مقبوضہ کشمیر حملہ: امریکی سفیر نے دفتر خارجہ کو اپنی حکومت کا ’اہم پیغام‘ پہنچا دیا

اپ ڈیٹ 16 فروری 2019

ای میل

امریکی نظام الامور کی ملاقات پلوامہ حملے کے بعد ہوئی—فوٹو: امریکی سفارتخانہ ٹوئٹر اکاؤنٹ
امریکی نظام الامور کی ملاقات پلوامہ حملے کے بعد ہوئی—فوٹو: امریکی سفارتخانہ ٹوئٹر اکاؤنٹ

اسلام آباد: امریکی ناظم الامور پال جونز نے پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کرکے انہیں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دیا جانے والا ’ایک اہم پیغام‘ پہنچایا۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں ہونے والے دھماکے کے بعد ہوئی، جس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان رچرڈ سنیل سائر کا کہنا تھا کہ ’امریکی سفارت کار نے ملاقات کی تھی‘ لیکن انہوں نے اس ملاقات کے مندرجات واضح نہیں کیے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر دھماکا: پاکستان نے بھارتی الزام یکسر مسترد کردیا

تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ ملاقات میں حملے کے بعد کی صورتحال سے متعلق پیغام پہنچایا گیا۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 پیراملٹری اہلکاروں کی ہلاکت پر وائٹ ہاؤس نے پاکستان سے کہا تھا کہ ’وہ مبینہ طور پر اپنی زمین پر کام کرنے والے تمام دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور محفوظ پناہ گاہ فوری ختم کرے‘۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ان دہشت گرد گروہوں کا مقصد ’خطے میں افراتفری، تشدد اور دہشت پھیلانا‘ تھا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ یہ حملہ بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون اور معاہدے کو فروغ دینے کے عزم کا تقویت دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر میں ریموٹ کنٹرول دھماکا، 44 بھارتی فوجی ہلاک

ادھر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا کہ ’ہم تمام ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت اور محفوظ پناہ گاہوں کو مسترد کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر ذمہ داری سے عمل کریں‘۔

اس سارے معاملے پر امریکی قومی سلامتی کے مشیر جوہن بولٹن نے بھی اپنے بھارتی ہم منصب اجیت دوول سے بھی بات چیت کی تھی۔

علاوہ ازیں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ کا کہنا تھا کہ بیجنگ چاہتا ہے کہ خطے میں موجود ممالک دہشت گردی سے لڑنے اور علاقائی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں بروئے کار لائیں۔


یہ خبر 16 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی