لاہور ہائیکورٹ: حمزہ شہباز کے لندن قیام میں 14 روزہ توسیع کی درخواست منظور

اپ ڈیٹ 11 فروری 2019

ای میل

حمزہ شہباز کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان کی نومولود بیٹی کی طبعیت خراب ہے — فائل فوٹو/ ڈان نیوز
حمزہ شہباز کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان کی نومولود بیٹی کی طبعیت خراب ہے — فائل فوٹو/ ڈان نیوز

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی جانب سے لندن قیام میں توسیع کے لیے دائر کی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں لندن میں مزید 14 روزہ قیام کی اجازت دے دی۔

عدالت نے حمزہ شہباز کی درخواست منظور کرتے ہوئے 14 دن کی توسیع کر دی

وکیل اعظم نذیر تارڑ نے حمزہ شہباز کی جانب سے درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حمزہ شہباز کی نومولود بیٹی کی طبیعت خراب ہے، حمزہ شہباز کو بیٹی کے علاج کے لیے بیرون ملک قیام کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نجی دورے پر لندن روانہ

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بیٹی کی طبیعت ٹھیک ہوتے ہی حمزہ شہباز واپس آجائیں گے اور ساتھ ہی عدالت سے استدعا کی کہ عدالت حمزہ شہباز کو 14 روز مزید بیرون ملک قیام کی اجازت دے۔

حمزہ شہباز نے درخواست میں استدعا کی کہ عدالت درخواست منظور کرکے 14 دن توسیع منظور کرے۔

خیال رہے کہ عدالت نے حمزہ شہباز کو 10 دن کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی اور وہ ان دنوں لندن میں موجود ہیں۔

حمزہ شہباز کی درخواست میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

بعد ازاں عدالت عالیہ نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حمزہ شہباز کی جانب سے لندن قیام میں توسیع سے متعلق دائر کی گئی درخواست منظور کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: حمزہ شہباز کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی، دوحا جانے سے روک دیا

یاد رہے کہ عدالت کی اجازت کے بعد 3 فروری 2019 کو حمزہ شہباز نجی دورے پر برطانیہ چلے گئے تھے۔

اس سے قبل 11 دسمبر 2018 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو قطر ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے دوحہ جانے سے روک دیا تھا۔

15 جنوری 2019 کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے حکومت کی جانب سے ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر عدالت نے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔