10 شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق

اپ ڈیٹ 17 فروری 2019

ای میل

وائرس کی سیویج کے پانی میں موجودگی سے ظاہر ہے کہ مقامی بچوں کا قوت مدافعت کم ہوگیا ہے اور انہیں اس بیماری کا خطرہ ہے۔ — فائل فوٹو/اے ایف پی
وائرس کی سیویج کے پانی میں موجودگی سے ظاہر ہے کہ مقامی بچوں کا قوت مدافعت کم ہوگیا ہے اور انہیں اس بیماری کا خطرہ ہے۔ — فائل فوٹو/اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان پولیو اریڈکیشن پروگرام کی جانب سے گزشتہ ماہ کیے گئے ماحولیاتی سروے میں 10 شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تشخیص کی گئی۔

قومی ہنگامی آپریشنز سینٹر کی جانب سے بتائی گئی تفصیلات کے مطابق راولپنڈی، فیصل آباد، لاہور، کراچی، سکھر، کلہ عبداللہ، کوئٹہ، ڈیرہ اسمٰعیل خان، پشاور اور جنوبی وزیرستان سے جنوری کے مہینے میں جمع کیے گئے سیویج کے نمونوں میں سے پولیو وائرس پایا گیا۔

واضح رہے کہ پولیو مہم کی کامیابی جانچنے کے لیے گٹر کے پانی کے نمونوں کو جانچا جانا بنیادی طریقہ کار ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں 2 سال بعد نیا پولیو کیس سامنے آگیا

بڑی تعداد میں لوگوں کے ایک شہر سے دوسرے شہر آنے جانے پر پولیو کیس کسی بھی شہر سے سامنے آسکتا ہے تاہم اس وائرس کی سیویج میں موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ علاقے میں پولیو مہم اپنا ہدف حاصل نہیں کرسکی ہے۔

وائرس کی سیویج کے پانی میں موجودگی سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مقامی بچوں کی قوت مدافعت کم ہوگئی ہے اور انہیں اس بیماری کا خطرہ ہے۔

اس خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں پولیو اریڈیکیشن پروگرام نے والدین سے گزارش کی ہے کہ وہ یقین دہانی کریں کہ ان کے بچوں کو پولیو مہم کے دوران قطرے پلائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی انسداد پولیو ورکر نے موسم کی سختی کو بھی شکست دے دی

قومی ہنگامی آپریشن سینٹر کی کو آرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں (والدین اور صحت حکام) مل کر اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ سیویج کے پانی میں پائے گئے اس خطرناک وائرس کے بچوں غیر محفوظ بچوں میں منتقل ہونے سے قبل انہیں پولیو کے بار بار قطرے پلائے جائیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سردیوں کا موسم پولیو کے خلاف سب سے بہتر موسم ہوتا ہے، وقت کم ہے اور ہمارے پاس صرف 8 ہفتے ہیں اس موسم سے فائدہ اٹھانے کے، پروگرام کے تحت ہمیں ان بچوں کو دیکھنا ہے جو کسی وجہ سے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں اور یہ کام اس وقت تک کرنا ہے جب تک یہ وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا‘۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 17 فروری 2019 کو شائع ہوئی