پاک-بھارت کشیدگی پر ہمیں تکلیف ہوتی ہے، سعودی وزیرخارجہ

اپ ڈیٹ 20 فروری 2019

ای میل

عادل الجبیر نے دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی قربانیوں کو بھارت میں بھی دہرایا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
عادل الجبیر نے دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی قربانیوں کو بھارت میں بھی دہرایا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے پاکستان اور بھارت کو خطے میں اپنے دوست ممالک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع دیکھ کر ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔

بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں عادل الجبیر نے کہا کہ ‘سعودی عرب کے لیے پاکستان ایک اہم ملک ہے اور بھارت بھی اور دونوں ممالک کے درمیان تنازع دیکھ کر ہمیں تکلیف ہوتی ہے، ہمارا ماننا ہے کہ اس خطے میں عدم استحکام دیگر دنیا کے لیے خطرہ ہے’

ان کا کہنا تھا کہ ‘دونوں ممالک سے ہمارے بڑے مفادات ہیں اور ہمارا مانناہے کہ مستقبل کی بنیاد تجارت اور سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، دہشت گردی کے خاتمے اور استحکام کے لیے تعاون پر ہے’۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ‘ہم دونوں ممالک کے درمیان کسی مسئلے پر کودنا نہیں چاہتے اور سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک آپس میں معاملات طے کریں، اگر سعودی عرب کو کوئی کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تو ہم اس پر سوچیں گے کیونکہ دونوں ممالک ہمارے لیے اہم ہیں’۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے بعد جاری ہونے والے پاک-سعودیہ مشترکہ اعلامیے پر بھارتی میزبان نے کہا کہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ اس حوالے سے بھارت میں مایوسی پائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کی بھارت کو مذاکرات کی دعوت سمیت کرتار پور راہداری کھولنے کے اقدام کی تعریف کی گئی تھی۔

اعلامیے میں قرار دیا گیا تھا کہ ‘دونوں ممالک نے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات واحد راستہ ہے’۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر میں مسلمانوں پر مظالم کی مذمت کرتے ہیں، پاک-سعودی مشترکہ اعلامیہ

پاکستان اور سعودی عرب نے مشترکہ اعلامیے میں دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کی تھی۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جموں و کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراداوں کے مطابق حل اور کشمیری عوام کی خواہشات سے آگاہ کیا تھا۔

بھارتی چینل کی میزبان کی جانب سے بھارتی الزامات پر پاکستان کے اقدامات کے حوالے سے ایک سوال پر سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ ‘میں نے اس مسئلے کو نہیں دیکھا کیونکہ یہ وزیرخارجہ کے دائرہ کار میں نہیں آتا، ہم سفارت کار ہیں، قانون نافذ کرنے والے یا سیکیورٹی کے افراد نہیں لیکن میں توقع رکھتا ہوں کہ دنیا کے ہر ملک کو دہشت گردوں کا پیچھا کرنے کے لیے سب کچھ کرنا چاہیے’۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے پلوامہ واقعے پر کچھ نہ کہنے سے متعلق سوال پر عادل الجبیر نے کہا کہ ‘ہم ان چند ممالک میں سے ایک تھے جنہوں نے فوری طور پر مذمت کی تھی کیونکہ انسداد دہشت گردی اور معلومات کے تبادلے کے حوالے سے بھارت سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں’۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ ان کے کریڈٹ میں ہے کہ انہوں نے قبائلی علاقوں میں کام کیا ہے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف لڑائی میں انہوں نے بڑی تعداد میں اپنے فوجیوں کو کھو دیا ہے اور انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بڑی قربانیاں دیں’۔

یہ بھی پڑھیں:کشمیر میں ریموٹ کنٹرول دھماکا، 44 بھارتی فوجی ہلاک

پلوامہ واقعے پر بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد پر سعودی عرب کے اطمینان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میرے خیال میں ہم اس معاملے پر بھارت سے مذاکرات کررہے ہیں اور عالمی برادری کے دیگر اراکین سے بھی بات ہو رہی ہے’۔

بھارت اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کے حوالے سے عادل الجبیر نے کہا کہ ‘ہم مشترکہ مشقوں، بحری مشقوں، دفاعی پیداوار، بحیرہ ہند میں سیکیورٹی اور فوجوں کے درمیان تعلقات اور اسٹریٹجک معاملات کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں’۔

خیال رہے کہ سعودی ولی عہد جنوبی ایشیا کے دورے کے پہلے مرحلے میں پاکستان آئے تھے اور دو روزہ دورے میں پاکستان کے ساتھ کئی مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔

پاکستان کے دورے کے بعد محمد بن سلمان دو روزہ دورے پر کل 19 فروری کو بھارت پہنچے تھے جہاں ان کے ہمراہ وزیرخارجہ عادل الجبیر اور دیگر بھی شامل تھے۔