عمران خان میثاق جمہوریت پر دستخط کرکے پی اے سی لے لیں، وزیراعلیٰ سندھ

اپ ڈیٹ 11 فروری 2019

ای میل

وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا—فوٹو:ڈان نیوز
وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا—فوٹو:ڈان نیوز

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو میثاق جمہوریت کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان آئیں بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کریں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سربراہی دینے کو تیار ہیں۔

سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان آئیں، بلاول بھٹو زرداری اور شہبازشریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پردستخط کریں ہم ان کو پی اے سی کی سربراہی دینے کو تیار ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جس طرح مطالبات کررہے ہیں وہ غیرجمہوری ہے اور پی اے سی کی سربراہی رکن اسمبلی کا استحقاق ہے’۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سندھ حکومت پی اے سی کی سربراہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو نہیں دے گی کیونکہ انہوں نے میثاق جمہوریت میں دستخط نہیں کیے۔

وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پہلے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنا چاہیے اور اس پر اعتماد بھی کرنا چاہیے جس کے بعد ہی اس طرح کے مطالبات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2008 میں میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے جبکہ پاکستان مسلم لیگ فنگشنل (ایف) اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے دستخط نہیں کیے تھے اس لیے ہم پی اے سی کی چیئرمین شپ ان کو دینے کے پابند نہیں ہیں۔

'پولیس کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے'

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں یوسی چیئرمین رحیم شاہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے ارشاد رانجھانی کے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ارشادرانجھانی کو 5 گولیاں بہت قریب سے ماری گئیں اور اس قتل کیس میں پولیس بھی ملوث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس گولیاں لگے شخص کوہسپتال پہنچانے کے بجائے تھانے لے جاتی ہے، پولیس کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اگر واقعے کا مقدمہ درج نہ ہوا تو میں خود مقدمہ درج کراؤں گا۔

مزید پڑھیں:کراچی: ارشاد رانجھانی ہلاکت، تحقیقاتی ٹیم کی سفارش پر 'ذمہ دار شخص' گرفتار

انہوں نے کہا کہ ارشاد رانجھانی قتل کے واقعے نے مجھے ہلا دیا ہے اور آئی جی سندھ کو واقعے کی تحقیقات کے لیے سخت احکامات دیے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آج کل آئی جی کوعدالتی احکامات کاحوالہ دے کرتبدیل کیاجاتا ہے لیکن ہم پولیس میں اصلاحات کے لیے کام کررہے ہیں۔

آئی جی سندھ کو لکھے گئے خط میں وزیراعلیٰ سندھ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تفتیش جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس نےغیرذمہ دارانہ رویہ دکھایا اور وقت پرجائے وقوع پرنہیں پہنچ سکی جس کے باعث حکومت پر جان ومال کی حفاظت کاعوامی اعتماد متاثرہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ سندھ نے ارشاد رانجھانی کے قتل کا نوٹس لے لیا

انہوں نے کہا کہ واقعے سے عوام کا ریاست پر اعتماد مجروح ہوا ہے، یوسی چیئرمین رحیم شاہ کا دعویٰ درست بھی مان لیا جائے تو قانون قتل کا لائسنس نہیں دیتا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ رحیم شاہ نے خود جج بن کرسزا دینے کا عمل کیا اور حکومت کی رٹ کوچیلنج کیا، سوشل میڈیا پرموجود فوٹیج دکھا رہی ہے کہ یہ غیرانسانی اورظالمانہ رویہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ رحیم شاہ نے قومی شاہراہ پربھینس کالونی کے قریب ارشادرانجھانی کو قتل کیا۔

یاد رہے کہ یہ ارشاد رانجھانی کے قتل کا معاملہ 8 فروری 2019 کو سامنے آیا تھا جب جئے سندھ تحریک کراچی کے صدر ارشاد رانجھانی کے لواحقین نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے قریب نیشنل ہائی وے پر 2 روز قبل بھینس کالونی کے یونین کونسل کے چیئرمین کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔

یوسی چیئرمین نے دعویٰ کیا تھا کہ 6 فروری کو بھینس کالونی موڑ کے قریب 2 مشتبہ افراد نے انہیں لوٹنے کی کوشش کی اور اسی دوران انہوں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک مشتبہ شخص ہلاک اور دوسرا فرار ہوا، بعد ازاں ہلاک شخص کی شناخت ارشاد رانجھانی کے نام سے ہوئی۔

ارشاد رانجھانی کے لواحقین اور رشتے داروں کا موقف ہے کہ وہ بے گناہ تھے۔

کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج میں شامل آفتاب شاہ کا کہنا تھا کہ مقتول ارشاد رانجھانی ان کی جماعت جئے سندھ تحریک کراچی کے صدر تھے۔

مقتول کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ضلع دادو میں اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے 15 روز قبل دبئی سے آئے تھے اور 2 روز قبل دادو سے واپس کراچی کے علاقے کورنگی میں اپنی رہائش گاہ پہنچے تھے۔

9 فروری 2019 کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک روز قتل کیے جانے والے ارشاد احمد رانجھانی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس کو واقعے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا تھا۔