ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں بی بی سی کے کیمرا مین پر حملہ

12 فروری 2019

ای میل

ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی نے ریلی میں میڈیا کو گالیاں بھی دی—بشکریہ ٹوئٹر
ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی نے ریلی میں میڈیا کو گالیاں بھی دی—بشکریہ ٹوئٹر

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں اپنے کیمرا مین پرپُرتشدد حملے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے دیا۔

دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیکساس میں ریلی سے خطاب کررہے تھے کہ اس دوران ان کے ایک حامی نے میڈیا کو گالی دیتے ہوئے ’بی بی سی کے کیمرا مین پر حملہ کردیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کے صحافیوں کے خلاف بیان پر اقوام متحدہ کی تنقید

دوسری جانب واشنگٹن میں بی بی سی کے رپورٹر گیری او ڈونگیو نے بتایا کہ ’کیمرا مین رون سیکین حملے میں محفوظ رہے‘۔

اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’مین رون سیکین ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی کی کوریج میں مصروف تھے کہ عقب سے ایک شخص نے حملہ کیا اور کیمرا مین اور کیمرہ دونوں نیچے گر گئے‘۔

واضح رہے کہ 8 نومبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کا نیوز کانفرنس کے دوران صحافی کو ’عوام کا دشمن‘ کہنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے سی این این کے رپورٹر کا پریس پاس منسوخ کردیا تھا۔

مزیدپڑھیں: متنازع معاملات پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطرناک مؤقف

عالمی نشریاتی ادارے سی این این کے رپورٹر جم اکوسٹا نے امریکا کے صدر سے روسی مداخلت کا سوال شروع ہی کیا تھا کہ امریکی صدر سیخ پا ہو گئے اور کہا کہ تم ’بدتمیز اور گھٹیا شخص ہو‘ اور ’عوام کے دشمن‘ بھی ہو۔

بی بی سی کی ترجمان نے بتایا کہ ’سیکیورٹی نے حملہ آوار شخص کو ریلی سے نکال دیا تاہم امریکی صدر واقعہ سے متعلق ہم سے رابطہ کرکے پوچھ سکتے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ واضح پیغام ہے کہ فرائض کی انجام دہدی کے دوران ہمارے عملے پر حملہ ناقابل قبول ہے‘۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عہدیداروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میڈیا مخالف بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے صحافیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ‘وائٹ ہاؤس والے ٹرمپ کو خبطی اور بیٹی کو عقل سے پیدل سمجھتے ہیں‘

اقوام متحدہ کے خبر رساں ادارے’یو این نیوز‘ کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے میڈیا پر کیا جانے والا حملہ خاص حکمت عملی کے تحت رپورٹنگ پر اعتماد کم کرنے اور تصدیق شدہ حقائق کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے کے لیے کیا گیا‘۔