مسلم لیگ (ن) نے ہزارہ صوبے کی تشکیل کیلئے بل جمع کرادیا

اپ ڈیٹ 13 فروری 2019

ای میل

بل میں مسلم لیگ (ن) کے 6 اراکین کے دستخط ہیں—فائل/فوٹو:ڈان
بل میں مسلم لیگ (ن) کے 6 اراکین کے دستخط ہیں—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کے لیے آئینی ترمیم کا بل جمع کرنے کے بعد صوبہ ہزارہ کے لیے بل قومی اسمبلی میں جمع کرادیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن ملک سجاد اعوان نے صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروا دیا جس میں احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، مریم اورنگ زیب، مرتضی جاوید عباسی اور سجاد اعوان کے دستخط ہیں۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کردہ بل میں مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا (کے پی) اسمبلی نے 25 مارچ 2014 کو ہزارہ صوبے کی تشکیل کے لیے قرار داد منظور کی تھی۔

مذکورہ قرارداد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ‘اس قرار داد کی حمایت ایوان میں موجود سیاسی جماعتوں کے اراکین نے کی تھی’۔

مزید پڑھیں:بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبوں کیلئے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل جمع

مجوزہ ترمیمی بل میں صوبے کی قومی، صوبائی اور سینیٹ کی نشستوں کی تعداد بھی واضح کردی گئی ہے۔

آرٹیکل 51 میں ترمیم

ترمیمی بل میں آئین کے آرٹیکل 51 میں ترمیم کی تجویز ہے کہ صوبے کا نام ہزار ہو اور مجموعی نشستیں 14 ہوں گی جن میں 11 براہ راست اور 3 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔

آرٹیکل 51 کی شق 3 اے کو تبدیل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا کہ کے پی اور صوبہ پنجاب سے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین کی رکنیت کو اس وقت پر معطل نہیں کیا جائے گا جب تک اسمبلی برقرار ہے جس کے بعد یہ شق نکال دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:’جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا آسان کام نہیں‘

آرٹیکل 59 میں ترمیم

مسلم لیگ (ن) نے تجویز دی ہے کہ آرٹیکل 59 میں ترمیم کی جائے جس کے تحت سینیٹ کے ڈھانچے کی وضاحت ہوگی اور کہا گیا ہے کہ مجموعی تعداد کو 96 سے بڑھا کر 142 کردی جائے۔

وضاحت کرتےہوئے کہا گیا کہ ‘پنجاب اور کے پی سے منتخب ہونے والے اراکین ہزارہ، بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ بننے کے بعد بھی اپنی مدت پوری کریں گے جس کے بعد یہ شق ختم ہوگی’۔

آرٹیکل 106 میں ترمیم

آئین کے آرٹیکل 106 میں ترمیم کے ساتھ صوبائی اسمبلی کے خدوخال اور نشستوں کی وضاحت ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) نے تجویز دی ہے کہ ہزارہ صوبے کی مجموعی نشستیں 36 ہوں گی جن میں 29 جنرل، 6 خواتین اور ایک اقلیتی نشست ہوگی۔

اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ کے پی اور پنجاب سے مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین صوبائی اسمبلی اس وقت تک کام جاری رکھیں گے جب تک اسمبلی نہیں ٹوٹتی جس کے بعد اس شق کو بھی نکال دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:جنوبی پنجاب صوبے کا خواب پی ٹی آئی کے دور میں پورا ہوگا، وزیراعلیٰ پنجاب

یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے 28 جنوری کو بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں جمع کرا دی تھی۔

آئینی ترمیمی بل مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں احسن اقبال، رانا تنویر، رانا ثنااللہ خان اور عبدالرحمٰن کانجو نے اپنے دستخطوں کے ساتھ سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کروا دیا گیا تھا۔

بل کے متن میں کہا گیا تھا کہ صوبوں کی تشکیل کے لیے آئینی ترمیم کا عنوان ’آئینی (ترمیمی) ایکٹ مجریہ 2019' ہے جس میں آئین کے آرٹیکل ایک میں ترمیم سے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبوں کی تشکیل کے الفاظ شامل کیے جائیں۔

آئینی ترمیم میں لکھا گیا تھا کہ بہاولپور صوبہ، بہاولپور کے موجودہ انتظامی ڈویژن پر مشتمل ہوگا جبکہ جنوبی پنجاب صوبہ موجودہ ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژن پر مشتمل ہوگا۔

بل میں کہا گیا تھا کہ ترمیم کے بعد ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژنز، صوبہ پنجاب کی حد سے نکل جائیں گے۔