رات گئے تک جاگنے والے افراد کا دماغ مختلف ہوتا ہے، تحقیق

15 فروری 2019

ای میل

یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو

ایسے افراد جو رات گئے تک جاگنے بلکہ اکثر تو سورج طلوع ہونے کے اٹھے رہتے ہیں، کو طبی زبان میں نائٹ آﺅل یا الو کہا جاتا ہے اور ان کا دماغ صبح جلد اٹھنے والوں کے مقابلے میں بالکل مختلف انداز سے کام کرتا ہے۔

اور یہ دماغی فرق رات گئے تک جاگنے والوں کی زندگی کو انتہائی مشکل بناتا ہے خصوصاً اگر وہ 9 ٹو 5 ملازمت کرتے ہوں۔

یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

موناش انسٹیٹوٹ فار Cognitive and Clinical Neurosciences کی تحقیق کے دوران رات گئے یا علی الصبح جاگنے والے افراد کے دماغوں کو اسکین کیا گیا اور معلوم ہوا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد کی دماغی کنکٹیویٹی کم ہوتی ہے۔

آسان الفاظ میں ان کے دماغ کے مختلف حصے ایک ساتھ سائنک نہیں ہوتے۔

تحقیق کے مطابق دماغی کنکٹیویٹی میں کمی کے نتیجے میں ایسے افراد کو توجہ کی صلاحیت کی کمزوری، ردعمل کا وقت سست ہونا اور دن میں عام ورک ڈے کے اوقات میں غنودگی کا سامنا ہوتا ہے۔

ان نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخر رات گئے تک جاگنے والے افراد کو صبح کام کے اوقات میں توجہ مرکوز کرنے میں مشکل اور غنودگی جیسے مسائل کا سامنا کیوں ہوتا ہے کیونکہ ان کی اندرونی گھڑی اس معمول سے مطابقت نہیں کرپاتی۔

محققین کا کہنا تھا کہ کسی شخص کی حیاتیاتی گھڑی اور سماجی وقت میں عدم مطابقت کے نتیجے میں اکثر افراد کو اوپر درج مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری تحقیق میں پہلی بار رات گئے تک جاگنے والے افراد کے اندرونی دماغی میکنزم کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے اور ان کے سونے جاگنے کے اوقات ذہنی صلاحیتوں کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔

ویسے ماضی میں متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں رات گئے تک جاگنے کی عادت کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا جاچکا ہے۔

گزشتہ سال امریکا کی امریکا کی نارتھ ویسٹرن میڈیسین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ صحت مند فرد کے لیے 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے مگر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنے کے نتیجے میں نیند کی کمی کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ رات گئے تک جاگنے کے نتیجے میں لوگ ایسی غذائیں کھانے لگتے ہیں جو جسم کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔

اسی طرح نیند کی کمی چڑچڑا پن، ذہنی توجہ مرکوز نہ کرنے اور ڈپریشن کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ رات گئے سونے سے جسم میں کورٹیسول نامی ہارمونز کی سطح بڑھتی ہے جو کہ جسمانی وزن میں اضافے کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

2013 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جلد اور دیر سے سونے والوں کا دماغی اسٹرکچر مختلف ہوتا ہے اور جلد سونے جاگنے والے افراد میں سفید میٹر کا معیار زیادہ بہر ہوتا ہے جس سے عصبی خلیات کو کمیونیکٹ کرنے میں مدد ملتی ہے۔