ای میل

ہملٹن کہاں ہے؟ لاڑی بندر آج بھی اسے یاد کرتا ہے۔۔۔

ابوبکر شیخ

مجھے آج تک، کوشش کرنے کے باوجود بھی ’کناروں‘ کی کہانی سمجھ میں نہیں آئی اور مجھے اس گُتھی کا بھی کہیں سرا نہیں ملا کہ، دُکھ اور سُکھ، اشک و مسکان کی ایک دوسرے سے اتنی گہری رشتہ داری کیوں ہے؟

کنارے جھیلوں کے ہوں، دریاؤں کے یا سمندر کے، ان کے دامن پر بہتی لہریں کبھی خوشحالی کا خواب سچ کرتی ہیں تو کبھی بدحالی کی بدعا قبول کرلیتی ہیں۔

یہی لہریں ویرانوں میں شہر آباد کرتی ہیں اور جب بے وفائی کرنے پر آئیں تو آباد شہر اور بستیاں بھی ویرانیوں اور بربادیوں میں بدل دیتی ہیں۔

ایسی ہی کچھ کیفیات سے لبریز آج کا ہمارا سفر ہے۔ یہ سفر 7 صدیوں پر محیط ہے۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک کٹھن سفر پر نکلنا ہے، کیونکہ وہاں تک سیدھے راستے نہیں جاتے۔ مگر یہ کتنا خوشگوار احساس ہے کہ ہم 700 برس کے بیتے دنوں کے بیچوں بیچ سفر کریں گے۔

ابراہیم حیدری میں گزشتہ 2 دن سے مغربی ہوائیں چل رہی تھیں اور بیزار کرتی تھیں۔ یہ ہوائیں اپریل اور مئی میں تو بھلی لگتی ہیں مگر جنوری میں تو جیسے آپ کے اندر چڑچڑا پن پیدا کردیتی ہیں۔

آج جب ابراہیم حیدری سے ‘ریڑھی بستی‘ کے لیے نکلا تو صبح کے 6 بجے تھے اور شمال کی تیز ہوائیں ابراہیم حیدری کی گلیوں میں طمطراق سے چل رہی تھیں۔ دکانیں بند تھیں البتہ مٹھائی اور چائے کی دکانیں کُھلی تھیں۔ آپ جیسے ابراہیم حیدری سے ریڑھی گوٹھ کی طرف چلنا شروع کرتے ہیں، سمندر کے کنارے بھی آپ کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ ہلکی دھند کی چادر ہے جو چہارسو پھیلی ہوئی ہے۔ چیلیں ہیں جو خوراک کی تلاش کے لیے دھند آلود آسمان پر اُڑنے لگی ہیں اور پھر ریڑھی بستی کے گھاس پھوس اور لکڑی سے بنے گھر ہیں جن میں سے دھواں اُٹھتا ہے، کہ آگ کا گرم الاؤ سردی میں حدت دیتا جس میں تسکین چھپی ہوتی ہے۔

لاڑی بندر۔
لاڑی بندر۔

ہم جب اس گاؤں کی پیچیدہ سی گلیوں سے ہوتے ہوئے کشتی تک پہنچے تو کشتی تیار تھی اور اس مقام پر کھڑی تھی جہاں ایک زمانے میں بارش کا پانی بہتا سمندری پانی سے آ ملتا (اس لیے ایسی نہر کو جو فقط بارشوں میں بارشی پانی سے بھر کر بہے اُس کو ’نئے‘ کہا جاتا ہے)۔ مگر کیونکہ اب ترقی کے شگوفے ہر جگہ پھوٹ رہے ہیں تو یہ نالہ اب برس کے 365 شب روز بہتا ہے۔ ساتھ میں گندگی کی ایک دنیا لے کر چلتا ہے اور سمندر کو مزید کثیف کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

ہم نکلے تو مشرق پر پھیلی شفق سے سورج بھی مسکاتا نکلا۔ پورٹ قاسم کے چینلز پر جہاز کھڑے تھے، کچھ میں سے سامان اُتر رہا تھا اور کچھ پر لادا جا رہا تھا۔ کہتے ہیں کہ بن قاسم پورٹ ایک شاندار اور مصروف بندرگاہ ہے۔ جہاں دن رات ایک پلڑے میں تُلتے ہیں۔ ہم بھی ایک ایسی ہی بندرگاہ کے لیے سفر کررہے تھے جہاں کسی زمانے میں بن قاسم بندرگاہ جیسی مصروفیت تھی۔

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ جب، گھارو والے بہاؤ میں ریت بھر گئی تو 1250ء کے قریب ’بھنبھور‘ والا مشہور بندرگاہ ویران ہوگیا۔ یہ بات ’الیگزینڈر کننگھام‘ اور ’جیمس میکمرڈو‘ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں ’لاڑی بندر‘ (لاہری بندر یا لہری بندر) کا نام ملتا ہے۔ مگر یہ نام جب تاریخ کے صفحات پر پڑھنے کو ملتا ہے تو اُس وقت وہ ایک مشہور بندرگاہ کی حیثیت حاصل کر چُکا تھا۔ ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے ابن بطوطہ کا جس کے یہاں آنے سے ہمیں 2 آسانیاں میسر آجاتی ہیں، ایک تو بہاؤ کی، کہ اُس وقت کون سا بہاؤ بہتا تھا اور لاڑی بندر کی اہمیت کی۔

لاڑی بندر پر واقع قلعہ—تصویر ابوبکر شیخ
لاڑی بندر پر واقع قلعہ—تصویر ابوبکر شیخ

ابنِ بطوطہ، سیہون سے لاڑی بندر پہنچا تھا، اُس بہاؤ کے متعلق بہت سارے محققین نے تحقیق کی ہے۔ ’پتھاوالا‘ کی تحقیق کے مطابق، ’یہ وہی بہاؤ تھا جہاں اب روہڑی کینال ہے، یہ بہاؤ برہمن آباد سے شمال اور مغرب میں 2 حصوں میں تقسیم ہوجاتا۔ ایک بہاؤ جنوب میں نصرپور کے مشرق سے ہوتا ہوا مغرب جنوب میں ٹنڈو محمد خان کے قریب سے ہوتا ہوا ٹھٹہ کے شمال سے گزر کر، دیبل اور لاڑی بندر کے شمال جنوب میں جاکر سمندر میں گرتا تھا۔‘

ابنِ بطوطہ جب یہاں آیا تو لاڑی بندر ایک مصروف، مشہور اور شاہوکار بندر تھا۔ ابنِ بطوطہ کے مطابق، ’یہ خوبصورت شہر سمندر کے کنارے واقع ہے۔ قریب ہی دریائے سندھ سمندر میں جا گرتا ہے۔ یہ شہر بڑی بندرگاہ ہے۔ یمن اور فارس کے جہاز اور تاجر بکثرت نظر آتے ہیں، اس لیے یہ شہر بہت مالدار ہے اوراس کے محاصل بھی زیادہ ہیں۔

علاءالملک کہتے تھے کہ، اس بندر کے محاصل 60 لاکھ دینار ہیں۔ امیرالملک کو اس کا 20واں حصہ ملتا ہے باقی مرکزی حکومت میں جمع ہوتا ہے۔

ہندوستان، 1605ء
ہندوستان، 1605ء

اس ذکر کے بعد دوسرا ذکر ہمیں 1540ء میں ملتا ہے۔ ’تاریخ طاہری‘ کے مصنف، طاہر محمد نسیانی لکھتے ہیں کہ، ’مجمع الشعراء جہانگیر شاہی، کے مؤلف ’ملا قاطعی‘ تحریر کرتے ہیں، ’ملا جانی بندری اصل میں مروزی تھا، جہاں سے چل کر آگرہ آیا اور ہمایوں کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر زیادہ دن نہیں گزرے کہ دنوں نے پلٹا کھایا اور ہمایوں شیر شاہ سوری سے بھاگتا پھر رہا تھا۔ ٹھٹہ کے مرزا شاہ حسن کی پوری کوشش تھی کہ ہمایوں یہاں نہ آئے جبکہ ہمایوں کی محل کا یہ، ’ملا جانی‘ یہاں ٹھٹہ میں انتہائی خستہ حالت میں آ نکلا۔ اس کی فصاحت، بلاغت اور قادرالکلامی نے مرزا شاہ حسن کو بہت متاثر کیا۔ اسی زمانے میں ’لاڑی بندر‘ پر نئی تعمیرات کا کام چل رہا تھا، جس کے لیے مُلا جانی کو وہاں مقرر کیا گیا۔ اُس نے وہاں اچھا وقت گزارا اور اچھے پیسے کمائے۔

وہ جب لاہری بندر سے ٹھٹہ آتا تو اپنے خاص دوست مُلا نیازی کے لیے بہت سارے تحفے لاتا تھا اور اسی کے پاس ہی رکتا تھا۔ ایک دفعہ انہوں نے، مُلا نیازی کے اُستاد ’ملا قاطعی‘ کو بھی لاڑی بندر آنے کی دعوت دی اور کہا کہ، ’آپ ضرور آئیں اور دیکھیں کہ ہم نے ہرات کی طرح وہاں بھی شاندار باغات لگا رکھے ہیں۔ قاطعی جب اُس کی دعوت پر لاڑی بندر گیا، تو مُلا جانی نے اُس کا پُرجوش استقبال کیا اور اس کی پذیرائی کے لیے قیمتی قالین بچھائے۔ کھانے کے لیے انواع و اقسام کے طعام پکوائے اور محفل موسیقی کا انتہائی اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا۔ مُلا جانی نے خود، سونے اور چاندی سے بنی ہوئی صراحیوں میں طرح طرح کے مشروبات پیش کیے تھے۔ یہ سب دیکھ کر مُلا قاطعی حیران ہوا۔ مُلا جانی نے قاطعی کو بتایا کہ، وہ بھی زمانہ تھا جب میں اپنے ملک میں سِری پائے پکانے والوں اور نان بیچنے والوں کے لیے شعر لکھ کر اپنا پیٹ بھرتا تھا اور اب یہ زمانہ ہے کہ جو طلب کرو ملتا ہے۔‘

تاریخ طاہری کی اس تحریر سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ، یہ بندرگاہ کتنی شاندار رہی ہوگی۔اور وسائل کی کتنی ریل پیل تھی یہاں۔

سندھ اور کچھ، 1827ء
سندھ اور کچھ، 1827ء

اس کے بعد 1555ء میں پرتگالی ہمیں ٹھٹہ میں لوٹ مار کرتے نظر آتے ہیں لیکن اس کے کچھ ہی برسوں بعد وہ ہمیں ’لاڑی بندر‘ میں اچھے بیوپاریوں کی طرح مضبوط حالت میں نظر آتے ہیں۔ 1608ء میں ہمیں بیوپار کے حوالے سے پرتگالیوں کا ایک خطرناک روپ دیکھنے کو ملتا ہے۔ 1612ء میں اینتھنی اسٹارکی (Anthony Starkey) انگریزوں کا جاسوس بن کر ’ڈریگن‘ شپ میں سوار ہوکر لاڑی بندر پہنچا مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ کیونکہ بندر پر رہنے والے 2 پرتگالی پادریوں نے ان کو زہر دے کر مار ڈالا۔اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ پرتگالی اپنی جڑیں جما چکے تھے۔

یہی وہ زمانہ ہے جب ’نکولس وتھنگٹن‘ (14ء-1613ء) میں یہاں آیا مگر سمندر کے ذریعے نہیں بلکہ خشکی کے راستے احمد آباد، رادھنپور اور ننگر پارکر سے نئوں کوٹ، ونگو اور فتح باغ سے پریشان اور خوار و خراب ہوتے ہوئے اس نے ٹھٹہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔ (وتھنگٹن کو ٹھٹہ اس لیے بھیجا گیا تھا کہ، وہ ایک انگریز جہاز سے رابطے میں آئے جس میں رابرٹ شرلے سوار تھا (1) اور لاڑی بندر میں لنگرانداز ہوچکا تھا۔

ریڈ ڈریگن شپ
ریڈ ڈریگن شپ

ٹھٹہ سے 60 میل پہلے ’سارانی‘ نام کی ایک جگہ پہنچے، جہاں کے گورنر کا نام وتھنگٹن ’راگی بوما‘ بتایا گیا ہے۔ اُس نے وتھنگٹن کی بڑی اچھی دعوت کی اور خوب شراب پلائی۔ دوسرے دن اسی شہر میں اُس کی ملاقات ایک بنیے سے ہوتی ہے جو ننگر ٹھٹہ سے لوٹا تھا، اس نے اِس کو ایک دلچسپ خبر دی کہ، سر رابرٹ شرلے، اُس کی بیوی اور کچھ انگریز عورتیں ٹھٹہ میں ہیں۔ اسی جہاز میں وہ بنیا بھی لاڑی بندر سے ان کے ساتھ ٹھٹہ آیا تھا۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ، سر رابرٹ شرلے کی ٹھٹہ کے نواب نے اور پرتگالیوں نے بڑی توہین کی اور ہیرے جواہر لوٹ لیے تھے(2)۔ بنیے نے اُسے مشورہ دیا تھا کہ، وہ ٹھٹہ سرکاری لوگوں کے تحفظ میں جائے اور اس نے ایسا ہی کیا۔ تاہم وہ ٹھٹہ نہیں پہنچ سکا اور اُسے اسی راستے سے واپس لوٹ جانا پڑا۔

اینتھنی شرلے
اینتھنی شرلے

1641ء میں ’فرے سباسچن منرک‘ (Fray Sebastien Manrique) لاہری بندر آیا تھا۔ وہ اس حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ، ’دوستی کی ہمت افزائی کی وجہ سے مجھے شاہی مہر سے فرمان حاصل ہوا کہ میں سندھ ملک میں چرچ اور دوسری چرچ کی جگہوں کی تعمیر کرا سکوں۔‘ منرک لاہور کے راستے لاہری پہنچا۔ وہ کوئی زیادہ عرصہ تو یہاں نہیں رہا مگر لاہری میں برباد چرچ کے مہتمم اعلیٰ فادر ’جورگی ڈی لان ٹویڈاد‘ سے تفصیلی ملاقات اور چرچ کی تعمیر کے متعلق بات کی۔ پھر دونوں ٹھٹہ آئے۔ دونوں کو لاہری سے ٹھٹہ تک سفر میں 2 دن لگے اور ٹھٹہ میں گورنر سے چرچ کی تعمیر سے متعلق بات کی اور تعمیر کے سامان کا بندوبست کیا۔ منرک نے ایک ماہ قیام کیا۔ ٹھٹہ شہر کے متعلق اس کی تحریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

منرک 1590ء میں پرتگال میں پیدا ہوا تھا۔ عمر کے آخری برسوں میں زندگی نے اس سے شفقت کی چادر کھیچ لی۔ اس نے آخری عمر میں لندن میں شادی کی۔ لیکن یہ شادی ’منرک‘ کے لیے کوئی اچھا شگون ثابت نہیں ہوئی۔ 1669ء میں اس کے ایک نوکر نے اسے گھر میں قتل کرکے لاش ایک پیٹی میں بند کرکے تھیمس ندی میں پھینک دی۔

1636ء یعنی منرک سے 5 برس قبل ’فریملن‘ نے کمپنی کی ایک رپورٹ میں تحریر کیا کہ، ’ ٹھٹہ لاڑی بندر سے تقریباً 28 کوس یعنی 56 میل دُور ہے۔ شہر میں 3 ہزار ’کوری‘ کپڑے بنانے کے کاریگر ہیں۔ یہاں کے بیوپاری، بصرہ اور کونگو (Kangun of Persia) سے مستقل طور پر بیوپار کرتے تھے۔ سارے ہندوستان میں جیسا کپڑا یہاں بنتا ہے کہیں اور نہیں بنتا۔ لاہری میں ہر ہفتے احمد آباد سے ڈاک آتی ہے۔ یہ ایک مصروف بندرگاہ ہے۔‘ 1631ء میں ڈچوں کا جہاز Brouwer Shavon جب لاڑی بندر پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں ایران، عرب اور افریقا کے جہاز کھڑے تھے۔ ہمارا جہاز جیسے ہی کنارے پر پہنچا تو پرتگالی غصے میں آگئے اور ٹھٹہ کے گورنر کو دھمکی دی کہ اگر ڈچوں کو یہاں بیوپار کی اجازت دی گئی تو ہم لاڑی بندر چھوڑ کر چلے جائیں گے۔‘

اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو، پرتگالی ہی وہ پہلے یورپی تھے جنہوں نے سمندری راستے ڈھونڈے اور ان کے کناروں پر جہاز رانی کی۔ پرتگالی انگریزوں سے کئی برس پہلے سندھ آئے تھے اور اپنے قدم یہاں جما چکے تھے۔ ان کا بیوپار ایرانی خلیج، گجرات اور گووا کے ساتھ انتہائی مضبوط بنیادوں پر ہو رہا تھا۔ مورلینڈ‘ کے مطابق، ’مقامی لوگوں کے پاس کشتیاں بہت کم تھیں اس لیے تجارتی سامان کے لیے پرتگالیوں کے جہاز استعمال ہوتے تھے، جن کو اس زمانے میں ’فرگیٹ‘ بلایا جاتا تھا۔‘

فرگیٹ جہاز
فرگیٹ جہاز

انڈیا ایسٹ کمپنی کے جہاز
انڈیا ایسٹ کمپنی کے جہاز

اب ایسے منظرنامے میں ایسٹ انڈیا کمپنی جس کو کوئین ایلزبیتھ نے 31 دسمبر 1602ء میں ہندوستان سے بیوپار کرنے کے لیے پروانہ دیا تھا اس سے کچھ عرصہ پہلے ’ہالینڈ‘ کے ڈچوں نے بھی ایک بیوپار کی کمپنی قائم کی تھی۔ الفرڈ لایل لکھتے ہیں کہ، ’ان دونوں کمپنیوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی کہہ کر بلایا جاتا تھا۔ ڈچوں نے ہندوستان کے مشرقی طرف والے جزیروں کا رخ کیا جہاں چینی اور گرم مصالحوں کی پیداوار زیادہ تھی۔ انگریزوں نے 1611ء میں پہلی بار سورت میں بیوپاری کوٹھی کھولی۔ 1612ء میں سورت کے قریب 29 اور 30 نومبر کو پرتگالیوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ ہوئی، اس جنگ کو Battle of Swally کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس جنگ میں انگریزوں نے پرتگالیوں کے بیڑوں کو ایسی شکست دی کہ انگریزوں کا سمندر پر پلڑا بھاری ہوگیا۔ 1615ء میں انگریزوں کے فقط ایک جہاز پر ایک لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ کا ہندوستانی مال لدا ہوا تھا اور 2 جہازوں کا مغل سرکار کو 14 ہزار پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا گیا۔‘

سورت، 1646
سورت، 1646

سورت کے انگریز ایجنٹ کافی عرصے سے سندھ سے بیوپار کرنے کے منتظر تھے مگر پرتگالیوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے بیوپار کرتے ہوئے کتراتے تھے۔ مگر جہانگیر نے جب سندھ، بمبئی اور مدراس میں کوٹھیاں کھولنے کی اجازت دی تو انگریزوں نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے 26 اپریل 1630ء میں کمپنی کے ایک دلال (بروکر) کو سندھ (لاڑی) بھیجا۔ وہ وہاں سے 2 گٹھڑیاں اعلیٰ کپڑے کی اور کچھ نیل خرید کرکے سورت واپس پہنچا۔

1635ء میں ایک جہاز ’ڈسکوری‘ لاڑی بندر پہنچا، جس پر ولیم فریملین، جان سپلر اور رچرڈ موئلے جو انگریز تجارتی وفد کے میمبر تھے، سوار تھے۔ کمپنی نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ پرتگالیوں سے کوئی واسطہ نہ رکھیں اور فقط کپڑے کا بیوپار کریں۔ شاہی پروانے کی وجہ سے ٹھٹہ کے عملداروں نے وفد کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا اور ان کی رہائش کے لیے ایک اچھی عمارت کا انتظام بھی کیا گیا۔ انہیں ملنے والی عزت پر جو رپورٹ سورت بھیجی گئی اس میں تحریر کیا گیا کہ ’ہم جب بڑا سفر کرکے دسمبر کی ٹھنڈی آدھی رات کو لاہری پہنچے تو بندرگاہ پر گہما گہمی تھی۔ پرتگالیوں کے جہاز اور مقامی لوگوں کی کشتیاں کھڑی تھیں اور کچھ میں سے مال اتارا جارہا تھا اور کچھ میں رکھا جا رہا تھا۔‘ یہاں کمپنی کو اچھا بیوپار ملا، جس کی وجہ سے 1636ء میں دائمی کوٹھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

1635ء سے 1662ء تک کمپنی نے خوب بیوپار کیا۔ ٹھٹہ اور لاڑی بندر دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے تھے۔ لاڑی بندر سے ٹھٹہ 2 راستے آتے تھے۔ ایک سمندری اور دوسرا خشکی کا۔ خشکی کے راستے کے بیچ میں یعنی 28 میل پر ایک کارواں سرائے بنی ہوئی تھی، جہاں قافلوں کے رہنے اور خوراک کا انتظار ہوتا تھا۔ اس سرائے کے نزدیک 30 سے 40 گھروں کا گاؤں تھا۔ جو مرغیاں، بکریاں اور بھیڑیں فروخت کرتے تھے۔ آپ تصوراتی آنکھ سے دیکھیں اور محسوس کریں کہ جس بندرگاہ پر اتنے جہازوں کی آمد و رفت ہوگی وہاں کیا چہل پہل ہوگی۔ ایک میلہ سا لگا ہوا ہوگا اور پھر ٹھٹہ کی تو بات ہی کیا کرنی کہ اس کی گلیاں گہماگہمی کی خوبصورتی سے بھری رہتیں۔

سورت میں واقع قلعہ
سورت میں واقع قلعہ

مگر پھر 1659ء میں کچھ تبدیل ہوتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ اسی برس ملک میں ’پلیگ‘ پڑی۔ جس نے انسانوں کی زندگی کے خوشیوں کو درانتی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ 13 اپریل 1660ء کمپنی کو خط تحریر کیا گیا کہ ’احمد آباد میں خوراک کی چیزیں مہنگی ہیں جبکہ سندھ میں کال اور بیماری کے باعث صورتحال انتہائی خراب ہے۔ جو لوگ زندہ ہیں وہ مرے ہوئے لوگوں کو دفن کرتے جاتے ہیں مگر پوری طرح لوگ دفن نہیں ہوپاتے ہیں۔ پھر اس معاشی بدحالی کا دوسرا سبب اورنگزیب کا تخت پر بیٹھنا بھی تھا کیونکہ دارا شکوہ اور دوسرے خاندان کے لوگوں کے لہو کے چھینٹوں سے اورنگزیب کا دامن داغدار تھا۔ جس کی وجہ سے لوگ غصے میں تھے۔

کمپنی کے بیوپار میں کمی آنے کی وجہ سے کمپنی سندھ سے اپنی بیوپاری کوٹھی بند کرنے کا سوچ رہی تھی۔ بالآخر 16 اپریل 1662ء کو یہاں مقرر ’مسٹر ولیم بیل‘ کو خط لکھ کر یہ تاکید کی گئی کہ ’وائین‘ نامی جہاز پر وہ واپس لوٹ آئے، جو اکتوبر کی آخر میں لاڑی بندر پہنچنے والا تھا۔ وائین، بصرہ سے لاڑی بندر اکتوبر کے بالکل آخر میں پہنچا۔ اس میں کمپنی کا دوسرا عملہ بھی سوار ہوا۔ ساتھ میں ’شورہ‘ اور ’سوتی کپڑہ‘ بھی لادا گیا اور یہ جہاز 12 نومبر 1662ء کو سورت پہنچا۔ اسی طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کی سندھ میں بیوپاری کوٹھی کا پہلا دور اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔ ایچ ٹی سورلے لکھتے ہیں ’اس طرح کا تجربہ پھر آنے والے 96 برسوں تک نہیں دہرایا گیا۔‘

جب دوسری بار کمپنی نے ٹھٹہ میں 96 برسوں بعد 1758ء میں کوٹھی کھولی تو بہت کچھ بدل چکا تھا۔ مغل سلطنت اپنے آخری دن گن رہی تھی مگر ہم بیچ والے زمانے کو بغیر دیکھے آگے نہیں چل سکتے اور اس زمانے کو بتانے والا ہمارا ایک اچھا دوست ہے ’الیگزینڈر ہملٹن‘۔ وہ یقیناً ایک شاندار آدمی رہا ہوگا۔ میں اگر اس کی تصویر دیکھ سکتا تو اس کے متعلق ضرور کچھ کہتا مگر وہ اچھی صحت اور تجزیاتی نظر رکھنے والا لکھاری تھا اور ساتھ میں وہ ایک اچھا بیوپاری، مہم جُو اور سیاح تھا۔

اس کی تحریر کی ہوئی مشہور کتاب ’دی نیو اکاؤنٹ آف دا ایسٹ انڈیز‘ جس پر ولیم فوسٹر نے تحقیقاتی نوٹ لکھے تھے۔ ہملٹن 1699ء میں مالابار سے یہاں اپنا مال بیچنے آیا تھا۔ وہ ایک زبردست مبصر تھا جو اس کی تحریر سے عیاں ہے۔ ہم اس کے ساتھ اس لیے چل پڑے ہیں کہ 17ویں صدی کا اختتام اور 18ویں صدی کی ابتدا ہو رہی تھی۔ ہم اس کی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس زمانے میں یہاں کی معروضی حالت کیسی تھیں؟

’بہت خراب تھیں۔‘

یہ ہملٹن کہتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ ’اپنے بچاؤ اور تحفظ کا احساس بہت کم تھا، گاؤں ڈاکوؤں کے نرغے میں تھے۔ بیوپاریوں کے قافلے محفوظ نہیں تھے کیونکہ یہ ان پر حملہ کردیتے تھے۔’

1966 کا نقشہ، جو ’دی نیو اکاؤنٹ آف دا ایسٹ انڈیز‘ میں شائع ہوا
1966 کا نقشہ، جو ’دی نیو اکاؤنٹ آف دا ایسٹ انڈیز‘ میں شائع ہوا

وہ کہتا ہے کہ، ’اگر یہاں یہ حالت ہے تو انگلینڈ، فرانس اور جرمنی میں بھی صدی کے ابتدا میں کوئی اچھی حالتیں نہیں تھیں۔ ایسا وقت تھا جب انگلینڈ کا کوئی بھی آدمی خشکی کے راستے لمبا سفر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر سفر کرتا تھا تو مصیبت کے لیے تیار رہتا تھا، جس کو آنا ہی ہوتا تھا۔ اس لیے وہ 2 بڑے پستول اپنے ساتھ رکھتا تھا تاکہ وہ اپنے مال و اسباب، ڈاکوؤں سے بچا سکے۔

ہملٹن کے زمانے میں، سمندر، لاہری بندر سے 18 میل دُور تھا اور 200 ٹنوں کے جہاز کھڑے کرنے کی جگہ تھی۔ بندر کی آبادی اس کو متاثر نہ کرسکی، وہ لکھتا ہے کہ ’یہ 100 گھروں پر مشتمل ایک گاؤں ہے جو لکڑی اور مٹی سے بنا ہوا ہے۔ اس گاؤں کے گرد ایک بڑا قلعہ ہے۔ دفاع کے لیے اس قلعہ کی دیواروں پر بڑی بڑی توپیں نسب ہیں جو یہاں آئے ہوئے تجارتی سامان کو بلوچوں اور مکرانیوں سے بچانے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ ایک اونٹوں کے قافلے کے تحفظ کے لیے 100 سے 200 تک گھڑ سوار ساتھ ہوتے ہیں، یہ جیسے ایک روایت سی بن گئی ہے۔‘

وہ کچھ بڑے بڑے واقعات کا ذکر بھی کرتا ہے لیکن ہم اگر اس کے قافلے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو اسی کی زبانی سن لیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔ وہ کہتا ہے کہ ’میں جو مال لایا تھا اس کی مالیت 10 ہزار پاؤنڈز جتنی تھی۔ بندرگاہ اور شہر کے بیچ عدم تحفظ کا یہ حال تھا کہ کوئی بھی ہندوستان سے تعلق رکھنے والا بیوپاری تب تک مال نہیں خرید سکتا تھا جب تک وہ مال ٹھٹہ کی مارکیٹ میں نہ پہنچے۔‘

ہملٹن جس قافلے میں شامل تھا وہ کافی بڑا تھا، جس میں 1500 جانور سامان لادنے کے لیے تھے۔ اتنی تعداد میں مرد و خواتین شامل تھے۔ قافلے کی نگرانی کے لیے 200 شہہ سوار تھے مگر پھر بھی تحفظ کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال تھی۔ کارواں سرائے پہنچنے سے پہلے اس کے قافلے کا کچھ ڈاکوؤں نے گھیراؤ کیا مگر ہملٹن کے پاس اچھے بندوق باز تھے جن کی وجہ سے قافلے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ہملٹن لکھتا ہے کہ، ’کارواں سرائے کو محفوظ بنانے کے لیے کوٹ (قلعہ بند دیواریں) تعمیر کی گئی تھی۔ جہاں خود کو محفوظ محسوس کیا جاتا تھا۔‘

ٹھٹہ میں اپنی پُرتکلف رہائش سے ہملٹن بہت متاثر ہوا تھا کیونکہ وہ عمارت 15 کمروں پر مشتمل تھی۔ ٹھٹہ کے گورنر نے اس کی بڑی خاطر تواضع کی اور اسے ایک بیل، 5 بھیڑیں، 5 بکریاں، 20 مرغیاں، 50 کبوتر، میوہ جات اور مٹھائیاں تحفے کے طور پر بھیجیں۔ بدلے میں گورے صاحب نے بھی ایک آئینہ، ایک بندوق، 2 پستول، ایک تلوار میان، ایک خنجر جس پر سونے کا پانی چڑہا ہوا تھا اور ایک شیشے کا چاقو تحفے میں دیا۔ جس کے بدلے میں گورنر نے اس کے سامان سے سارا ٹیکس معاف کردیا اور یہ بھی حق دیا کہ سامان کے بعد اگر ادائیگی میں دیر ہو تو وہ اس آدمی کو قید میں بھی رکھ سکتا ہے۔ یہ حالات الیگزینڈر ہملٹن کے لیے انتہائی خوشگوار تھے۔

وہ یہاں کی بنی ہوئی مقامی کشتیوں، کشتیوں پر بنے ہوئے کمروں اور ان کے حفاظتی انتظامات سے بڑا متاثر نظر آتا ہے۔ وہ شہری زندگی میں بیوپار کی ریل پیل اور خوراک کے چیزوں کی سستائی اور فراوانی کے متعلق بھی بتاتا ہے۔ وہ ہمیں پرتگالیوں کی اس کلیسا کے متعلق بھی بتاتا ہے جو اسے ویران نظر آئی۔ بلاشبہ یہ وہی جگہ تھی جس کے متعلق 1641ء میں ہمیں ’منرک‘ بیتاب نظر آتا ہے۔ ہملٹن تحریر کرتا ہے کہ ’پرتگالیوں کی پہلے شہر سے مشرق میں ایک کلیسا ہوتی تھی، وہ جگہ ابھی بھی صحیح سلامت ہے۔ سنتوں کی تصویریں، گرجا گھر کے لباس خانہ میں اب بھی موجود ہیں اور کچھ مقدس لباس ہیں جو بیچنے کے لیے رکھے گئے تھے مگر میں ایسی چیزوں کا بیوپاری نہیں تھا۔

وہ جگہ جہاں کبھی کلیسا کی عمارت تھی—تصویر ابوبکر شیخ
وہ جگہ جہاں کبھی کلیسا کی عمارت تھی—تصویر ابوبکر شیخ

وہ جگہ جہاں کبھی کلیسا کی عمارت تھی—تصویر ابوبکر شیخ
وہ جگہ جہاں کبھی کلیسا کی عمارت تھی—تصویر ابوبکر شیخ

'ہم جب سمندر پر جاڑوں کہ ٹھنڈے اور پُرسکون پانی پر سفر کرتے ’لاڑی بندر‘ پہنچے تو لو ٹائیڈ کی وجہ سے کنارے پانی سے خالی ہوچکے تھے۔ ہم نے اپنی کشتی بالکل اس ’کلیسا‘ کے قریب روکی جس کو ساڑھے 300 برسوں اور سمندر نے مل کر اینٹوں کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے۔ یہ سفر کا کوئی اچھا شگون نہیں تھا کیونکہ ہملٹن نے اپنی تحریروں میں جن خاص مقامات یا جشنوں کا ذکر کیا ہے ان کا تو ملنا ممکن نہیں تھا مگر اس کلیسا کے متعلق مجھے یقین تھا کہ اور نہیں تو کچھ دیواریں ہی دیکھنے کو مل جائیں گی۔ اس یقین کی وجہ یہ تھی کہ مقامی لوگ اس بندرگاہ کو ’لاڑی‘ کے نام سے کم ’قُبی‘ (چھوٹے گنبد والی مزار) کے نام سے زیادہ جانتے ہیں اور چونکہ یہاں بیوپاروں میں پرتگالی، ڈچ اور انگریز زیادہ رہے ہیں تو وہ گنبد کلیسا کا ہی ہوگا مگر اب اس جگہ اینٹوں کا ڈھیر ہے جن پر سمندر کی مٹی کے تہہ جم گئی ہے اور وہ سرخ اینٹوں سے مٹیالے رنگ میں بدل گئی ہیں۔

'پھر میں نے دیکھا کہ سارا سمندر سوکھ گیا ہے۔ کلیسا کے مشرق میں ’نارقی‘ نہر شمال سے بہتی جنوب کی طرف جاتی تھی جہاں سمندر تھا کہ پانی کو پانی کا عشق سکون سے کہیں ٹھہرنے نہیں دیتا۔ اس لیے ساری ندیاں سمندر کی طرف دوڑ پڑتی ہیں۔ شہر پناہ کے جنوبی کنارے پر ٹیکس لینے والوں اور قلعے کی حفاظتی کوٹھی کے کمرے ہیں۔ یہ سب کتنا شاندار ہے۔ اس کوٹھی سے جان پہچان کرانے کے بعد میں شہر پناہ میں داخل ہوجاتا ہوں۔ اندر ایک چھوٹا سا شہر ہے اور ساتھ میں رہائشی علاقہ بھی۔ یہ تو جنگل میں منگل کی طرح ہے۔ پھر میں گھومتا گھامتا کوٹ کے مرکزی دروازے پر پہنچ جاتا ہوں۔ یہ دروازہ قلعہ کے مشرقی دیوار کے بالکل بیچ میں ہے۔ 2 بڑے بڑے طاق ہیں جن پر پھول بوٹے بنے ہوئے ہیں اور بہتر دفاع کے لیے دیوار پر لوہے کی مضبوط کیلیں گاڑ دی گئی ہیں کہ حملہ کرنے والا آسانی سے دروازہ توڑ نہ سکے۔

ٹیکس کوٹھی سے شمال کی طرف شہر پناہ کے برج اور نشان—تصویر ابوبکر شیخ
ٹیکس کوٹھی سے شمال کی طرف شہر پناہ کے برج اور نشان—تصویر ابوبکر شیخ

شہر پناہ کے جنوب میں ٹیکس کی کوٹھیاں—تصویر ابوبکر شیخ
شہر پناہ کے جنوب میں ٹیکس کی کوٹھیاں—تصویر ابوبکر شیخ

'دروازے پر 2 پہرے دار ہیں۔ جو ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ کر بیزار سے ہوگئے ہیں۔ پھر آپ جیسے کوٹ کے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک وسیع دنیا آپ کو دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ کوٹ لمبائی اور چوڑائی 320x320 ہے۔ قلعے کی بنیادیں پیلے پتھر کی اینٹوں سے چُنی گئی ہیں تاکہ سیم و تھور کی وجہ سے قلعے کو نقصان نہ پہنچے۔ دیواروں پر خوبصورت اینٹوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اینٹیں یہیں بنی ہیں۔ اس قلعے کے 12 برج ہیں جو اس کے تحفظ اور مضبوطی کے لیے بنائے گئے ہیں۔ کچھ برجوں پر توپیں بھی نصب ہیں کہ بلوچوں اور دوسرے حملہ آوروں سے قلعے اور بندر کو محفوظ رکھا جاسکے۔ آپ قلعے میں جیسے داخل ہوتے ہیں تو دائیں جانب کئی کمرے نظر آتے ہیں جہاں چہل پہل زیادہ ہے۔ میرے پوچھنے پر وہاں کام کرنے والا بتاتا ہے کہ، یہ گودام ہے۔ جب تک مال ٹھٹہ نہ بھیجا جائے یا ٹھٹہ سے آیا ہوا مال جہاز پر لاد نہ لیا جائے تب تک یہیں محفوظ رکھا جاتا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کے اس لیے قلعہ زمین سے کچھ فٹ اوپر بنایا گیا ہے کہ ماحول اور موسم کی وجہ سے مال خراب نہ ہو۔ مجھے بتانے کہ بعد وہ اپنی پگڑی کھولتا ہے اور سر کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر جیسے اسے ٹھنڈک دیتا ہے۔ پھر سفید کپڑے کی پگڑی باندھنے لگتا ہے۔ میں سیڑھیوں سے ہوتا ہوا قلعے کی دیوار پر آتا ہوں۔ میں جیسے ہی دیوار پر چڑھتا ہوں مجھے بندوق کی زوردار آواز سنائی دیتی ہے۔ میں برج پر پہرے دار سے پوچھتا ہوں کہ یہ بندوق کی آواز تھی؟ وہ کہتا ہے کہ ہاں بندوق کی آواز تھی۔ میں کہتا ہوں، بہتر، مگر کیوں؟

شہر پناہ کے جنوب میں ٹیکس کی کوٹھیاں—تصویر ابوبکر شیخ
شہر پناہ کے جنوب میں ٹیکس کی کوٹھیاں—تصویر ابوبکر شیخ

شہر پناہ کے جنوب میں ٹیکس کی کوٹھیاں—تصویر ابوبکر شیخ
شہر پناہ کے جنوب میں ٹیکس کی کوٹھیاں—تصویر ابوبکر شیخ

قلعے کے برج—ابوبکر شیخ
قلعے کے برج—ابوبکر شیخ

'اس کا جواب آتا ہے کہ، وہ اس لیے کہ، سمندر یہاں سے کافی دُور ہے۔ یہاں اور بندر کے بیچ فاصلے پر ’میربندر‘ کی جگہ ایک جزیرے ’سون میانی‘ پر ہے۔ جیسے ہی کوئی نیا جہاز لاڑی بندر کی طرف آتا ہے تو اسے چیک کرنے کے بعد بندوق کا فائر کیا جاتا ہے، جو ہمارے لیے ہوتا ہے کہ جہاز آ رہا ہے۔ پھر ہم فائر کرتے ہیں اس طرح ٹھٹہ تک اطلاع پہنچ جاتی ہے کہ نیا جہاز مال لے کر آگیا ہے۔ یہ سُن کر مجھے اچھا لگا کہ ایک بہتر نظام ہی کسی ادارے کو بہتر طریقے سے چلانے کا واحد ذریعہ ہے۔ میں دیوار سے چلتا چہارسو دیکھتا ہوں۔ ایک دنیا ہے جو یہاں بستی ہے۔ برتن بن رہے ہیں اور آویوں (برتن جس بھٹی میں پکائے جاتے ہیں اس کو آوی کہا جاتا ہے) میں برتن پک کر سُرخ ہو رہے ہیں کہ یہاں کے برتنوں کی مارکیٹ دُور دراز ملکوں میں ہے۔ ایران سے زیادہ یہاں کے برتنوں کی مارکیٹ ہے۔ مشرق میں دریا کے شاندار بہاؤ میں کچھ کشتیاں ٹھٹہ سے آ رہی ہیں اور کچھ جا رہی ہیں۔ انسانوں کی آوازوں کے ساتھ کبھی کبھار کتوں کے بھونکنے کی بھی آوازیں شامل ہوجاتی ہیں۔ میں نیچے اُتر کر کوٹ کے مرکزی دروازے سے آبادی اور داخلی کمروں سے ہوتا ہوا باہر آتا ہوں کہ کلیسا کا ایک چکر لگالوں۔ مگر چکر لگانے سے پہلے چائے کا بھاپ اُڑاتا پیالہ کسی نے مجھے دیتے ہوئے کہا ’چائے‘۔ میں نے دیکھا وہ کشتی کا باورچی تھا اور سامنے چھوٹا سا ٹیلہ تھا جو گزرے وقتوں کی نشانی کلیسا کا تھا۔

گودام کی کوٹھیاں—تصویر ابوبکر شیخ
گودام کی کوٹھیاں—تصویر ابوبکر شیخ

قلعے کی دیوار اور آبادی کے آثار—تصویر ابوبکر شیخ
قلعے کی دیوار اور آبادی کے آثار—تصویر ابوبکر شیخ

'سامنے لاڑی بندر کے وسیع آثار خستگی کی بے جان چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے۔ بھنبھور یا دیبل کے بعد جس شاہکار بندر کا صدیوں تک تاریخ کے صفحات میں ذکر ملتا ہے وہ ’لاڑی بندر‘ ہے۔ میں نے کئی بندرگاہوں کے آثار دیکھے ہیں مگر لاڑی کے شاندار آثاروں کی ایک الگ اہمیت اور اپنی خوبصورتی ہے کیونکہ اگر یہ اتنا خوبصورت نہ ہوتا تو البیرونی، اصطخری، مقدسی، ابن بطوطہ، طاہر محمد نسیانی، عبدالرحیم خان خاناں، ابوالفضل یا یورپی سیاح اس بندرگاہ کی خوبصورتی اور شان پر اتنے فدا نہ ہوتے۔

'کچھ محقق لکھتے ہیں کہ یہ بندر 17ویں صدی میں ویران ہونے لگا، اس ویرانی کے کچھ سیاسی اسباب تھے، کیونکہ ہرمز پر انگریزوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ تاہم اس ویرانی کی زیادہ تر وجوہات کا تعلق فطری حالات سے تھا جو اس پر اثر انداز ہوئے اور بہاؤ کے مہانے میں ریت جمنے لگی۔ ہملٹن یہاں 17ویں صدی کے آخری عرصے میں آیا تھا، وہ کوئی ایسی بات نہیں کرتا۔ تاہم اگر ہم یہ کہیں کہ 18ویں صدی کے آخر میں اس بندر کے زوال کے دن شروع ہوئے تو یہ زیادہ مناسب رہے گا۔

قلعے کی باقیات—تصویر ابوبکر شیخ
قلعے کی باقیات—تصویر ابوبکر شیخ

لاڑی بند سے ملنے والا مہر لگا سکہ—تصویر ابوبکر شیخ
لاڑی بند سے ملنے والا مہر لگا سکہ—تصویر ابوبکر شیخ

'محترم اشتیاق انصاری آثارِ قدیمہ کے متعلق بڑا علم رکھتے ہیں اور ان کی بحالی کے لیے بہت کام بھی کیا ہے۔ میں نے جب ان موجودہ آثاروں کے تحفظ کے حوالے سے بات کی تو جواب بڑا ہمت افزا آیا کہ ’بالکل اس بندر کے آثاروں، خاص کر قلعے اور ٹیکس کی کوٹھیوں والے حصوں کی بحالی ہوسکتی ہے اور ان آثاروں کی حفاظت کے لیے ایک چودیواری بھی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ جس سے اس قلعے کی عمر میں اضافہ ہوجائے گا اور یہ ایک زبردست پکنک پوائنٹ بھی بنایا جاسکتا ہے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے ریڑھی بستی والا سمندری راستہ ہے۔ اس کے علاوہ گھارو سے پہلے کوسٹل بیلٹ والے راستے سے بھی یہاں تک پہنچا جاسکتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی ناممکن کام ہے اور اس پر ضرور عملی قدم اٹھانا چاہیے۔‘

اس قدر وسیع تاریخ رکھنے والے مقام کا ایک تحریر میں احاطہ کرنا بلاشبہ ممکن نہیں۔ بالکل اسی طرح ان وسیع آثاروں کو دیکھنے کے لیے کچھ گھنٹے بہت ہی کم ہیں مگر ہمارے بس میں کچھ زیادہ نہیں ہوتا۔ تشنگی سے بھرا سورج مغرب میں ڈوب گیا تھا اور ہم اس کمال و زوال کی تلخ و شیرین ذائقے رکھنے والے مقام سے لوٹے تو ساتھ میں ان کھنڈرات کی خاموشی بھی ہمارے ساتھ چل پڑی۔ فطرت کا اصول یہی ہے کہ کمال کے بعد زوال آتا ہے اور گہما گہمی کے بعد تکلیف دہ خاموشی چھا جاتی ہے۔

حوالہ جات:

۔ بھٹ جو شاہ: ایچ ٹی سورلے۔ سندھیکا، کراچی۔

۔ سندھ جا کوٹ قلعا (جلد اول): اشتیاق انصاری۔ سندھیکا، کراچی۔

۔ نگری نگری پھرا مسافر: ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور۔

۔ جنت السندھ: رحیمداد مولائی شیدائی۔ سندھیکا، کراچی۔


*1: 1599ء میں 2 انگریز بھائی ’انتھونی شرلے‘ اور ’رابرٹ شرلے‘ ترکوں کے خلاف مسیحی اتحاد کی خاطر ایران سے مدد حاصل کرنے کے لیے اور ایران و یورپ کے درمیان تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے آئے۔ شاہ عباس نے ان سے کوئی معاہدہ تو نہیں کیا، لیکن ایرانی فوج کو جدید طرز پر مسلح کرنے میں ان سے مدد لی۔ ان انگریزوں نے ایران میں توپ سازی کی صنعت شروع کی اور ایرانی افواج کو توپ خانے سے مسلح کردیا۔ جب ایرانی فوج جدید آتشی ہتھیاروں اور توپوں سے مسلح ہوگئی تو شاہ عباس نے 1602ء عین اس وقت حملہ کردیا جب عثمانی ترک آسٹریا سے جنگ میں مصروف تھے، اور تبریز، شیروان اور پرتگالیوں سے بندرگاہ ہرمز چھین لیا اور خلیج فارس کے ساحل پر ایک نئی بندرگاہ قائم کی جو آج تک ’بندر عباس‘ کہلاتی ہے۔ اسی برس شاہ عباس نے دہلی کی تیموری سلطنت سے قندھار بھی چھین لیا۔

*2: رابرٹ شرلے اس مہم میں آیا تھا جس کا سربراہ ’کرسٹافر نیوپورٹ‘ تھا، جو یورپ کی درباروں میں ایران کے شاہ کا سفیر رہ چکا تھا، اور ٹھٹہ والے اس واقعے کے بعد وہ جہانگیر کے پاس شکایت کے لیے اجمیر سے ہوتا ہوا آگرے پہنچا اور پھر خشکی کے راستے سے 1614ء میں ایران چلا گیا۔


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔