ای میل

جرمنی میں ونڈر لینڈ کی سیر

رمضان رفیق

چلیے آج آپ کو چھوٹی سی ایک دنیا کی سیر کرواتے ہیں، ایک ایسی مصنوعی دنیا جس میں دنیا والی ساری چیزیں ہیں، گھر، دفتر، سڑکیں، ندی نالے، دریا، سمندر، ٹرینیں، جہاز، کشتیاں، درخت، پھل، پھول، پرندے، انسان اور جانور۔

یہ دنیا، یہ چھوٹی سی دنیا کی ایک شکل جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں سجائی گئی ہے۔ 2018ء کے موسم گرما میں مجھے اس دنیا کو دیکھنے کا دوسری مرتبہ اتفاق ہوا۔ میں اپنے 2 بڑے بھائیوں کے ساتھ اس شہر کو دیکھنے آیا ہوا تھا۔ جب ساری فیملی شاپنگ کے جھمیلوں میں مگن تھی میرے ذہن کے کسی گوشے میں تھا کہ مجھے کہاں جانا ہے۔ ہیمبرگ کے ٹاون ہال سے پیدل ہی 10 سے 15 منٹ کی واک پر منی ایچر ونڈر لینڈ نامی یہ جگہ ہے۔

ہیمبرگ میں سجی ایک چھوٹی سی دنیا—تصویر رمضان رفیق
ہیمبرگ میں سجی ایک چھوٹی سی دنیا—تصویر رمضان رفیق

ابتدائی طور پر اسے 2 جڑواں بھائیوں نے جرمنی خصوصاً ہیمبرگ کے ریلوے اسٹیشن کو چھوٹے اسکیل پر بنانے کی کوشش کی، جو 2001ء کے لگ بھگ مکمل ہوگئی۔

اس کے بعد اس چھوٹی سی دنیا میں کوہ الپس، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، امریکا، اسکینڈے نیویا کی لینڈ اسکیپ کو چھوٹے اسکیل پر دکھایا گیا ہے۔ یہ دنیا میں اس طرز کی سب سے بڑی نمائش ہے۔ لاکھوں لوگ ہر سال اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں اور اس دنیا کو دیکھنے کے لیے بھی ویزہ درکار ہوتا ہے۔ انٹری ٹکٹ والی جگہ پر وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کس ملک سے آئے ہیں۔

ایک گھر—تصویر رمضان رفیق
ایک گھر—تصویر رمضان رفیق

ایک شارع—تصویر رمضان رفیق
ایک شارع—تصویر رمضان رفیق

میلے کا منظر—تصویر رمضان رفیق
میلے کا منظر—تصویر رمضان رفیق

ایئرپورٹ کا ایک منظر—تصویر رمضان رفیق
ایئرپورٹ کا ایک منظر—تصویر رمضان رفیق

عمومی طور پر اسے بچوں کے لیے خاص اور ان کی توجہ سے متعلق جگہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کھلونا نما ماڈلز سے دنیا تراشی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں زیادہ تر آنے والے نوخیز لوگ ہی ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بڑی عمر کے سنجیدہ لوگوں کی دل چسپی کے لیے یہاں کچھ بھی نہیں، بلکہ ان کے لیے بھی یہاں بے شمار اشیا ہیں۔ جیسے جیومیٹری کے پورے پورے اسکیل کے مطابق اشیا کو چھوٹا تیار کیا گیا ہے، یعنی چیزوں کو اپنی اصل کے مطابق دکھانے کی پوری پوری کوشش کی گئی ہے۔

جتنی باریک بینی اور مہارت سے ایک ایک تفصیل کو بنایا گیا ہے، اس پر بنانے والوں کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ گھروں کے دروزاوں، کھڑکیوں سے لے کر، دالانوں، باغوں ہر چیز میں اسکیل، نفاست اور مہارت کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔

ایک پارک—تصویر رمضان رفیق
ایک پارک—تصویر رمضان رفیق

ایک کسان—تصویر رمضان رفیق
ایک کسان—تصویر رمضان رفیق

ایک پل—تصویر رمضان رفیق
ایک پل—تصویر رمضان رفیق

ساحل سمندر—تصویر رمضان رفیق
ساحل سمندر—تصویر رمضان رفیق

یہاں پر 1300 ٹرینیں ہیں جن کے ڈبوں کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے، ایک لاکھ سے زائد چلتی ہوئی گاڑیاں، قریباً 5 لاکھ لائٹس، ایک لاکھ 30 ہزار درخت اور 4 لاکھ سے زائد انسان ان نقشوں میں ایسی جان ڈالتے ہیں کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کسی گڈ مڈ سی دنیا میں آگئے ہیں، جہاں لوگ ننّھے منّے ہیں اور آپ کہانی کے لمبو، جسے کہانی میں بونے قید کرلیتے ہیں۔

گاڑیوں کے سائرن کی آوازیں، ایمبولینس اور پولیس کی گاڑیوں کے سائرن، روڈ کراس کرتے ہوئے لوگ، پہاڑوں کا سینہ چیر کر بنائے ہوئے ٹریک، دن اور رات کے بدلتے ہوئے منظر آپ کو کسی کہانی کا منظرنامہ معلوم ہوتے ہیں، اور جس اسٹال پر سب سے زیادہ رش ہوتا ہے وہ یہاں کا ائیرپورٹ ہے، جس کی ایک ایک پرواز کے لیے لوگ کیمرے ہاتھوں میں تھامے منتظر ہوتے ہیں۔ یہاں ہر ایک گھنٹے میں درجنوں پروازیں اترتی اور روانہ ہوتی ہیں اور یہ پروازیں کیسے پرواز بھرنے کے لیے رن وے پر دوڑتی ہیں اور پھر نیلے آسمان میں گم ہوجاتی ہیں وہ اس منی ایچر ونڈر لینڈ کا ہائی پوائنٹ ہے۔

پرانا قلعہ—تصویر رمضان رفیق
پرانا قلعہ—تصویر رمضان رفیق

ایک باڑہ —تصویر رمضان رفیق
ایک باڑہ —تصویر رمضان رفیق

جھیل—تصویر رمضان رفیق
جھیل—تصویر رمضان رفیق

تعمیراتی کام—تصویر رمضان رفیق
تعمیراتی کام—تصویر رمضان رفیق

اس کے علاوہ حقیقی واقعات کو اسکیل کے ساتھ ان کھلونوں کی مدد سے زندگی بخشی گئی ہے۔ فٹبال کے اسٹیڈیم میں میچ ہو رہا ہے، یا لائیو کنسرٹ پر لوگ جھوم رہے ہیں، یا سڑک کنارے حادثے کا منظر دکھایا گیا ہے، 2 مختلف لیول کے پانیوں میں اترتے ہوئے بحری جہاز، 2 وادیوں کے درمیان چلتی ہوئی ٹرینیں اور سب سے بڑھ کر مختلف لینڈ اسکیپز میں چڑھتا ہوا سورج اور اترتی ہوئی رات، آپ کچھ دیر کے لیے اس دنیا کی رنگینی میں کھو جاتے ہیں۔

2000ء کے قریب یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد کے ہمارے ایک روم میٹ نے جامعہ زرعیہ کا ایک ایسا ہی ماڈل نقشہ تیار کیا تھا۔ تھرمو پور کی مدد سے تیار کیا ہوا نقشہ بعد میں اقبال آڈیٹوریم میں رکھ دیا گیا تھا۔ مجھے اس پر ہونے والے کام اور باریک بینی کا اندازہ ہے، اس طرز کے ماڈل ہمیں گاہے مختلف عمارتوں، اداروں کے استقبالیے کے ساتھ رکھے ہوئے بھی ملتے ہیں۔

طوفان میں گھری کشتی—تصویر رمضان رفیق
طوفان میں گھری کشتی—تصویر رمضان رفیق

ایک منظر—تصویر رمضان رفیق
ایک منظر—تصویر رمضان رفیق

پہاڑ پر بنا پل—تصویر رمضان رفیق
پہاڑ پر بنا پل—تصویر رمضان رفیق

شام ڈھلے شہر کا منظر—تصویر رمضان رفیق
شام ڈھلے شہر کا منظر—تصویر رمضان رفیق

ہمارے ہاں جس قصبے میں، مَیں اب رہتا ہوں، اس شہر کا نقشہ ایک بڑے میدان میں چھوٹے اسکیل پر تیار کیا ہوا ملتا ہے اور دُور دُور سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ پچھلے دنوں لاہور کی ایک رہائشی کالونی میں ایفل ٹاور یا ایک دو دیگر مشہور عمارتوں کو چھوٹے اسکیل پر بطور نمونہ بنا ہوا دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ پاکستان میں اس طرز کے عجائب گھر کی کوشش بھی ایک کارآمد نمائش گاہ کا روپ دھار سکتی ہے۔ اسلام آباد کا لوک ورثہ مزید وسعت چاہتا ہے یا دیگر بہت سی فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والی جگہیں اس آئیڈیا سے کچھ سبق سیکھ سکتی ہیں۔

وہ جو کسی نے کہا تھا کہ بستی بسانا کھیل نہیں، بستے بستے بستی ہے، ایسے ہی ایسی چھوٹی سی بستی کا خواب بھی کتنا سہانا ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے آس پاس ایک چھوٹی سی دنیا یا دنیا کا چھوٹا سا تعارف۔ ایسا کیا جاسکتا ہے، ایسا ہوسکتا ہے۔


رمضان رفیق دنیا گھومنے کے خواہشمند ہیں اور اسی آرزو کی تکمیل کے لیے آج کل کوپن ہیگن میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پاکستان میں شجر کاری اور مفت تعلیم کے ایک منصوبے سے منسلک ہیں۔ انہیں فیس بک پر یہاں فالو کریں اور ان کا یوٹیوب چینل یہاں سبسکرائب کریں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔