ای میل

پراسرار قلعہ رنی کوٹ کس کی ملکیت ہے؟

یوں تو سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے جس کا اقرار دنیا کے نامور مؤرخ اور محقق بھی کرچکے ہیں۔ سندھ میں موجود موہن جو دڑو، کوٹ ڈیجی کا قلعہ، رنی کوٹ اور مکلی کا قبرستان اس بات کے گواہ ہیں کہ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے لیکن اپنے قیمتی ورثے کی حفاظت نہ کرنے کی وجہ سے سندھ اس وقت تاریخی مقامات کی تباہی کے دہانے پر ہے۔

سندھ کو تاریخی اعتبار سے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے جسے ’انڈس سولائیزیشن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اور گزشتہ کئی سال سے دنیا کی اس قدیم ترین تاریخ کے آثار تیزی سے خستہ حالت میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔

موہن جو دڑو سے لے کر کوٹ ڈیجی اور عمر کوٹ کے قلعوں تک، حیدرآباد کے لعل قلعے سے لے کر کراچی کے چوکنڈی کے قبرستان تک جہاں جہاں نظر دوڑائی جائے گی، وہاں قدیم آثاروں کی حالت خستہ ہی نظر آئے گی۔

اگرچہ گزشتہ کچھ عرصے سے سندھ کے محکمہءِ نوادرات اور ثقافت نے غیر ملکی تعاون سے کچھ تاریخی مقامات اور آثاروں کی بحالی پر کام شروع کیا ہے تاہم اب بھی بہت سارے مقامات بحالی کے منتظر ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے جن مقامات کی بحالی یا ان پر توجہ دی جا رہی ہے ان میں تاریخی ’رنی کوٹ‘ بھی شامل ہے، جسے کچھ مؤرخین دنیا کا سب سے بڑا قلعہ بھی قرار دیتے ہیں۔

اگرچہ عالمی و ملکی ماہرین نے مجموعی طور پر باہمی اتفاق سے ’رنی کوٹ‘ کو دنیا کا سب سے بڑا قلعہ قرار نہیں دیا تاہم زیادہ تر ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ کوٹ دنیا کا سب سے بڑا کوٹ ہے۔

قلعے کے مرکزی گیٹ پر پہنچتے ہی سیاح سحر میں کھو جاتے ہیں—فوٹو: شجاع الدین قریشی فیس بک
قلعے کے مرکزی گیٹ پر پہنچتے ہی سیاح سحر میں کھو جاتے ہیں—فوٹو: شجاع الدین قریشی فیس بک

رنی کوٹ 32 کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے—فائل فوٹو: ڈان
رنی کوٹ 32 کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے—فائل فوٹو: ڈان

ماہرین کے اختلافات اور اتفاق اپنی جگہ لیکن ستم تو یہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کی اکثریت اس بات سے بھی بے خبر ہے کہ سندھ میں دیوارِ چین کی طرح ہی ایک دیوار بھی موجود ہے جو رنی کوٹ کو اپنے تحفظ میں لیے ہوئے ہے۔

کراچی سے تقریباً 300 کلومیٹر کی دوری پر ضلع جامشورو کے پہاڑی صحرا میں موجود رنی کوٹ جسے ’عظیم دیوارِ سندھ ‘ بھی کہا جاتا ہے جامشورو شہر سے لگ بھگ 120 کلومیٹر نیچے چھوٹے سے شہر سن کے قریب واقع ہے ۔

رنی کوٹ کب، کیسے اور کیوں بنا اس بحث پر محققین ابھی تک ایک رائے پر متفق نہیں ہوپائے لیکن کچھ مؤرخین کا ماننا ہے کہ رنی کوٹ ساسانیوں کے دور کا قلعہ ہے۔ چند ماہرین اسے یونانیوں کی طرزِ تعمیر سے مشابہہ قرار دیتے ہیں جب کہ کچھ کا خیال ہے کہ رنی کوٹ قلعہ 836 ہجری میں عرب گورنر عمران بن موسیٰ نے تعمیر کروایا اور بعض کا ماننا ہے کہ قلعے کو تالپر حکمرانوں نے 1812ء میں بنوایا تھا۔

سندھ حکومت کے ماتحت سندھی ادبی بورڈ کے رسالے ’مہران‘ کے مطابق رنی کوٹ کا سب سے پہلا تذکرہ مشہور انگریز سیاح الیگزینڈر برنس نے کیا تھا جو 1831ء کو رنی کوٹ سے گزرے تھے۔

لیکن موجودہ دور میں رنی کوٹ کو دنیا میں سب سے زیادہ پذیرائی دلانے کے لیے قوم پرست سیاست کے روح رواں ’جی ایم سید‘ کا بڑا ہاتھ ہے۔

رنی کوٹ میں سب سے اہم جگہ ’میری کوٹ‘ ہے—فوٹو: ای ایف ٹی
رنی کوٹ میں سب سے اہم جگہ ’میری کوٹ‘ ہے—فوٹو: ای ایف ٹی

نامور محقق اور مؤرخ بدر ابڑو، ایم ایچ پنہور اور تاج صحرائی کے مطابق رنی کوٹ کی دیواروں کی لمبائی 30 فٹ اور چوڑائی 7 فٹ ہے جبکہ رنی کوٹ قلعہ 16 سے 30 کلومیٹر میں اندر پھیلا ہوا ہے۔

رنی کوٹ کی بحالی پر حکومتِ سندھ کے ساتھ مل کر کام کرنے والی تنظیم ’انڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ‘ (ای ایف ٹی) کے مطابق یہ قلعہ 32 کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی دیواریں ساڑھے 7 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔

ای ایف ٹی کے مطابق رنی کوٹ کا شمار دنیا کے بڑے قلعوں میں ہوتا ہے۔

دنیا کے بڑے قلعے کا اعزاز رکھنے والے رنی کوٹ سے متعلق کچھ محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ قلعہ برِصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے بہت پہلے اس وقت بنا تھا جب سندھ ایران کی حدود میں شمار ہوتا تھا لیکن اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں اور یہی بات قلعے پر مزید تحقیق کا تقاضہ کرتی ہے۔

دیواروں پر جگہ جگہ واچ ٹاور بھی بنے ہوئے ہیں، جن کی دیواریں 30 فٹ تک اونچی ہیں—فوٹو: رنی کوٹ فیس بک
دیواروں پر جگہ جگہ واچ ٹاور بھی بنے ہوئے ہیں، جن کی دیواریں 30 فٹ تک اونچی ہیں—فوٹو: رنی کوٹ فیس بک

محقق مسٹر اے ڈبلیو ہوزنے 1856ء میں اپنی کتاب ’سندھ گزیٹیئر‘ میں لکھا ہے کہ رنی کوٹ سندھ کے تالپر حکمرانوں نے اپنا قیمتی سامان محفوظ کرنے کی غرض سے بنوایا ہوگا۔

سندھ کے نامور محقق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ بھی کسی حد تک مسٹر اے ڈبلیو ہوز سے اتفاق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ قلعہ تالپر حکمرانوں کے وزیر نواب محمد خان لغاری نے بنوایا تھا۔

رنی کوٹ پر تحقیق کرنے والے بدر ابڑو اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ قلعے کی تعمیر کسی ایک وقت میں مکمل نہیں ہوئی ہوگی بلکہ اس قلعے کی تعمیر ایک سے زائد حکمرانوں کے ادوار میں ہوئی ہوگی۔

دیواروں کے ساتھ ہی سڑک نما دیواریں بھی بنائی ہیں جن پر بیک وقت 2 موٹر سائیکل چلائی جاسکتی ہیں—فوٹو: ای ایف ٹی
دیواروں کے ساتھ ہی سڑک نما دیواریں بھی بنائی ہیں جن پر بیک وقت 2 موٹر سائیکل چلائی جاسکتی ہیں—فوٹو: ای ایف ٹی

ان کے مطابق رنی کوٹ کی مضبوط دیواروں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قلعے کی تیاری کتنے دشوار مراحل سے گزری ہوگی۔

محققین کی جانب سے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رنی کوٹ کی تعمیر میں کم سے کم 3 سے 4 ہزار مزدوروں نے کئی ماہ تک کام کیا ہوگا اور اندازے کے مطابق اس وقت قلعے کی لاگت پر 12 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہوں گے جو آج کے حساب سے اربوں روپے بنتے ہیں۔

رنی کوٹ کے نام سے مشہور اس ’عظیم دیوارِ سندھ‘ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس قلعے کے اندر ’میری اور شیر گڑھ کوٹ‘ کے نام سے مزید 2 چھوٹے قلعے ہیں جو اس کو دنیا کے منفرد اور عظیم قلعے کی حیثیت دیتے ہیں۔

سماجی تنظیم اور سندھ حکومت کی جانب سے کام کرائے جانے کے بعد قلعے کی حالت گزشتہ چند سال سے مسلسل بہتر ہورہی ہے—فوٹو: رنی کوٹ فیس بک
سماجی تنظیم اور سندھ حکومت کی جانب سے کام کرائے جانے کے بعد قلعے کی حالت گزشتہ چند سال سے مسلسل بہتر ہورہی ہے—فوٹو: رنی کوٹ فیس بک

حیران کن بات یہ ہے کہ شیر گڑھ قلعہ زمین کی سطح سے کم سے کم ایک ہزار فٹ کی بلندی پر پہاڑ پر بنا ہوا ہے، جہاں ہر کسی کا جانا ممکن نہیں اور یوں پہاڑ پر ہونے کی وجہ سے اس قلعے پر لوگ کم جاتے ہیں۔

رنی کوٹ میں موجود دوسرا قلعہ شیر گڑھ کوٹ بھی پُراسرار ہے—فوٹو: ای ایف ٹی
رنی کوٹ میں موجود دوسرا قلعہ شیر گڑھ کوٹ بھی پُراسرار ہے—فوٹو: ای ایف ٹی

رنی کوٹ میں اندر موجود دوسرے ’میری کوٹ‘ کو مرکزی قلعے کی اہمیت حاصل ہے اور لوگوں کی توجہ سمیت ہر سیاح کی دلچسپی بھی اسی قلعے میں ہوتی ہے۔

اس قلعے کے گرد ہی سندھ کے محکمہءِ سیاحت و ثقافت نے گیسٹ ہاؤسز بنوانے سمیت دیگر ترقیاتی کام بھی کروائے ہیں۔

رنی کوٹ کی دیواریں نہ صرف زمین بلکہ پہاڑوں پر بھی بنی ہوئی ہیں اور مجموعی طور پر یہ دیواریں 30 کلومیٹر کے دائرے کو محفوظ بنائے ہوئے تھیں، تاہم گزشتہ چند سال سے قلعے کی دیوار کا کچھ حصہ منہدم ہوچکا ہے۔

اتنے بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی اس دیوار پر کم و بیش 18 واچ ٹاورز بھی ہیں، جن سے متعلق مؤرخین کا کہنا ہے کہ یہ ٹاورز کسی زمانے میں جنگ کی لڑائی اور حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی مستند تاریخ موجود نہیں۔

سندھ حکومت نے رنی کوٹ میں گیسٹ ہاؤسز بھی بنوائے ہیں—فوٹو: غیور عباس
سندھ حکومت نے رنی کوٹ میں گیسٹ ہاؤسز بھی بنوائے ہیں—فوٹو: غیور عباس

قلعے کے تحفظ کے لیے محکمہءِ نوادرات سندھ کے ساتھ مل کر کام کرنے والی تنظیم ای ایف ٹی کے مطابق رنی کوٹ میں داخل ہونے کے لیے ویسے تو 5 دروازے ’سن گیٹ، موہن گیٹ، آمری گیٹ، شاہ بر گیٹ اور ٹوری دھوڑو گیٹ‘ ہیں، تاہم کوٹ میں داخل ہونے کے لیے زیادہ تر ‘سن گیٹ‘ کو استعمال کیا جاتا ہے، جسے قلعے کا مرکزی دروازہ بھی مانا جاتا ہے۔

قلعے کو دیکھنے کے لیے آنے والے 98 فیصد افراد بذریعہ سڑک اسی دروازے کے راستے قلعے میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ یہی دروازہ مرکزی شاہراہ سے آنے والے راستے پر موجود ہے۔

قلعے کے باقی دروازے پہاڑوں کے گھیرے میں ہیں جن سے زیادہ تر ماضی میں لوگ داخل ہوتے تھے۔

رنی کوٹ کے اندر جہاں اونچے اونچے پہاڑ اور سرسبز کھیت ہیں، وہیں قلعے کے اندر پانی کا چشمہ بھی موجود ہے، جسے سندھی زبان میں ’پرین جو تڑ‘ کہا جاتا ہے۔

اس چشمے میں پہاڑوں کی بلندی سے پانی آتا ہے جو سال کے تمام دن کبھی کم تو کبھی زیادہ مقدار میں آتا ہے۔

گیسٹ ہاؤسز کی تزئین و آرائش بھی کی گئی ہے—فوٹو: غیور عباس
گیسٹ ہاؤسز کی تزئین و آرائش بھی کی گئی ہے—فوٹو: غیور عباس

یہ چشمہ قلعے کی ایک ایسی جگہ پر موجود ہیں، جہاں چاروں طرف 1500 سے 2000 فٹ کی بلندی کے پہاڑ موجود ہیں۔

اس چشمے کے حوالے سے بھی دلفریب داستانیں موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں اس چشمے کے اندر پریاں یا پھر شاہی گھرانوں کی شہزادیاں آکر نہاتی تھیں، جس وجہ سے اس کا نام ’پرین جو تڑ‘ پڑا، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی مستند تاریخ نہیں ملتی۔

محقق عبدالجبار جونیجو لکھتے ہیں کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق دنیا کا قدیم ترین قلعہ جیریکو شہر کا تھا جو 7 ہزار قبل مسیح میں بن کر تیار ہوا جس کی دیواریں 21 فٹ لمبی اور 15 فٹ چوڑی تھیں جبکہ اس قلعے کی دیواریں 9 فٹ تک اندر زمین میں دھنسیں ہوئی تھی۔

پہاڑوں کے گھیرے میں موجود اس قلعے میں پانی کا چشمہ بھی موجود ہے—فوٹو: شفقت حسین
پہاڑوں کے گھیرے میں موجود اس قلعے میں پانی کا چشمہ بھی موجود ہے—فوٹو: شفقت حسین

جونیجو صاحب رنی کوٹ سمیت دیگر قلعوں کی طرزِ تعمیر اور فن کو مدِنظر رکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رنی کوٹ اور دیوارِ چین بھی جیریکو شہر کے قلعے کی کڑی ہیں۔

تاریخ کے لیے اہم ترین سمجھے جانے والی کتاب ’فتح نامہ‘ کے مطابق رنی کوٹ 1812ء سے 1829ء تک بن کر تیار ہوا، جس کی تصدیق بعد میں اے ڈبلیو ہیوز نے بھی اپنی 1876ء میں چھپنے والی کتاب ’سندھ گزیٹیئر‘ میں کی۔

انگریز مؤرخ اور محقق ایچ ٹی لمبرک نے اپنی کتابوں ’سر چارلس نیپیئر اور سندھ، جان جیکب آف جیکب آباد‘ میں سندھ کی تاریخ و تہذیب کے بارے میں بہت سی اہم باتیں لکھی ہیں۔ انہوں نے بھی ان کتابوں میں رنی کوٹ کا تذکرہ کیا ہے، علاوہ ازیں تاریخ کی دیگر اہم کتابوں میں بھی رنی کوٹ کا تذکرہ ملتا ہے۔

تاہم رنی کوٹ کی تاریخ کے حوالے سے سب سے مشکل بات یہ ہے کہ اس کی کوئی مستند اور ایک تاریخ نہیں ملتی۔

رنی کوٹ کی تاریخ پر محققین اور مؤرخین کی رائے منقسم نظر آتی ہے اور ان کی باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے کہ یہ قلعہ کتنا پرانا ہے، تاہم مؤرخین اور محقیق کے اندازوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ قلعہ کم سے کم 300 سال پرانا ہے۔

پہاڑوں کے دامن میں واقع ہونے کے باوجود قلعے کی زمین زرخیز ہے—فوٹو: شفقت حسین
پہاڑوں کے دامن میں واقع ہونے کے باوجود قلعے کی زمین زرخیز ہے—فوٹو: شفقت حسین

رنی کوٹ پر مستند اور صحیح تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے آج دنیا بھر میں رنی کوٹ کو وہ مقام نہیں مل پایا جو دیوارِ چین سمیت دنیا کے دیگر قلعوں کے حصے میں آیا۔

مختلف محققین کی مختلف باتیں رنی کوٹ سے متعلق عام لوگوں کو مزید پریشان کردیتی ہیں اور عام لوگ رنی کوٹ کی تاریخ پر اعتبار ہی نہیں کر پاتے۔ رنی کوٹ پر کوئی مستند تاریخ سامنے نہیں آئی جس وجہ سے اس قلعے کو زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہو رہی۔

جس طرح رنی کوٹ کی تاریخ پر محقیقن اور مؤرخین متفق نظر نہیں آتے، اسی طرح آج سے چند سال قبل تک سندھ حکومت اور وفاقی حکومت نے اس قلعے کی بحالی اور اسے سیاحت کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے بھی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے تھے۔

تاہم گزشتہ چند سال سے سندھ حکومت نے اس قلعے پر توجہ دی ہے اور قلعے کی دیواروں کو بحال کرنے سمیت وہاں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں۔

سندھ کے محکمہءِ سیاحت و ثقافت نے قلعے میں جہاں کچھ گیسٹ ہاؤسز بنوائے ہیں وہیں قلعے کی خستہ حال دیواروں پر بھی کام کروایا ہے اور اب یہاں ماضی کے مقابلے زیادہ سیاح آتے ہیں۔

محکمہءِ ثقافت و سیاحت کی جانب سے رنی کوٹ پر 2017ء میں پہلی بار یہاں اسسٹنٹ کیوریٹر کو تعینات کیا گیا۔ محکمہءِ نوادرات نے غیور عباس کو انچارج رنی کوٹ تعینات کرنے کے ساتھ ہی انہیں 3 ملازمین پر مشتمل دیگر عملہ بھی دیا۔

قلعے کی دیواریں اونچے پہاڑوں پر بھی بنی ہیں—فوٹو: شفقت حسین
قلعے کی دیواریں اونچے پہاڑوں پر بھی بنی ہیں—فوٹو: شفقت حسین

اسسٹنٹ کیوریٹر انچارج رنی کوٹ غیور عباس نے بتایا کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس تاریخی قلعے پر پاکستان بننے کے بعد صرف 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں وفاقی حکومت نے 2 بار سیمینارز یا پروگرامات منعقد کروائے۔ غیور عباس کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد تاریخی مقامات کی صوبوں کو منتقلی ہونے کے بعد سندھ حکومت نے 2014ء میں پہلی بار رنی کوٹ پر توجہ دی اور یہاں کچھ تعمیراتی کام کا آغاز کیا۔

اسسٹنٹ کیوریٹر انچارج رنی کوٹ نے بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے رنی کوٹ کی خستہ حال دیواروں کی بحالی کے بعد 2017ء میں پہلی بار یہاں سرکاری ملازمین کو تعینات کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ یہاں آئے تو انہوں نے سیاحوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ 2017ء میں ساڑھے 5 ہزار افراد رنی کوٹ دیکھنے آئے جبکہ بہتر سہولیات کی وجہ سے آنے والے سال یعنی 2018ء میں سیاحوں کی تعداد دگنی ہوگئی اور یہاں گزشتہ برس ساڑھے 12 ہزار افراد آئے۔

غیور عباس کا کہنا تھا کہ رنی کوٹ میں بنائے گئے گیسٹ ہاؤس کا کرایہ انتہائی مناسب ہے اور وہ 12 گھنٹوں کے ایک ہزار روپے وصول کرتے ہیں، جبکہ کمرے 6 گھنٹوں کے لیے بھی کرائے پر دیے جاتے ہیں اور اس کا کرایہ محض 500 روپے لیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب رنی کوٹ میں کینٹین بھی قائم کردی گئی ہے، جس سے سیاحوں کو کھانے اور پینے کی چیزوں کی پریشانی نہیں ہوگی، جبکہ جلد ہی یہاں ایک ہوٹل کا افتتاح بھی کیا جائے گا۔

غیور عباس کے مطابق سندھ حکومت نے رنی کوٹ میں پینے کے صاف پانی کے لیے ایک کنوا کھدوایا ہے، جہاں سے صاف پینے کا پانی میسر ہوتا ہے، تاہم کینٹین پر منرل واٹر بھی دستیاب ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ویرانے اور شہر سے دُور ہونے کی وجہ سے رنی کوٹ کے گیسٹ ہاؤسز میں فوری طبی امداد کے لیے بھی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔

قلعے کے گرد بعض پہاڑوں کی بلندی 2 ہزار میٹر سے بھی زائد ہے—فوٹو: شفقت حسین
قلعے کے گرد بعض پہاڑوں کی بلندی 2 ہزار میٹر سے بھی زائد ہے—فوٹو: شفقت حسین

اس قلعے کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اس قلعے کے اندر آبادی بھی موجود ہے۔ اس قلعے کے اندر ’گبول‘ قبیلے کے افراد بسے ہوئے ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ پچھلی 7 نسلوں سے یہاں آباد ہیں اور انہیں اپنے آباؤ اجداد بتا کر گئے تھے کہ رنی کوٹ 2 ہزار سال پرانا ہے۔

اس قلعے میں رہنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ گزشتہ 7 نسلوں سے اس قلعے کی زمین ان کی ملکیت رہی ہے اور ان کے پاس ان کے دستاویزات بھی موجود ہیں۔

نوجوان کے مطابق وہ صرف قلعے کے اندر زرِخیز زمین اور اس جگہ کے مالک ہیں، جہاں ان کے گھر بنے ہوئے ہیں، باقی قلعے کی دیواریں، پہاڑیاں اور قلعے کے اندر موجود مزید 2 قلعے کس کی ملکیت ہے انہیں اس کا علم نہیں۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر قلعے میں ان کے 40 گھر آباد ہیں جو 30 کلومیٹر کے رقبے کے اندر پھیلے ہوئے ہیں۔

رنی کوٹ میں گزشتہ 7 دہائیوں سے رہنے والے ان لوگوں کے دعوے اپنی جگہ لیکن ان کی باتوں نے یہ سوال ضرور اٹھا دیا ہے کہ پُراسرار رنی کوٹ کس کی ملکیت ہے؟

خیال کیا جاتا ہے کہ پہاڑوں کے دامن سے آنے والا پانی بلوچستان سے آ رہا ہوگا—فوٹو: شفقت حسین
خیال کیا جاتا ہے کہ پہاڑوں کے دامن سے آنے والا پانی بلوچستان سے آ رہا ہوگا—فوٹو: شفقت حسین

اگر زرخیز زمینوں کی مالکیت وہاں رہنے والے افراد کو دی جائے تو وہاں کی دیواروں اور قلعوں کی مالکیت پر کس کا حق ہوگا؟

قلعے کی ملکیت کی باتیں اپنی جگہ لیکن دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ شہروں کی ترقی اور ٹیکنالوجی سے دُور اس قلعے میں زندگی بسر کرنے والے گبول قبیلے کے غیر تعلیم یافتہ افراد سیاسی و سماجی شعور بھی رکھتے ہیں۔

نوجوان کے مطابق انہیں یاد نہیں کہ کبھی ان کے ہاں پانی کا مسئلہ ہوا ہو، انہیں سردیوں یا گرمیوں میں ہمیشہ پہاڑوں کے دامن سے آنے والا صاف پانی میسر ہوتا ہے، البتہ کچھ وقت کے لیے اس کی مقدار کم ضرور ہوجاتی ہے۔

نوجوان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ پانی کہاں سے آتا ہے، تاہم ان کی زندگی اس پانی کی وجہ سے ہی بہتر گزر رہی ہے، کیونکہ جہاں وہ اس پانی کو پینے اور کھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہیں اس پانی سے فصل بھی اگاتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پہاڑوں کے دامن سے نکلنے والا پانی استعمال کرنے سے ان کے گاؤں میں کبھی بھی موذی مرض نہیں پھیلے اور وہ اب تک جان لیوا بیماریوں سے محفوظ ہیں۔


لکھاری ڈان ڈاٹ کام کے اسٹاف ممبر ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔