’ہمیں اب اپنی مووی نائٹس کو ریڈنگ نائٹس میں بدلنا ہوگا‘

ای میل

سڑک کنارے کھڑے ہاکرز کے اسٹالز پر رکنا، ردی والے یا پرانی کتابیں فروخت کرنے والوں سے غیر مطلوب کتابوں پر جائزہ لینا اور کئی بار ان میں سے کوئی قیمتی کتاب کا مل جانا۔ اکثر ان ٹھیلوں پر اکا دکا ہی لوگ نظر آتے۔

یہ میری پاکستان میں گزرے میرے بچپن کی پسندیدہ یادوں میں سے ایک یاد ہے۔

اگر مجھے اپنی دلچسپی کی کوئی کتاب مل جاتی تو میں اسے خرید لیتا اور بس میں سفر کے دوران ہی مطالعہ شروع کردیتا۔ عام طور پر مجھے بس میں کوئی بھی کتاب یا اخبار پڑھتا ہوا نظر نہ آتا۔ میرے زیادہ تر ہم سفر بس کی کھڑکیوں سے باہر خالی پن کا نظارہ کرتے۔ عام طور پر ایک اکیلا میں ہی ہوتا جو باہر نہیں جھانکتا جس کی وجہ سے عجیب سا بھی محسوس ہوتا۔

لیکن امریکا میں سکونت اختیار کرنے کے بعد میرے مشاہدوں میں مکمل طور پر تضاد پیدا ہوگیا۔ وہاں اگر میں بس، ٹرین یا جہاز میں کچھ نہ پڑھ رہا ہوتا تو عجیب سا محسوس ہوتا۔

مجھے یاد ہے کہ اسکول میں، مَیں نے پہلا مضمون ’کتاب: میری پسندیدہ دوست‘ کے عنوان سے لکھا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے مضمون میں لکھا تھا کہ اگر آپ اپنے اندر مطالعے کی عادت ڈال لیں تو آپ کبھی بھی تنہائی کا شکار نہیں ہوں گے۔ آپ گھر پر بیٹھے بیٹھے ہی پوری دنیا گھوم سکتے ہیں۔

اسلام میں مطالعے کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو جو پہلی وحی نازل ہوئی اس کا پہلا لفظ ہی ’اقرا‘ تھا جس کے معنی پڑھنے کے ہیں۔

مسلم تاریخ ایسے کئی کثیرالجلد کتب خانوں سے بھری ہوئی ہے جو تعلیم یافتہ مسلم شہروں کا خاصہ ہوتے۔ تعلیم کے مقصد سے مطالعہ کرنا عالمی کلچر کا حصہ ہے۔ موجودہ دور کے مسلمان اکثر و بیشتر اپنے ماضی کی کامیابیوں کا دعوٰی کرتے تھکتے نہیں، جبکہ ماضی کے برعکس آج لگتا ہے کہ انہوں نے مطالعے کے ذریعے علم حاصل کرنے اور کچھ نیا دریافت کرنے کا جوش جذبہ بڑی حد تک کھودیا ہے، جو ایک زمانے میں ان کے اندر موجود تھا۔

مطالعہ ہمارے اذہان کی نشو و نما میں مدد کرتا ہے اور بقول سائنس، ڈھلتی عمر کے باوجود بھی مطالعہ ذہن کی نشو و نما اور اسے علم و فہم کی نئی راہیں دریافت کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ چارلس وان ڈورین اپنی کلاسیکی تخلیق ’ہاؤ ٹو ریڈ اے بک‘ (کتاب کا مطالعہ کیسے کیا جائے) میں کہتے ہیں کہ ’جسم کے بڑھنے کا عمل تو محدود ہے لیکن ذہن کے ساتھ یہ معاملہ نہیں۔ بلکہ ذہن لامحدود نشو و نما اور افزائش کی گنجائش رکھتا ہے۔ عمر کے کسی ایک خاص حصے میں ذہن کی نشو و نما رک نہیں جاتی۔‘

ہم جیسے جیسے مطالعے کرتے جاتے ہیں ذہن نیا علم اور سوچنے کی نئی راہیں حاصل کرتا جاتا ہے، جو کئی بار ایجادات کا باعث بن جاتی ہیں۔ یونانی کتابوں کے ترجموں اور مطالعے کے ذریعے مسلمانوں نے اپنے شاندار ماضی میں دنیا کو نیا علم بخشا۔

مطالعے کا آغاز عمر کے ابتدائی حصے میں کیا جائے تو بہت ہی اچھی بات ہے۔ علم ادراک (congnitive science) والدین کو یہ تجویز دیتا ہے کہ عمر کے نہایت ابتدائی حصے میں کتب بینی اس بچے کی بھی سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا ہوتا۔ لہٰذا اس معلومات کے مطابق جب ہمیں بچوں کی نعمت ملی تو یہ یقینی بنانے کے لیے کہ وہ مطالعے کے عادت کے ساتھ بڑے ہوں، ہم نے اولین قدم کے طور پر انہیں ہر رات ایک کتاب پڑھ کر سنانا شروع کی، اس کے علاوہ آگے چل کر ان کے اسکول نے بھی مطالعے کو اپنے نصاب کا حصہ بنالیا، یہاں تک کہ لمبی چھٹیوں کے دوران بھی مطالعہ ضروری قرار دیا۔

ہم جب بھی خریداری یا زمینی یا پھر ہوائی سفر پر جا رہے ہوتے ہیں تب ہمیشہ یہ یقینی بناتے ہیں کہ بچوں کے پاس کتابیں ہوں۔ ہمیں اس عادت کے اثرات بھی دیکھنے کو ملے ہیں، ہمارے بچے چونکہ مطالعے کے جذبے کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں، آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی دنیا کو بہتر انداز سے جانتے ہیں، جتنا کہ ہم ان کی عمر میں نہیں جانتے تھے۔

وہ افراد جن کے لیے یہ عادت اب بھی نئی ہے تو وہ میگزین یا اخبار پڑھ کر اس کی ایک اچھی ابتدا کرسکتے ہیں۔ تاہم دماغ کی نشو و نما کو حقیقی معنوں میں فائدہ مند بنانے کے لیے مطالعے میں ایسے مضامین اور مواد کا شامل ہونا ضروری ہے جو ہمارے لیے نئے ہوں تاکہ ہمارے ذہن کو اسے سمجھنے کی مشقت کرنی پڑی۔ یہ بالکل مسلز کی ورزش کی طرح ہے۔ جب تک ہم مسلز کو بڑھتے وزن کے ساتھ چیلنج نہیں کریں گے تب تک نہ تو ان کی نشو و نما ہوگی اور نہ ہی یہ مضبوط ہوں گے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ انسانی دماغ کے ساتھ بھی ہے۔

مطالعہ یکطرفہ عمل نہیں، بلکہ یہ لکھاری اور قاری کے درمیان مکالماتی عمل ہے۔ ڈورین اپنی کتاب میں اس حوالے سے کچھ اس انداز میں اشارہ دیتے ہیں کہ ’مطالعے میں ہماری اپنی شعوری مشقت کے ذریعے کم فہمی سے زیادہ فہمی میں منتقل ہونے کا عمل کچھ ایسا ہے جیسے ہم اپنے جوتوں کے تسموں کی مدد سے خود کو اٹھا رہے ہیں۔ واقعی اسی طرح محسوس ہوتا ہے۔ یہ ایک بڑا ہی مشقت بھرا کام ہے۔‘

حال ہی میں جب پاکستان آنا ہوا تو میں نے پایا کہ کتابوں کی دکانوں میں اضافہ ہوا ہے البتہ عوام کی دلچسپی اب بھی مطالعے میں پیدا نہیں ہوئی۔ ہمیں اب اپنی مووی نائٹس کو ریڈنگ نائٹس میں بدلنا ہوگا۔ ہمیں کتابوں کی دکانوں اور لائبریریوں کا بالکل ویسی ہی گرم جوشی کے ساتھ بار بار رخ کرنا ہوگا جیسی تیزی ہم ریسٹورینٹس اور شاپنگ مالز جاتے وقت دکھاتے ہیں۔

اگر ہم قرآن مجید، حدیث اور مسلم ادب کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ اندازہ ہوگا کہ یہ تمام اہم ذرائع ہمیں کائنات پر غور و فکر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ایسا زبردست مطالعے کے بغیر ممکن نہیں۔ مسلم معاشروں نے صرف اس لیے عروج کو چھوا کیونکہ غور و فکر، اپنے علم کی خود تخلیق کے ساتھ ساتھ دیگر علوم سے علم حاصل کرنے میں انہوں نے کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی۔

آج ہمیں یہ مقام دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ ’یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے‘۔


یہ مضمون 8 فروری 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔