صوبے کے ایک لاکھ 35ہزار اساتذہ ریاضی، سائنس نہیں پڑھا سکتے،وزیرتعلیم

اپ ڈیٹ 12 فروری 2019

ای میل

صوبائی وزیررتعلیم نے ریکروٹمنٹ نظام میں تبدیلی کا عندیہ دیا—فوٹو:ٹیم سردار علی شاہ فیس بک
صوبائی وزیررتعلیم نے ریکروٹمنٹ نظام میں تبدیلی کا عندیہ دیا—فوٹو:ٹیم سردار علی شاہ فیس بک

سندھ کے وزیرتعلیم سردار شاہ نے صوبے کے تعلیمی نظام میں موجود نقائص کا اعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اسکو لوں کے ایک لاکھ 50 ہزار میں سے ایک لاکھ 35 ہزار اساتذہ سائنس اور ریاضی نہیں پڑھاسکتے ہیں۔

کراچی میں محکمہ تعلیم کے تحت منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت ہمارے نظام میں 42 ہزار اسکول ہیں جو خطرناک صورت حال ہے جس میں سے 39 ہزار پرائمری اور صرف 3 ہزار سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکول ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:تعلیمی انقلاب کیسے آئے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا دعویٰ ہے کہ 42 لاکھ بچے ان اسکولوں میں داخل ہیں لیکن میں اس کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے اعداد وشمار سمجھتا ہوں، تعلیمی اداروں کا دعویٰ ہے کہ 6 اعشاریہ 5 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں اس کو بھی میں صحیح نہیں مانتا تاہم اس حوالے سے اعداد وشمار جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ اصل صورت حال سامنے آئے’۔

صوبائی وزیرتعلیم نے کہا کہ ‘ہمارے پاس اس وقت ایک لاکھ 50 ہزار اساتذہ موجود ہیں جن میں سے 9 فیصد سائنس اساتذہ ہیں اور ان کے ساتھ ہم یہ دعویٰ کریں کہ 42 لاکھ بچوں کو تعلیم دے کر انہیں روشن مستقبل دے رہے ہیں تو یہ جھوٹ ہے اور ہمیں اس کو سمجھنا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم میں ایک لاکھ 35 ہزار اساتذہ ایسے ہیں جنہیں ریاضی اور سائنس پڑھانا نہیں آتا لیکن ہم انہیں نکال نہیں سکتے اور ان کو باہر نکالنے کا کوئی حل نہیں ہے تاہم کوشش یہ کرنی ہے کہ جتنے بھی نئے اساتذہ بھرتی ہوں وہ سائنس اساتذہ ہوں اور ہمارے اسکولوں کا معیار بہتر ہو۔

انہوں نے کہا کہ خوش فہمی نہیں کہ صوبے کے 42 ہزار اسکولوں کی حالت اچھی ہے اور بہترین عمارتیں ہیں، مجھے علم ہے کہ صوبے کے کئی اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں لیکن انہیں بہتر کرنے میں وقت لگے گا اور نیک نیتی کے ساتھ نظام کو بہتر کرنا ہے اور چیلنجز ہمارے سامنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یقین دلا سکتے ہیں کہ ایمان داری اور دیانت داری کے ساتھ محکمہ تعلیم میں بہتری کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

ورک شاپ کے آخر میں سوال و جواب سیشن میں انہوں نے تعلیمی اداروں میں بھرتیوں کے لیے ایم ایڈ اور بی ایڈ کے خاتمے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘ریکروٹمنٹ پالیسی ہم سے پہلے بنائی گئی تھی اور اساتذہ یا ٹی او کے لیے ایجوکیشن منیجمنٹ پر ماسٹرز رکھا گیا ہے لیکن ہم ریکروٹمنٹ پالیسی کو بدلنے جارہے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر تعلیم سندھ نے تاریخ رقم کردی، بیٹی کا داخلہ سرکاری اسکول میں کرادیا

وزیرتعلیم سردار شاہ نے کہا کہ ‘ہم بی ایڈ اور ایم ایڈ کی شرط کو بھی ختم کریں گے کیونکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈگریاں بیچنے کا ایک بازار جہاں 50 ہزار لے کر جس کو چاہے بی ایڈ کی ڈگری لے کر آجائے لیکن ہم کسی قابل امیدواروں کا راستہ نہیں روکیں گے اور کوئی ایم ایس سی یا ماسٹرز کرکے بیٹھا ہوا ہے ہم ان کو راستہ دیں گے’۔

پرائیویٹ اسکولوں کی انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کوئی غیر قانونی کام کرنے نہیں جارہے ہیں لیکن تنبیہ کر رہے ہیں کہ کل کو کوئی اسکول قانون کے مطابق بند ہوا تو محکمہ تعلیم کویہ نہ کہیں کہ ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا اس لیے عدالت کے فیصلے پر عمل کریں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پرائیویٹ ڈائریکٹوریٹ میں اسٹاف کی کمی ہے لیکن پرائیویٹ اداروں کی ایک ایڈوائزری بنانے جارہے ہیں جو اس کی نگرانی کرے گی، ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے کے دیگر اسٹیک ہولڈربھی سامنے آئیں ہمارے ساتھ مل کر کام کریں’۔

مزید پڑھیں:تعلیم اور دیہی ترقی کیلئے یورپی یونین 10کروڑ یورو کی امداد پاکستان کو دے گا

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ 1947 سے اب تک کسی قانون میں اسکول کی تعریف نہیں کی گئی اور اگر اسکول کی تعریف ہوتی اور قانون میں ہوتا تو ایک کمرے کا اسکول نہیں بنتا اور کھیل کے میدان، پینے کے پانی اور بیت الخلا کے بغیر کوئی اسکول نہیں بنتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے نظام کو ایک دم ٹھیک کرنا جادو کی چھڑی نہیں ہے اس لیے ایک بوائز اور ایک گرلز کے 300 ماڈل اسکول بنائیں گے، ہر تحصیل ہیڈ کوارٹر میں بنائیں گے اور اس کو وقت کے ساتھ مزید وسیع کریں گے اور ان 300 اسکولوں کو اگلے بجٹ میں شامل کریں گے۔