وزیر اطلاعات کا اصغر خان کیس کی دوبارہ سماعت کیلئے بینچ کے قیام کا خیرمقدم

اپ ڈیٹ 09 فروری 2019

ای میل

فواد چوہدری کے مطابق اصغر خان کیس مسلم لیگ (ن) کے سیاسی کردار کو عیاں کرتا ہے—فوٹو: فواد چوہدری فیس بک
فواد چوہدری کے مطابق اصغر خان کیس مسلم لیگ (ن) کے سیاسی کردار کو عیاں کرتا ہے—فوٹو: فواد چوہدری فیس بک

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس کی دوبارہ سماعت کے لیے بینچ تشکیل دیے جانے کو خوش آئند قرار دے دیا۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پہلے ہی ایف آئی اے کو ہدایات جاری کر چکے ہیں کہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل کیا جائے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ اصغر خان کیس مسلم لیگ (ن) کے سیاسی کردار کو عیاں کرتا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ بینظیر بھٹو شہید کے سیاسی وارث آج مسلم لیگ (ن) کی گود میں بیٹھے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ پیر 11 فروری کو اصغر خان کیس کے 2012 میں دیے جانے والے فیصلے پر عملدرآمد کیس کی دوبارہ سماعت کرے گی، یہ مقدمہ 1990 کے انتخابات کے دوران مالیاتی اسکینڈل پر مبنی تھا۔

واضح رہے کہ 11 جنوری کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مرحوم ایئر مارشل (ر) اصغر خان کے اہلِ خانہ کی درخواست قبول کرتے ہوئے اس کیس کی کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

چناچہ اب جسٹس گلزار احمد، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ اس کی سماعت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اصغر خان عملدرآمد کیس: 'معاملہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ اسے بند کردیا جائے'

خیال رہے کہ عدالت نے سیکریٹری دفاع ضمیر حسین کو طلب کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ اس مالی اسکینڈل میں ملوث فوجی افسران کے خلاف تحقیقات کے حوالے سے عدالت کو اعتماد میں لیا جائے۔

یاد رہے کہ 29 دسمبر کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرواتے ہوئے اصغر خان عمل درآمد کیس کی فائل بند کرنے کی درخواست کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جن سیاستدانوں پر الزام تھا انہوں نے رقم وصولی سے انکار کیا جبکہ اہم گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے اور یہ ایک دوسرے سے مماثلت نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا اصغرخان عملدرآمد کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ

سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ معاملہ 25 سال سے زیادہ پرانا ہے اور متعلقہ بینکوں سے رقم اکاؤنٹس میں جمع ہونے کا مکمل ریکارڈ نہیں ملا۔

علاوہ ازیں جی ایچ کیو، جو اپنے طور پر اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے، کی جانب سے بھی ابھی تک ایف آئی اے کو مطلع نہیں کیا گیا، چناچہ ادارے کے پاس اتنے شواہد نہیں کہ کیس پر فوجداری کارروائی ہوسکے۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کی تحقیقات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ تحقیقات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ایف آئی نے بتایا کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید سمیت تمام اہم گواہوں سے رابطہ کیا، بینک کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی گئی، متعلقہ بینک افسران کے بیان بھی ریکارڈ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: اصغر خان کیس: ’عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو فوجی حکام کو طلب کریں گے‘

اس کے ساتھ ساتھ 190 ٹی وی پروگرامز کا جائزہ بھی لیا گیا اور سیاستدانوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے جبکہ اہم ثبوتوں کیلئے وزارت دفاع سے بھی رابطہ کیا گیا۔

اس کے باوجودبدقستمی سے تحقیقات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا، بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید نے رقوم تقسیم کرنے والے آرمی افسران کا نام ظاہر نہیں کیا اور کسی آرمی افسر نے پیسوں کی تقسیم قبول نہیں کی۔

ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع سے اہلکاروں کے متعلق کئی بار پوچھا گیا لیکن رقوم کی تقسیم میں ملوث حساس اداروں کے اہلکاروں سے متعلق نہیں بتایا گیا جس کے باعث کیس کی تحقیقات بند گلی میں داخل ہوگئی ہے چناچہ عدالت رہنمائی کرے۔