پاکستان کی خارجہ پالیسی کیسی ہو؟

ای میل

خارجہ پالیسی قومی پالیسی کا بیرونی پہلو ہے۔ اس پالیسی میں عالمی، علاقائی اور ہم سائیگی کے حوالے سے تمام تر پیش رفت، تحاریک اور اسٹریٹجیز کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

جب قومی پالیسی معیاری نہ ہو تو یہ اچھی سے اچھی خارجہ پالیسی کی بھی کامیابی میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

ٹھیک اسی طرح، پاکستان کی قومی پالیسی کے خارجی انحصار کو مدنظر رکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ترجیحات اور تدبیر کے مطابق خارجہ پالیسی کے بغیر پاکستان اپنے مقاصد حاصل ہی نہیں کرسکتا۔

خارجہ پالیسی کے چند پہلوؤں کے معاملات بنیادی طور پر ماہر وزارتیں، محکمہ جات اور سروسز سنبھالتی ہیں۔

تاہم جن برے فیصلوں میں دفتر خارجہ کا کوئی کردار ہی نہیں ہوتا، ان فیصلوں سے برآمد ہونے والے منفی نتائج ذمہ دار دفتر خارجہ کو نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ ایسا اکثر ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے قومی مفاد کو ہمیشہ ٹھیس بھی پہنچتی ہے۔

یہ واضح طور پر قابل فہم بات ہے۔ تاہم عام طور پر عملی میدان میں اس بات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ کیوں؟ اس کی ایک اہم وجہ کرپٹ یا کمزور حکومتوں کی جانب سے بہتر گورننس، بشمول بہتر خارجہ پالیسی کے لیے کسی قسم کا رسک لینے میں ہچکچاہٹ ہے۔

یہ نرم ریاست کی علامات ہیں۔ یہیں سے اکثر ناکام ہوتی ریاست کی داستان شروع ہوتی ہے۔ جس میں قومی مفادات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی بلکہ قومی مفادات اور خارجہ پالیسی کا دارومدار طاقتور ذاتی مفادات پر ہوتا ہے۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟

اگر سیاسی نظام کو زیادہ شراکتی اور جامع بنایا جائے تو اس طرح بالآخر صحیح جوابات مل جائیں گے۔ اگر نظام اشرافیہ، محدود اور استحصالی رہا تو ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم نظام کی تبدیلی میں رسک بھی شامل ہوتا ہے۔

پاکستان 10 اہم خارجی تعلقات رکھتا ہے۔ ان میں ہندوستان، چین، امریکا اور افغانستان کے ساتھ بنیادی حیثیت کے حامل تعلقات شامل ہیں جبکہ ایران، جی سی سی ممالک، روس، یورپی یونین (جس میں ابھی تک برطانیہ بھی شامل ہے)، وسطی ایشیائی ریاستوں اور اقوام متحدہ کے ساتھ معنی خیز اہمیت کے حامل تعلقات شامل ہیں۔

ہندوستان پاکستان کا ایک بڑا حریف ہے۔ چین پاکستان کا واحد اسٹریٹجک ساتھی ہے۔ امریکا اب بھی دنیا کا سب سے طاقتور اور واحد جامع عالمی طاقت ہے۔ افغانستان پاکستان کے تحفظ اور عدم تحفظ کی صلاحیت بڑھانے والی ایک طاقت بنا ہوا ہے۔ ایران پاکستان کو مشکل آپشنز کے ساتھ مدمقابل ہے۔

جی سی سی ممالک ترسیل زر اور ‘برادرانہ‘ مدد کا ایک اہم ذریعہ ہیں، جس کی تقریباً ہمیشہ ہی شرمناک قیمت چکانی پڑ جاتی ہے۔

روس کی چین کے ساتھ شراکت داری امریکا اور اس کے اتحادی ہندوستان کے لیے انسدادی قوت بن کر کھڑی ہے۔ علاوہ ازیں، یہ قوت ہندوستان اور پاکستان کی جانب ایک کم غیر متوازن روسی پالیسی لانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

یورپی یونین ایک اہم منڈی ہے اور برطانیہ (اور امریکا) میں موجود پاکستانی برادری ایک خارجہ پالیسی اثاثہ بن سکتے ہے۔

وسطی ایشیا پاکستان کی ربط سازی (connectivity) پر مبنی سفارتکاری کو ‘اسٹریٹجک گہرائی‘ (strategic depth) فراہم کرسکتا ہے۔ اس کام کے لیے روس کے ساتھ تعاون میں بہتری بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

یہاں اقوام متحدہ کا تذکرہ شاید ضروری محسوس نہ ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ملک کا تاثر، پروفائل اور آواز کا پتہ چلتا ہے اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں خارجہ پالیسی کی ساکھ (credibility) کا تعین ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے، امداد اور تنظیمیں علم و فہم سے بھرپور اور مسائل کا حل فراہم کرنے والے اثاثے ثابت ہوسکتے ہیں۔

چونکہ تمام خارجی تعلقات کا احاطہ ایک مضمون میں نہیں کیا جاسکتا لہٰذا اس تحریر میں پاکستان کے ساتھ ’بنیادی‘ سطح کے اہم تعلقات کو بیان کیا گیا ہے۔

ہندوستان: پاکستان کے لیے 2 معاملات نہایت اہمیت کے حامل ہیں، ایک تو یہ کہ پاکستان کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی پیش رفت کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونی چاہیے اور دوسرا یہ کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بدترین صورتحال میں بہتری لائے جائے۔ جبکہ بھارت کہتا ہے کہ وہاں ہونے والی ‘دہشتگردی‘ کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔

معنی خیز مذاکرات کے لیے ان اہم مسائل کا ایسا حل ڈھونڈنا ہوگا جس پر دونوں مطمئن ہوں۔ پائیدار مذاکراتی مرحلے کے لیے مشترکہ جواز کو ڈھونڈنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔

بلوچستان میں بھارتی مداخلت ایک حقیقت ہے۔ تاہم بلوچستان ‘مسئلہ‘ ہندوستان کا پیدا کردہ نہیں۔ بلکہ اس کی وجہ دہائیوں پر مبنی بُری اداریاتی گورنس اور استحصال ہے۔

پاکستان کو ہندوستان کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھاتے رہنا چاہیے بھلے ہی ہندوستان نظریں چراتا رہے۔ پاکستان کو لائن آف کنٹرول پر جتنا ہوسکے اتنا سکون قائم رکھنا چاہیے۔ کرتارپور منصوبے کو بنیاد بنائے۔ نارمل تجارتی یا وعدہ کے مطابق ایم ایف این حقوق دے۔ ویسے بھی یہ ڈبلیو ٹی او کی شرائط میں شامل ہے۔

پاکستان کو سفری، رابطہ کاری، اعتماد اور سیکیورٹی بلڈنگ (جس میں ریگولر جوہری اور پانی کی مینجمنٹ ہے) جیسے معاملات کے حوالے سے بات چیت اور تجاویز کی پیش کش کرنی چاہیے۔ جواب کے لیے انڈیا کو وقت لینے دیں۔ پاکستان اپنی مستقل مزاجی اور معقول پسندی کا دامن تھامے رکھنے سے کبھی ہار نہیں سکتا۔

اشتعال پر مبنی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ بیانیوں کو وجود میں لانے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو مختلف عینکوں کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست جاننا چاہتے ہیں۔

دونوں ممالک کے سربراہوں کو معقول بیانات دینے چاہئیں، ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ نئے نئے منصوبوں کو سامنے لانا چاہیے۔ اگر ہندستان انتخابات کے بعد بھی اعتراضات یا ہچکچاہٹ برقرار رکھتا ہے تو پھر یہ اس کا اپنا مسئلہ ہے۔

چین: بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹو (بی آر آئی) اور سی پیک پاکستان کے لیے سنہرے موقعے ہیں۔ مگر یہ جادو کی چھڑیاں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا ملک پاکستان میں اتنی بڑی سطح پر سرمایہ کاری کرنا نہیں چاہتا۔

پاکستان کو غیر سنجیدہ عوامی بیانات سے گریز کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ چینیوں کو یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ان کا ایک قابل بھروسہ اقتصادی اور اسٹریٹک ساتھی ہے۔

چین کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ان خدشات کو دور کرنا ہوگا۔ باہمی قوت بخش پالیسیوں کے ذریعے چینی اور پاکستانی ’خوابوں‘ کو ایک اشتراکی وژن میں بدلنا ہوگا۔ جس طرح بی آر آئی کے تناظر میں سی پیک کی اہمیت ہے اسی طرح سی پیک کے تناظر میں پاکستان کی تبدیلی اہم ہے۔

حساس معاملات کو خفیہ انداز میں، تدبر کے ساتھ اور مکمل باہمی اعتماد کی بنیاد پر حل کیا جاسکتا ہے۔

امریکا: یہ ہندوستان کا اسٹریٹجک اتحادی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان پر توجہ مرکوز کیے رکھی ہے جبکہ امریکا نے چین پر۔ امریکا پاکستان کا اسٹریٹجک ساتھی نہیں بن سکتا۔ مگر اس کی دوستی فائدہ مند جبکہ دشمنی نقصاندہ ہے۔ پاکستان کو افغان حل کے لیے چین کی مشاورت کے ساتھ امریکا سے مل کر کام کرنا ہوگا۔

افغانستان: پاکستان ہندوستان کو افغان حل مرحلے سے نکال نہیں سکتا۔ نہ ہی پاکستان کو ایسی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر پاکستان اپنے صحیح پتے کھیلتا ہے تو اسے افغانستان میں ہندوستان سے کہیں زیادہ بہتر بازی جیتنے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔ افغان طالبان اپنی موجودہ فوجی کامیابیوں کے باوجود افغانستان کا مستقبل نہیں ہیں اور جب تک طالبان افغان حل کے لیے تعاون نہیں کرتے تب تک وہ پاکستان کے لیے 21ویں صدی کا اثاثہ بھی نہیں بن سکتے۔

ہندوستان کو چھوٹے دل والا بڑا پڑوسی کہنا بالکل بھی غلط نہیں۔ جبکہ سوویت قبضہ کے دوران افغانستان میں پاکستان کو حاصل ہونے والے خیر سگالی کے بے پناہ جذبات کے باوجود کئی افغان باشندے پاکستان کو بطور پڑوسی اسی نظر سے ہی دیکھتے ہیں۔ کیوں؟

پاکستان کو اپنے لیے 2 محاذوں کو قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چھوٹے پڑوسی کی جانب بڑے دل کا مظاہرہ کرنا ہی ایک بہتر حکمت عملی ہے۔ جب بنیادی معاملات ٹھیک ہوں تو چند مخصوص مسائل باآسانی حل ہو ہی جاتے ہیں۔


یہ مضمون 26 جنوری 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔