’کم خرچ پر گھروں کی تعمیر کیلئے ورلڈ بینک سے 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر موصول‘

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2019

ای میل

سی ای او پی ایم آر سی کے مطابق ہمیں 70 کروڑ ڈالر موصول ہونا ہیں — فائل فوٹو
سی ای او پی ایم آر سی کے مطابق ہمیں 70 کروڑ ڈالر موصول ہونا ہیں — فائل فوٹو

کراچی: پاکستان مورگیج ری فنانس (پی ایم آر سی) کو ورلڈ بینک سے کم خرچ پر گھروں کی تعمیر کے لیے 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر موصول ہوگئے جبکہ مزید 7 کروڑ ڈالر ملیں گے۔

جون 2018 میں ہاؤسنگ کے شعبے کے فروغ کے لیے قائم ہونے والی پی ایم آر سی نے اب تک اس کام کے لیے 1.2 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔

پی ایم آر سی کے سی ای او مدثر ایچ خان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں جنرل ہاؤسنگ کے لیے 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر موصول ہوگئے ہیں جبکہ دیگر 7 کروڑ ڈالر ابھی موصول ہونے ہیں اور اس رقم کا استعمال ملک میں کم خرچ پر گھروں کی تعمیر کے فروغ کے لیے کیا جائے گا‘۔

مزید پڑھیں: عہدہ چھوڑ دوں گا لیکن رہائشی عمارتیں نہیں توڑوں گا، سعید غنی

کمپنی کی جانب سے بینکوں سے کم قیمت پر رقم حاصل کی جاتی ہے جبکہ بینکوں کو ہاؤسنگ کے لیے طے شدہ سود پر رقم دینے کی اجازت ہے۔

بینک الفلاح اور عسکری بینک کو پی ایم آر سی سے رقم موصول ہوچکی ہے جبکہ اسلامک بینک سمیت دیگر 2 بینک رقم دینے والوں سے رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن سے کم خرچ گھروں کے منصوبے پر مذاکرات کر تے ہوئے اس کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی رقم بینکوں کی جانب سے اگلے 6 ماہ میں استعمال کی جائے گی۔

ملک میں ایک کروڑ گھروں کی کمی کے باعث بینکوں اور دیگر سرمایہ کاروں کے پاس اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع ہے، خصوصی طور پر ایسا شعبہ جو حکومت کی سماجی و معاشی ایجنڈا میں اہم ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے رہائشی منصوبوں کے خلاف ہائی کورٹ کا حکم معطل کردیا

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے ڈان کو بتایا کہ ’وزیر اعظم کے ہاؤسنگ منصوبے پر ٹاسک فورس کے رکن ہونے کی حیثیت سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ 3 سے 4 ماہ میں منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے حتمی ڈرافٹ تیار کرلیا جائے گا’۔

ان کے مطابق ٹاسک فورس کے قیام کے بعد سے وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کم از کم 10 اجلاس منعقد ہوچکے ہیں، اس منصوبے کے تحت کم قیمت پر مختصر اراضی، چھوٹے گھر یا اپارٹمنٹس پیش کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں کی کوششوں سے حکومت کے منصوبوں کو تعاون حاصل ہوگا تاہم دونوں میں کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کم خرچ پر گھروں کی تعمیر کے لیے سبسیڈائزڈ فنانسنگ فیسیلٹی، جس کے تحت بینک 10 لاکھ روپے قرض کی 50 فیصد رقم کو ایک فیصد سود پر دے گا جبکہ قرض لینے والے سے یہ 5 فیصد چارج کیا جائے گا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 27 جنوری 2019 کو شائع ہوئی