جھوٹی خبر کی نفسیات

03 فروری 2019

ای میل

ہم دنیا کی تمام تر برائیوں کی وجہ سوشل میڈیا کو ٹھہراتے نہیں تھکتے اور ان برائیوں میں سے ایک ہے جھوٹی خبروں کا اُبھار۔ جہاں یہ بات درست ہے کہ میڈیا نے بوٹ، نیوزفیڈ الگورتھم، اور بے تحاشا لوگوں تک رسائی کو ممکن بنایا ہے وہاں مِس انفارمیشن (گمراہ کن اطلاع) کے پھیلاؤ کا سارا کا سارا الزام ٹیکنالوجی پر نہیں دھرا جاسکتا۔ دانستہ اور غیر دانستہ دھوکہ دہی میں انسانی ترغیب اور غلطی کا کردار بنیادی ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس کا دارومدار ہماری سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنے کی صلاحیت اور اس حوالے سے بے توجہی پر بھی ہوتا ہے۔

یہ صورتحال لاپرواہی اور اخلاقی اصولوں کے خلاف صحافت کی وجہ سے مزید بدتر ہوجاتی ہے، مثلاً حقائق کا ٹھیک سے جائزہ نہ لینا، ذرائع سے ٹھیک انداز میں تصدیق شدہ نہ ہونا، عدم توجہی کے ساتھ تحقیقاتی کوششیں، اور برملا طور پر دیگر کا مواد چرانا۔ جب میڈیا ادارے ان پر فرض احتیاط سے کام کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تب حقائق زیادہ مبہم ہونے لگتے ہیں اور یوں یہ ابہام گمراہ کن اطلاع کا پھیلاؤ میں مزید آسانی پیدا کردیتا ہے۔ اگر آن لائن موجود غیر تصدیق شدہ مواد روایتی براڈکاسٹ اور پرنٹ میڈیا میں بھی جگہ بنالے تو گمراہ کن اطلاع مزید پھیلتی ہی جاتی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بطور خبروں کے صارفین غلط اطلاع پر یقین کرنے اور اسے شیئر کرنے کے اثر میں آجاتے ہیں چاہے پھر ہمارے ارادے کتنے ہی خیرخواہی سے بھرپور کیوں نہ ہوں۔ اس کی وجہ ہے انسانی شرست اور بعض اوقات ہم سب کے اندر پایا جانے والا بے ضبط تعصب۔

ان میں سے سب سے پہلا تعصب ہم تصدیقی عمل کے دوران برتتے ہیں، اس تعصب کے تحت ہمارے اندر ایسی اطلاع کو ڈھونڈنے، تسلیم کرنے اور یاد رکھنے کا رجحان پیدا ہوتا ہے جو ہمارے ذہن میں پہلے سے موجود آرا سے مطابقت رکھتی ہے۔ ہم اس مواد پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جو کہ ہمارے نظریات کو تقویت پہنچاتا ہے جبکہ ایسے مواد کو نظر انداز اور خاطر میں ہی نہیں لاتے جو کہ نظریات کے منافی ہو۔

اطلاعات کو ازخود دریافت کرنے کا یہ عمل اس وقت مزید حاوی ہوجاتا ہے جب اطلاع کا موضوع جذباتی طور پر حساس ہو، یہ معاملہ اکثر و بیشتر سنسنی خیز جھوٹی خبروں ساتھ دیکھنے کو ملتا ہے۔

متنازع اور اکثر گمراہ کن خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں اور مختلف ذرائع سے اپنے پڑھنے یا سننے والوں پر جھپٹ پڑتی ہیں، متعدد ذرائع کی وجہ سے آپ کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ خبر کو وسیع پیمانے پر سچ تسلیم کیا گیا ہے۔ متعدد ذرائع کے شور کے زیراثر آ کر ہم اپنے اعتماد کے ساتھ خبر کو دگنا پھیلا دیتے ہیں اس طرح میڈیا کی غلط بیانی تقسیم در تقسیم ہو کر پھیلتی جاتی ہے۔

پاکستان کے اندر اس طرح کے پھیلاؤ میں میسجنگ اپلیکیشن واٹس ایپ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ کوئی پیغام ذاتی نمبر سے بھیجا جاتا ہے تو اس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ واٹس ایپ پیغام بھیجنے والے ذاتی طور پر اس مواد کی تصدیق کر رہے ہیں، اس بات سے مراد یہ ہے کہ مواد موصول کرنے والا فرض کرلیتا ہے کہ پیغام بھیجنے والے اس اطلاع کو پڑھ چکے ہیں اور اس کی تصدیق کرچکے ہیں، بعض دفعہ یہی معاملہ ہوتا ہے۔

اگر آپ مذکورہ کسی بات سے متفق نہیں کیونکہ آپ کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا تو پھر اس کی وجہ بائس بلائنڈ اسپوٹ (bias blind spot) ہوسکتا ہے (بائس بلائنڈ اسپوٹ سے مراد آپ کے اندر موجود تعصب ہے جو دیگر کو متعصب قرار دیتے وقت آپ محسوس ہی نہیں کرپاتے)۔ یہ ہے وہ رجحان جس کے تحت آپ سمجھتے ہیں کہ آپ چونکہ ہر قسم کے تعصب سے آزاد ہیں، لہٰذا آپ کو کوئی بے وقوف یا گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ اس طرح آپ یہ دیکھ ہی نہیں پاتے کہ آپ کے ذاتی تعصبات کس طرح اطلاع کو پڑھتے یا سنتے وقت اپنا اثر پیدا کرتے ہیں۔

اپنی طرف سے گمراہ کن اطلاع کے ابھار سے مقابلہ کرنے کے لیے سب سے پہلے تو ہمیں اپنے اندر تعصبات کو پہچاننا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کمزور پہلوؤں کو جھوٹی خبریں گھڑنے والوں کی جانب سے ہدف بنایا جاتا ہے۔ ایک بار یہ بات تسلیم کرلینے کے بعد خبروں کے قابل اعتبار ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے اب ہمیں 5 بنیادی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

  • پہلا، ذریعے کی چھان بین کریں تاکہ اس کا معیار معلوم کیا جاسکے۔ مشکوک ذرائع کے یو ار ایل کا جائزہ لیجیے، مواد لکھنے والے کی کوالیفیکشن کی تصدیق کیجیے اور ساتھ ہی یہ یقینی بنائیے کہ آیا مواد اشاعتی ادارے سے تصدیق شدہ ہے یا نہیں۔
  • دوسرا، یہ تصدیق کرلیجیے کہ اطلاع کی تاریخ درست لکھی ہے یا نہیں۔ پرانی اور غیر متعلقہ اطلاع اکثر و بیشتر تازہ خبر کے بھیس میں گردش کر رہی ہوتی ہے (ایک سال میں کئی بار سپر مونز اور شہاب باری ہوتی ہے۔)
  • مضمون یا خبر کو سرخی سے آگے پڑھنا تیسرا قدم ہے، آیا خبر کلکس حاصل کرنے کے لیے تو نہیں بنائی گئی ہے یا پھر یہ موضوع سے میل کھاتی ہے بھی یا نہیں؟ یہ معلوم کرنے کے لیے مواد کا جائزہ لیجیے۔ مضمون میں کیے گئے دعوؤں کی متعلقہ شعبے کے ماہرین کی حمایت حاصل ہونی چاہیے، البتہ مذکورہ چوری کے مواد کے معاملات میں یہ عمل دشوار ہوسکتا ہے۔
  • ناقابل اعتماد یا گمراہ کن صحافت کی چوتھی نشانی عجیب و غریب لفظوں کی فارمیٹنگ، ہجے اور زبان ہوتی ہے۔ اگر خبر کے ذریعہ پروفیشنل نہیں دکھتا یا محسوس ہوتا تو اس پر دکھایا یا بتایا جانے والا مواد کو شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
  • آخری یہ کہ، طنز و مزاح کے روپ میں سماجی تبصرے کو حقیقی خبر سمجھنے کی بھول ہوسکتی ہے۔ اگرچہ طنز و مزاح کا بنیادی مقصد تفریح فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن یہ غیر دانستہ طور پر غلط اطلاع دینے کا باعث بھی بن سکتا ہے اور اس اطلاع پر ایک نظر ڈال کر حیرت زدہ ہونے والے لوگ اسے گردش میں لاسکتے ہیں۔

مذکورہ مشورے قلیل مدتی اعتبار سے تو کافی بہتر ابتدائی نکات ہیں لیکن ان سے مسئلے کی جڑ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ صارف کے نظریے سے دیکھیں تو اس مسئلے کو بہت زیادہ تنقیدی سوچ کے ساتھ میڈیا لٹریسی تربیت متعارف کروانے اور گمراہ کن اطلاع کے خطرے کو ٹالنے کے لیے رپورٹنگ اور فلٹرنگ کے طریقہ کار کو تخلیق کرنے کی غرض سے سوشل میڈیا کے لیے لابنگ کے ذریعے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

گمراہ کن اطلاعات کے زبردست پھیلاؤ کو نکیل ڈالنے کے لیے وزارت اطلاعات و براڈکاسٹنگ نے اکتوبر میں سوشل میڈیا پر گردش کر رہے مواد کی تصدیق کے لیے ٹوئٹر اکاؤنٹ متعارف کروایا۔ ان کا یہ اقدام جھوٹی خبروں کی تشریحی عمل، نشاندہی کے عمل، اور تصدیقی عمل کے اور اس کے علاوہ اس اکاؤنٹ کو چلانے والوں کے تعصبات کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ’جھوٹی خبر‘ اب سیاسی جملہ بن چکا ہے، لیکن یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جس میں گمراہ کن اطلاع کی مختلف تعریفیں اور تہیں شامل ہیں جسے ہر معاملے پر بطور رد عمل پیش کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

علاوہ ازیں، جب سیاسی نوعیت کی خبر ہو تو ریاستی بیانیے کو بڑھاوا دینے اور مخالفین کے خیالات کو خاموش کرنے کے لیے اس قسم کے چینل کا استعمال کرنے کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اس اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹوئیٹس کے مطابق چند جھوٹی خبریں ایف آئی اے کے ماتحت سائبر کرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے این آر3سی کو رپورٹ کی گئی ہیں۔

یہاں فکر کی بات یہ ہے کہ آیا گمراہ کن اطلاع کو شیئر کرنے والے لوگوں کے خلاف مناسب کارروائی ہوگی بھی یا نہیں۔

جہاں حکومت کی جانب سے زیادہ سرگرم اقدامات اٹھانے کا اشارہ ملتا ہے مگر وہیں تھوڑے خدشات اب بھی باقی ہیں کہ یہ نظام گمراہ کن اطلاع کے شکوک و شباہت کو دور کرنے میں کس قدر مؤثر اور منصفانہ ثابت ہوگا۔

اس اکاؤنٹ سے جو تجاویز مسلسل آگے بھیجی جا رہی ہیں ان میں ٹوئٹنگ وسائل اور گمراہ کن مواد کی کس طرح شناخت کی جائے اس حوالے سے خبریں پڑھنے والوں کے لیے مشورے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، جھوٹی خبر کی تصدیق کرنے کے وزارت کے طریقہ کار، اس کے علاوہ ان کا ردعمل اور آگے کی کارروائی میں شفافیت سے بھرپور ہو تا کہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ان کی بات درست ہے۔ مثالی طور پر تو غیر جانبدارانہ تنظیموں سے حقائق کے جائزے کام لیا جائے تاکہ اس عمل میں کسی قسم کا تعصب اور اثر شامل نہ ہو۔

تاہم موجودہ وقت کے لیے ہمیں اپنے شکوک وشبہات کے حوالے سے خود کو محتاط رکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص اپنے تعصبات اور جھوٹ کو سچ ماننے کے رجحان پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔


یہ مضمون یکم فروری 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔