رمشا قتل: خیرپور کی بااثر وسان برادری کو پہلی مرتبہ پولیس کارروائی کا سامنا

اپ ڈیٹ 08 فروری 2019
رمشا کے قتل سے پہلے تک ذلفو وسان کو اشتہاری ملزم قرار دیا جاچکا تھا—فوٹو: شٹراسٹاک
رمشا کے قتل سے پہلے تک ذلفو وسان کو اشتہاری ملزم قرار دیا جاچکا تھا—فوٹو: شٹراسٹاک

حیدرآباد: ضلع خیرپور کی بااثر وسان برادری شاید پہلی مرتبہ ہی اپنے خلاف پولیس کارروائی کا سامنا کر رہی ہے اور ایک 13 سالہ لڑکی رمشا وسان کے قتل میں ان کے ایک رکن کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔

خیرپور کے وسانوں کے بااثر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگرچہ گزشتہ 2 دہائیوں سے زائد عرصے میں ذوالفقار عرف ذلفو وسان کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے 20 مقدمات درج کیے گئے لیکن پولیس نے مبینہ قاتل ذلفو وسان کو ہاتھ لگانے کی بھی ہمت نہیں کی۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ رمشا کے قتل سے پہلے تک ذلفو وسان کو اشتہاری ملزم قرار دیا جاچکا تھا اور وہ کچھ پولیس اہلکاروں کی مدد سے روپوش تھا۔

تاہم رمشا قتل کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں درج کیا گیا اور مرکزی ملزم اور اس کا ساتھی غفار وسان کو گرفتار کرلیا گیا لیکن اکسانے کے الزام پر 2 مشتبہ شخص کی گرفتاری ابھی باقی ہے۔

مزید پڑھیں: خیر پور: کم سن رمشا وسان کے قتل کا مرکزی ملزم گرفتار

خیال رہے کہ رمشا قتل کیس میں پولیس کی جانب سے تقریباً ایک درجن مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ ذلفو وسان اور ان کے مبینہ ساتھیوں کو پولیس کے سامنے سرنڈر پر مجبور کرنے کے لیے 3 مقامات کو مسمار بھی کیا گیا تھا۔

پولیس نے ذوالفقار وسان سے تعلق رکھنے والی زرعی زمین، کوٹ ڈیجی کے علاقے میں حاجی نواب وسان کی جگہ اور کمبھ ٹاؤن میں ایک جگہ کو مسمار کیا تھا۔

اس حوالے سے خیرپور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) عمر طفیل نے بتایا کہ رمشا کی والدہ نے مبینہ قاتل کے طور پر ذلفو اور غفار وسان کا نام لیا تھا، 'ذوالفقار وسان واقعے کا مرکزی ملزم تھا، جس نے رمشا کو گھر پر فائرنگ کرکے قتل کیا جبکہ مقتولہ کو 9 گولیاں لگیں'۔

واضح رہے کہ ذوالفقار مبینہ طور پر ان وسانوں کا رشتے دار ہے جو منتخب ایوانوں میں بیٹھے ہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے خیرپور سے منتخب ایم پی اے منور وسان اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہیں۔

اپنا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'وہ صرف ان کی برادری سے تعلق رکھتا ہے، ہمارے مخالفین ہمیں ایک دوسرے سے منسلک کرتے ہیں جبکہ قتل ہونے والی لڑکی بھی ہماری برادری کی ہی تھی'۔

ادھر ذرائع کا کہنا تھا کہ 'پولیس ذوالفقار وسان کی دکانیں بھی مسمار کرنے جارہی تھی اور انہوں نے ذلفو کے اہل خانہ سے تعلق رکھنے والی چند خواتین کو بھی تحویل میں لیا'۔

یاد رہے کہ رمشا قتل کا معاملہ اس وقت زیادہ شدت اختیار کرگیا جب پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ فنکشنل (پی ایل ایل ایف) کے اراکین اسمبلی نے سندھ اسمبلی میں معاملے کو اٹھایا، جس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے خیرپور پولیس کو ہدایت کی کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے۔

دوسری جانب 'جب اس معاملے پر خیرپور کے گاؤں میں مشتبہ افراد کی گرفتاری کا خط پہنچا اور دباؤ بڑھا تو وسانوں نے پولیس سے تعاون کیا'۔

رمشا قتل کیس میں ذلفو کی گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ نے 7 روزہ ریمانڈ پر انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔

واضح رہے کہ پولیس نے ذلفو کے موبائل ڈیٹا کی مدد سے ان کی لوکیشن معلوم کی اور ان کی گرفتاری سانگھڑ کی سرحد کے پاس ضلع خیرپور کے صحرائی علاقے سوراہ سے عمل میں آئی۔

پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد میں امتیاز وسان سابق صوبائی وزیر منظور وسان کے بھائی فدا وسان کے ہاں باورچی ہیں جبکہ رمشا کے والد پرویز وسان بھی ایک باورچی ہیں جو کراچی میں بڑے وسان کے ہاں فرائض انجام دیتے ہیں۔

ذوالفقار وسان کی بات کی جائے تو خیرپور پولیس کے سابق سربراہ ناصر آفتاب نے 2014 میں ذلفو وسان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن مشتبہ افراد سانگھڑ اور دادو اضلاع میں چھپ گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ میں غیرت کے نام پر 2 افراد قتل

اس سے قبل 2009-2008 کے دوران کچھ کیسز میں انہوں نے انتظامات یا مفاہمت کے تحت شاید پولیس کو سرنڈر بھی کیا تھا۔

پولیس کے مطابق اپریل 2011 میں ذوالفقار وسان کے سر کی قیمت 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی لیکن بعد ازاں مختلف کیسز میں انہوں نے ضمانت حاصل کرلی تھی جبکہ سر کی قیمت کا نوٹفکیشن بھی بالآخر واپس لے لیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں ایم پی اے منور وسان کے مطابق رمشا ایک شخص اظہار وسان کے ساتھ بھاگ گئی تھی، جو پہلے سے شادی شدہ تھا اور رمشا سے شادی کا خواہاں تھا لیکن لڑکی کے اہل خانہ نے اس رشتے سے انکار کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس معاملے کو سلجھانے کے لیے گاؤں کے بڑے رمشا کو واپس لے آئے تھے لیکن ذلفو نے اسے قتل کردیا'۔


یہ خبر 08 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں