کینیڈا: مسجد پر حملے میں ملوث شخص کو 40 سال قید کی سزا

اپ ڈیٹ 10 فروری 2019

ای میل

حملے کے وقت مسجد میں 50 سے زائد نمازی موجود تھے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
حملے کے وقت مسجد میں 50 سے زائد نمازی موجود تھے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

کیوبیک: کینیڈا کی عدالت نے 2017 میں مسجد پر حملہ کرکے 6 مسلمانوں کو قتل کرنے والے فرانسیسی نژاد کینیڈین شہری کو 40 سال قید کی سزا سنا دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق کیوبیک کی اعلیٰ عدالت کے جج جسٹس فریکوئین ہاؤٹ نے سزا سناتے ہوئے الیکشنڈر بسسنٹٹ کے حملے کو ناپسندیدہ قرار دیا۔

29 سالہ الیکشنڈر بسسنٹٹ پر گزشتہ سال مارچ میں قتل اور اقدام قتل کے تحت 6 الزامات لگائے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: کیوبیک مسجد فائرنگ مسلمانوں پر 'دہشتگرد حملہ' قرار

خیال رہے کہ جنوری 2017 کو اسلامک کلچرل سینٹر میں فائرنگ کی گئی تھی اور اس وقت وہاں 50 سے زائد افراد نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے۔

مجرم قرار دیئے جانے پر الیکشنڈر بسسنٹٹ نے افسوس اور ندامت کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی مطالبہ کیا تھا کہ اسے واقعے پر وضاحت پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت میں دیئے گئے ملزم کے بیان میں بتایا گیا کہ وہ 'نہ تو دہشت گرد ہے اور نہ ہی وہ اسلامو فوبیا کا شکار ہے'، لیکن وہ 'کسی قسم کے خوف، منفی خیالات اور نا اُمیدی کے حوالے سے انتہائی برے قسم کے اثرات کا شکار تھا'۔

دوسری جانب پولیس کی تفتیش کے مطابق الیکشنڈر بسسنٹٹ نے تحقیقات کرنے والوں کو بتایا تھا کہ جس وقت ملزم نے حملہ کیا اس کا مقصد اپنے اہل خانہ کو دہشت گردوں سے بچانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا: مسجد میں فائرنگ سے 6 نمازی جاں بحق

ملزم نے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت مکمل طور پر 'آپے سے باہر' ہوگیا جب اس نے سنا کہ کینیڈا کی حکومت مزید مہاجرین کو ملک میں بسانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

یاد رہے کہ 29 جنوری 2017 کو مسجد میں الیکشنڈر بسسنٹٹ کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں 6 مسلمان جاں بحق ہوگئے تھے جن کی عمریں 39 سے 60 سال کے درمیان تھیں۔


یہ رپورٹ 10 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی