جنگ کا سامنا کرنا اسٹوڈیو میں تماشہ لگانے سے بالکل مختلف ہے

اپ ڈیٹ 01 مارچ 2019

ای میل

رنگا رنگ اسٹوڈیوز میں جنگ کا طبل بجانے والے ٹی وی اینکرز، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ جنگجوؤں یا جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں جنگ کے دوران ایک گولی چلتے نہیں دیکھی، ایسے جنگی جنونیوں کو کنگ فو کی آوازیں نکالتے دیکھ کر جی شدید جھنجھلاہٹ ہونے لگی ہے۔

گھر پر بیٹھے ایسے تمام جنگجوؤں کو ایک ہفتہ بارڈر پر گزارنے پر مجبور کیا جانا چاہیے اور اس کے بعد ہی انہیں اپنی اپنی قیادتوں کو جنگ کے لیے اکسانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

وزیرِاعظم عمران خان کی جانب سے حملے اور جوابی حملے کے بے قابو ہوتے خطرات سے متعلق ہر ایک کو خبردار کرنا بالکل ٹھیک عمل ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے خود یہ الفاظ استعمال نہیں کیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک جو گیم کھیل رہے ہیں یہ دونوں ہی ایٹمی قوت ہیں، لہٰذا اس مسئلے پر سب کو ہی سنجیدگی دکھانی ہوگی.

وزیرِاعظم کی جانب سے جنگی حالات کی طرف نہ جانے اور بات چیت کی دعوت کا فیصلہ دراصل اس پورے ماحول کو بالغ سوچ کے ساتھ ختم کرنے کی ایک دعوت ہے۔ جسے قبول کرنا چاہیے۔

ہم جنگی حالات کی طرف گئے تو صورتحال مزید عدم استحکام کا شکار ہوجائے گی اور اس کھیل سے نکلنا مشکل ہوجائے گا۔ خیبرپختونخوا میں موجود پہاڑی چوٹی پر حملہ کرکے ہندوستانیوں نے یہ پیغام دیا کہ وہ پاکستان کے اندر اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگلی بار اس سے بھی زیادہ اہم ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

تاہم پاکستان نے ہندوستان کی سرزمین پر بالکل اسی طرح حملہ کرکے 24 گھنٹوں کے اندر اندر بڑے واضح انداز میں اسکور برابر کردیا۔ دہلی سے تعلق رکھنے والے اکیڈمک اور اس پورے بحران کے دوران تحمل پر زور دینے والی چند دانا آوازوں میں سے ایک ہیپی مون جیکب نے ٹوئیٹ کیا کہ ’پہلا راؤنڈ ختم ہوا جو میرے خیال میں اتنا اچھا نہیں رہا۔ راؤنڈ ٹُو کھیلا جائے یا برابر اسکور کے ساتھ کھیل ختم کردیا جائے؟!‘

دونوں ملکوں نے اپنا نکتہ واضح کردیا ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کی سرزمین پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے یہ سوچ کر اکھاڑے میں پہل کی کہ وہ پاکستان کے خلاف سبق آموز کارروائی کی گنجائش نکال لیں گے اور ان کے پاس ملک کے اندر اپنے حلقہ اقتدار کو بتانے کے لیے تھوڑا بہت مواد بھی حاصل ہوجائے گا مگر افسوس کے ساتھ ایسی کوئی گنجائش نہ مل سکی۔ اب ان کے پاس ایک ہی چوائس ہے۔ یا تو دوبارہ اکھاڑے میں اترنے کی تیاری شروع کردیں یا پھر مزید لڑائی سے منع کردیں۔ راؤنڈ ٹُو یا پھر کھیل کا اختتام۔

کشیدگی کے راستے پر گامزن رہنے کا مطلب ہے اپنی صلاحیت کے مظاہرے سے آگے جا کر کچھ اور ثابت کرنا۔ اب مودی کو یہ ظاہر کرنے کی ضرورت پڑے گی کہ وہ یہ صلاحیت پاکستان کو ردِعمل سے باز رکھنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں اور انہیں یہ کام کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے بغیر انجام دینا ہوگا۔

یہاں وزیرِاعظم عمران خان کی جانب سے ممکنہ غلط اندازوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ صورتحال میں جتنی زیادہ کشیدگی بڑھے گی، بات فضائی حملوں، لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے بڑھ جائے گی اور زیادہ غلط اندازوں، یا غلطی، یا ذہن و گمان سے باہر مختلف نتائج کی گنجائش بڑھے گی جس کے باعث صورتحال نازک ترین مرحلے میں داخل ہوتی جائے گی۔ پھر جتنی زیادہ شدت کے راستے پر گامزن ہوا جائے گا اتنا ہی زیادہ غیر یقینی کی صورتحال کی نہج پر پہنچنا قریب سے قریب تر ہوتا چلا جائے گا۔

جہاں مودی کے لیے گھر لانے کے لیے کچھ بھی موجود نہیں ہوگا۔ گھر لانے کو نہ کوئی تحفہ ہوگا اور نہ کوئی ٹرافی۔ لڑائی کے اس کھیل میں جتنی زیادہ شدت کے ساتھ اترا جائے گا اتنی ہی زیادہ ہاری ہوئی ساکھ کے ساتھ واپس لوٹنا پڑے گا اور مودی اپنی بطور طاقتور ساکھ کا نقصان کسی طور پر برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ ان کے پاس اس کھیل میں صرف ایک یہی چیز ہے۔

میڈیا میں موجود بدلہ لو! بدلہ لو! کی رٹ لگاتے سپراسٹارز کو ٹھنڈے دماغ سے کام لینا چاہیے اور سب سے پہلے یہ غور و فکر کرنا چاہیے کہ وہ خود کس حد تک جنگ میں شرکت کے لیے تیار ہیں؟ (یہاں یہ بات بھی تسلیم کی جائے کہ بھارت میں پاکستان کے مقابلے جنگی جنون انتہا پر ہے۔) جنگ کوئی ویڈیو گیم نہیں اور نہ ہی جوہری ہتھیار کھلونے ہیں۔ یہ بات بالغ خواتین و حضرات کو سمجھاتے ہوئے تھوڑی شرمساری بھی ہو رہی ہے لیکن جو صورتحال ہمارے سامنے ہے اسے دیکھ کر بدقسمتی کے ساتھ یہ سمجھانا اب ضروری ہوگیا ہے۔

اس مثال کو ہی لیجیے۔ جس دن بھارت نے خیبرپختونخوا کی ایک پہاڑی چوٹی پر حملے کیے تو بھارت کے ایک عمر رسیدہ، نامور صحافی نے ٹوئیٹ کیا کہ، ’یہ بدلہ نہیں ہے۔ یہ خطرہ ٹالنے کے ارادے سے کی گئی کارروائی تھی۔ میرا ماننا ہے کہ خطرہ ٹالنے کی دفاعی صلاحیت کو اس قدر بڑھایا جائے کہ روایتی کارروائی ناقابلِ تصور ہوجائے۔ اس قسم کے عدم توازن نے ایک نیا روایتی خطرہ ٹالنے کی دفاعی حکمت عملی کو جنم دیا جس میں ہمارے معاملے کے محدود سیاق و سباق میں جوہری ہتھیاروں کی اہمیت زیادہ نہیں رہی۔‘

میں ان سے ان کی قابلیت اور ہمارے پیشے میں اچھے خاصے تجربے کا احترام کرتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ بے معنی بات ہے۔ جوہری ہتھیار کبھی بھی کسی ایسے سیاق و سباق میں غیر اہم نہیں ہوں گے جس میں ان کی موجودگی ہو۔ اگر کسی کو اس بات کا احساس نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ جوہری ہتھیار ہوتے کیا ہیں۔

ہرمن کہن (Herman Kahn) کے قول کو مدِنظر رکھیں 'جو کبھی پہلے سوچا نہ گیا' ہو کرنے کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب جنگ کی سختیوں کو بھلا دیا جاتا ہے اور وہ لوگ اپنے درمیان جنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہوں نے کبھی اپنے پیاروں کو جنگ میں مرتے نہ دیکھا ہو.

1950 کی دہائی میں خطرہ ٹالنے کی دفاعی حکمت عملی کے ابتدائی دنوں میں امریکا کے جوہری نظریے کو کچھ عرصے کے لیے حد سے زیادہ عقلمند سویلین ٹیکنوکریٹس کے گروپ نے ایک طرف رکھ دیا اور خود کو طاقت کے طریقہ کار اور جنگ لڑنے کے نظریے پر مباحثے پر مصروف کرکے فوج کو بے انتہا پریشان کردیا۔ انہیں ان دنوں وہز کڈز (whiz kids) کہا جاتا تھا، اور جب کینیڈی نے ان کی ایک بڑی تعداد کو اپنی کابینہ میں شامل کیا تو انہوں نے انتظامیہ کو ویتنام کے اندر ایک تباہ کن جنگ کی طرف مائل کردیا۔ انہی میں سے ایک تھے روبرٹ مک نمارا، اور انہوں نے اس جنگ اور ان وہز کڈز پر گہرے تجزیے کے ساتھ ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ براہ کرم اسے پڑھیے۔

یہاں یہ مطلب نہیں کہ خارجہ پالیسی یا خطرے کا اندازے لگانے کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں سویلین آوازوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن پاکستان جس طرح امن اور تحمل پر زور دیتے ہوئے بیانات جاری کر رہا ہے اور جس طرح جنگی صورتحال کے خطرات اور صورتحال کے بارے میں خبردار کررہا ہے کہ کس طرح یہ پوری صورتحال دونوں ملکوں کی قیادت کے قابو سے باہر نکل جانے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر ردِعمل کی تیاری میں معقول حد تک فوج ہی شامل ہوتی ہے۔

فوجی اہلکار جنگ کو سمجھتے ہیں جسے دھند، کنفیوزن، دکھ اور صدمہ پھیلانے والے ٹی وی اینکرز اور ٹوئیٹر پر موجود ہیش ٹیگ جنگجو سمجھ نہیں سکتے۔

دونوں ملکوں کی قیادت کو کیا کرنا چاہیے یہ بتانے والا میں کون ہوتا ہوں لیکن کم از کم وہ ساتھی جو اسی پیشے سے وابستہ ہیں جس پیشے سے میں وابستہ ہوں ان سے میں یہ بھرپور انداز میں ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ٹھنڈے ہوجائیں اور جنگ کا طبل بجانا بند کریں۔


یہ مضمون 28 فروری 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔