

تفتیشی ٹیم 28 جنوری سے 3 فروری تک ترکی کا دورہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:خاشقجی قتل: ’سعودی عرب کے ساتھ امریکا کے تعلقات آگے نہیں بڑھ سکتے‘

اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیم میں شامل ہیلینا کینیڈی مشہور برطانوی وکیل ہیں اور ہاؤس آف لارڈز کی رکن بھی ہیں۔

ٹیم کے تیسرے رکن نونو ویئرا پرتگال کی کوئیمبرا یونیورسٹی آف میڈیسن کے پروفیسر اور پیتھالوجی کے ماہر ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ابیرو امریکن نیٹ ورک آف فارنزک میڈیسن اینڈ فارنزک سائنس انسٹیٹیوٹ کے صدر اور یورپین کنفڈریشن آف ایکسپرٹس کی تنظیم کے بھی صدر ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جمال خاشقجی قتل کی تفتیش شروع کرنے کی اتھارٹی ان کے پاس نہیں ہے اور کسی ملک کی جانب سے اس حوالے سے تفتیش کے لیے باقاعدہ درخواست بھی نہیں کی۔

یاد رہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو ترکی میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے جس کے بعد ان کے قتل کی خبر آئی تھی جبکہ ترک حکام نے تفتیش کے بعد ایک مفصل رپورٹ جاری کی تھی۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب جمال خاشقجی کے قاتلوں کا ’احتساب‘ یقینی بنائے، مائیک پومپیو

امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے حوالے سے 17 نومبر 2018 کو امریکی ذرائع ابلاغ میں رپورٹس آئی تھیں کہ ایجنسی کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سی آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 15 سعودی ایجنٹ سعودی طیارے کے ذریعے استنبول آئے اور سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کو قتل کیا۔

سعودی عرب نے اس رپورٹ میں سی آئی اے کی تحقیقات کے حوالے سے دی گئی تفصیلات کو فوری طور پر مسترد کر دیا تھا تاہم اس حوالے سے ابتدائی تفتیش کے بعد کیس کی سماعت بھی شروع کردی تھی اور متعدد عہدیداروں کو بھی برطرف کردیا تھا۔

دوسری جانب ترکی نے بھی تفتیش کی تھی جس میں سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا تاہم صدر رجب طیب اردوان نے واضح کیا تھا کہ سعودی فرمان روا شاہ سلمان کا اس معاملے پر کوئی کردار نہیں ہے۔