ڈاکٹر صمد کی گرفتاری پر چیئرمین نیب سے ٹیم کی ملاقات

اپ ڈیٹ 20 فروری 2019

ای میل

چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ کسی بھی مقدمے میں کسی بھی فرد کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے— فائل فوٹو: اے پی پی
چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ کسی بھی مقدمے میں کسی بھی فرد کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے— فائل فوٹو: اے پی پی

قومی احتساب بیورو(نیب) خیبر پختونخوا کی ٹیم نے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر کی گرفتاری کے سلسلے میں نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے ملاقات کر کے سرکاری افسر کے خلاف تحقیقات کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

نیب نے غیرقانونی تعیناتیوں کے الزام میں محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد کو دو دن قبل گرفتار کیا تھا البتہ وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری کو شرمناک قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثے: اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی گرفتار

اس تنقید کے بعد نیب چیئرمین نے صوبائی احتساب بیورو کو ہدایت کی تھی کہ انہیں پیر کو ان کے سامنے پیش کیا جائے لیکن نیب کی ٹیم نے انہیں اسلام آباد نہیں پہنچایا۔

نیب نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر کے خلاف جمع کیے گئے ثبوت نیب چیئرمین کے سامنے پیش کیے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ نیب چیئرمین کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے اینٹی کرپشن بیورو نے بھی اس معاملے کو اٹھا لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثے: نیب نے صوبائی وزیر علیم خان کو گرفتار کرلیا

چیئرمین نیب نے مزید ثبوت جمع کرنے کے حوالے سے ٹیم کی رہنمائی کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ تمام قوانین و ضوابط کا جائزہ لینے کے بعد میرٹ پر تحقیقات مکمل کریں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے یہ بھی ہدایت کی کہ کسی بھی فرد کی کسی بھی مقدمے میں عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے۔

انہوں نے مقدمے کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ اپنے صدر دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورہ خیبر پختونخوا کے موقع پر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے جہاں ڈاکٹر عدالصمد کو مقدمے کی سماعت کی پیشکش بھی کی جائے گی۔