کیا افغانستان میں امن کا سفر شروع ہوچکا ہے؟

31 جنوری 2019

ای میل

امریکا اور افغان طالبان ڈرافت فریم ورک پر ڈیل کے کافی قریب آچکے ہیں جسے افغان امن مذاکرات میں ہونے والی سب سے ٹھوس پیش رفت کہا جا رہا ہے، یہ وہ ڈرافٹ ہے جو فریم ورک امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ اب بھی اس میں کئی رکاوٹیں باقی ہیں، لیکن دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے مستحکم مذاکراتی عمل سے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا پر منطقی معاہدے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

غیرمعمولی طور پر یہ اہم پیش رفت ایسے وقت کے بعد ہوئی ہے جب مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگئے تھے، ایک طرف طالبان اس مذاکراتی عمل سے پوری طرح سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے رہے تھے تو دوسری طرف امریکا کے لہجے میں سختی آتی جا رہی تھی۔ مذاکراتی عمل کے چیف زلمے خلیل زاد نے تو یہاں تک اشارہ دے دیا تھا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے امریکا فوجی دباؤ کو بڑھا سکتا ہے۔

یہ سب کچھ گزشتہ برس کے آخر میں ابو ظہبی میں امریکی اور طالبان نمائندگان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی، اور اس ملاقات کا اختتام مثبت نوٹ پر ہوا۔ مگر طالبان کی جانب سے شہر میں موجود کابل حکومت کے نمائندوں سے ملاقات سے انکار کے بعد مذاکراتی عمل کے نتیجے اور موڈ کا رخ ہی مُڑ گیا۔

چند اطلاعات کے مطابق خلیل زاد کو سعودی عرب کی جانب سے یہ گارنٹیاں دی گئی تھیں کہ طالبان کابل حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کریں گے۔ تاہم آخری لمحے میں طالبان اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے اور مختلف افغان دھڑوں کے درمیان موجود تحفظات کو وجہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت تک امن مذاکرات منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں گے جب تک ان دھڑوں کی جانب سے تھوڑی بہت لچک نہ دکھائی جائے۔ طالبان کے اس انکار پر بالخصوص افغان صدر اشرف غنی سخت برہم ہوئے، جنہوں نے اپنے سیکیورٹی مشیر حمد اللہ محب کو متحدہ امارات بھیجا تھا۔

اس کے علاوہ نازک مذاکراتی عمل کو ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب طالبان نے سعودی عرب میں جنوری میں متوقع اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ طالبان نمائندوں نے کہا کہ مذاکرات کے مقام کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا تھا۔ طالبان کی جانب سے انکار کی اہم ترین وجہ طویل عرصے سے امریکی مقاصد پر شکوک و شبہات تھے۔ طالبان نے امریکا پر دوغلے پن اور گزشتہ اجلاسوں میں طے پانے والے معاہدے کی وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا۔

مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار بنانے والی تکرار کا اہم نکتہ طالبان کی جانب سے یہ اصرار تھا کہ امریکا کو افغانستان سے افواج کے انخلا اور دیگر ریاستوں کے خلاف افغان زمین کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے بات چیت کے ’متفقہ ایجنڈے‘ پر قائم رہنا ہوگا۔ امریکا اب اپنے وعدے سے مکر گیا ہے اور یکطرفہ طور پر نئے موضوعات کا اضافہ کر رہا ہے۔ پس پردہ سرگرم سفارتی کوششوں کے بعد بالآخر برف پگھلنے لگی، سفارتی کوششوں کی بات کی جائے تو طالبان کو دوبارہ میز پر لانے کے لیے اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا۔

ابتدائی طور پر طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان ملاقات اسلام آباد میں ہونا تھی، لیکن میڈیا میں خبریں لیک ہوجانے کے باعث ملاقات کے مقام کو دوحہ کردیا گیا۔ 6 دنوں تک جاری رہنے والے اس مذاکراتی عمل سے غیر معمولی نتائج برآمد ہوئے ہیں، لہٰذا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بظاہر طور پر دونوں جانب سے لچک دکھائی جا رہی ہے۔

ممکن ہے کہ طالبان ٹیم میں ایک تبدیلی سے بھی اس غیر معمولی پیش رفت میں مدد ملی ہو۔ دوحہ مذاکرات کی دوڑ میں طالبان نے ملّا عمر کے نائب اور اسلامی ملیشیا کے شریک بانی ملّا برادر آخوند کو بطور چیف مذاکرات کار مقرر کیا۔ ملّا برادر ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے تک پاکستانی حکام کے زیرِ حراست رہ چکے تھے اور انہیں چند ماہ قبل ہی رہا کیا گیا تھا۔ طویل عرصے تک زیرِ حراست رہنے کے باوجود وہ سب سے طاقتور اور معزز شورش پسند رہنماؤں میں سے ایک رہے۔ انہیں طالبان تنظیمی ڈھانچے میں دوسری اہم پوزیشن پر ترقی بھی دی جاچکی ہے۔

امن مذاکراتی عمل میں ملّا برادر کی تعیناتی طالبان کی اس عمل پر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ ملّا برادر کے مرتبے کو بلند کرنے کی ایک دوسری وجہ انہیں حاصل احترام اور طالبان فیلڈ کمانڈرز پر ان کا اثر و رسوخ ہے۔ کسی بھی امن معاہدے کے لیے ان فیلڈ کمانڈرز کی حمایت حاصل ہونا بہت ضروری ہے۔ ٹیم ان کی زیرِ سربراہی آنے سے بلاشبہ طالبان مذاکرات کاروں کو زبردست اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔

جنگ بندی اور کابل حکومت کے سامنے میز پر بیٹھنے پر اتفاق کرنے کا سارا دار و مدار اب طالبان پر ہے۔ امن عمل کو آگے لے جانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ طالبان کی جانب سے اشرف غنی کی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات سے مسلسل انکار ہے۔ لیکن فریم ورک ڈیل کے بعد داخلی افغان مذاکراتی عمل پر رضامندی کے روشن امکانات نظر آتے ہیں۔

جنگ بندی کے نتیجے میں مذاکرات کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے، تاہم تمام اسٹیک ہولڈرز ایک جامع معاہدے پر پہنچیں، اس سے قبل ایک طویل سفر طے کرنا ابھی باقی ہے۔

لیکن، افغانستان سے انخلا واشنگٹن کے لیے خارجہ پالیسی سے متعلق بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ چونکہ یہ ایک غیر فتح کن جنگ رہی ہے، اس لیے امریکا کی وہاں سے روانگی اتنی آسان نہیں ہے۔ مکمل طور پر انخلا کی اپنی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔ 17 سالہ طویل اس جنگ نے ملک کو مزید تقسیم کردیا ہے۔ جیسے جیسے افغان کھیل آخری مرحلے میں داخل ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے شورش پسندوں نے جنگ کے میدان میں فتوحات اور وسیع ہوتے زمینی کنٹرول سے بلاشبہ کھیل پر اپنا پلڑہ بھاری کرلیا ہے۔

حال ہی میں افغان فوجی اہلکاروں اور تنصیبات پر طالبان کی جانب سے بڑی سطح کے حملوں سے شورش پسندوں کا حوصلہ مزید بلند ہوا۔ جب تک امریکی مکمل فوجی انخلا کے لیے کسی ٹائم فریم پر متفق نہیں ہوتے تب تک طالبان اپنی بندوقیں جھکانے کا دُور دُور تک کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ بلکہ موسمِ بہار میں طالبان کی عسکری جارحیت میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ اب یا تو یقینی لڑائی کی فضا بنے گی یا پھر یقینی بات جیت کی۔

امریکا کی جانب سے خود کو باہر نکالنے کی خواہش کو ان طالبان کی فتح کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو چند برسوں کے دوران زبردست بین الاقوامی شناخت بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس طرح حکومت کے اندر اور باہر افغان گروپس کے درمیان خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ خلیل زاد کے لیے ایک سب سے بڑا چیلنج ان تمام گروپس کو ایک جگہ پر لانا ہوگا۔

صدر اشرف غنی کی ڈیوس میں تقریر میں امریکی انخلا کے منصوبے اور حکومت کے خدشات کے درمیان خیلج کا اشارہ ملتا ہے۔ یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ امریکی افواج کے انخلا سے طالبان مزید مضبوط ہوسکتے ہیں اور افغانستان کو ایک دوسری خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ یہ خدشات جائز ہیں اور یہ ضروری ہے کہ طالبان کے ساتھ ہونے والی کسی بھی ڈیل میں ان خدشات کو لازمی طور پر دور کیا جائے۔

اس کے بعد افغانستان میں خطے کی سطح پر ایک ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جس کے تحت افغانستان میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔ علاقائی ممالک کی مداخلت سے افغانستان میں خانہ جنگی کو ہوا ملی ہے۔ ہمیں ایک غیر معمولی پیش رفت تو نظر آئی ہے، البتہ افغانستان میں قیام امن کا سفر اتنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ مضمون 30 جنوری 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔